الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
عصر کے بعد دو رکعتوں کا بیان
حدیث نمبر: 2073
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَشُغِلَ عَنْهُمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَكَعَهُمَا فِي بَيْتِي، فَمَا تَرَكَهُمَا حَتَّى مَاتَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ: فَسَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْهُ، قَالَ قَدْ كُنَّا نَفْعَلُهُ ثُمَّ تَرَكْنَاهُ
عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، ایک دن آپ مشغول ہو گئے اور یہ دو رکعتیں ادا نہ کر سکے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھ لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو کرمیر ے گھر میں آئے تو ان کو ادا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو وفات پانے تک تر ک نہیں کیا۔ عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: پھر جب میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم یہ نماز پڑھتے تو تھے، لیکن بعد میں اس کو ترک کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2073]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه۔ أخرجه اسحاق: 1668، 1669، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26062»
وضاحت: فوائد: … یعنی جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کو وہ احادیث موصول ہوئیں، جن میں نماز عصر کے بعد نماز سے مطلق طور پر منع کیا گیا ہے تو انھوں نے ان دو رکعتوں کو ترک کر دیا تھا، بہرحال اثبات کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2074
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ قَالَتْ فَجَاءَتْهُ عِنْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَشُغِلَ فِي قِسْمَتِهِ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّاهَا
عبد اللہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو صدقہ وصول کرکے لیے بھیجا تھا، وہ آپ کے پاس ظہر کے وقت واپس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی اور تقسیم میں مصروف ہوگئے، حتیٰ کہ آپ نے عصر کی نماز پڑھی، پھر وہ دو رکعتیں ادا کیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2074]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 4/ 211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25458»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 4/ 211
حدیث نمبر: 2075
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: صَلَّى مَعَانَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَالْتَفَتَ فَإِذَا أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَدَخَلَ وَدَخَلَ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا مَعَهُ فَأَوْسَعَ لَهُ مُعَاوِيَةُ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَلَسَ مَعَهُ، قَالَ: مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي رَأَيْتُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا وَلَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا؟ قَالَ: ذَٰكَ مَا يُفْتِيهِمُ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَسَلَّمَ فَجَلَسَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ! مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تَأْمُرُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا؟ لَمْ نَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا عِنْدَهَا فِي بَيْتِهَا، قَالَ: فَأَمَرَنِي مُعَاوِيَةُ وَرَجُلًا آخَرَ أَنْ نَأْتِيَ عَائِشَةَ فَنَسْأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا أَخْبَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَنْهَا، فَقَالَتْ: لَمْ يَحْفَظِ ابْنُ الزُّبَيْرِ، إِنَّمَا حَدَّثْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى هَٰتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي، فَسَأَلْتُهُ، قُلْتُ: إِنَّكَ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهِمَا؟ قَالَ: ( (إِنَّهُ كَانَ أَتَانِي شَيْءٌ فَشُغِلْتُ فِي قِسْمَتِهِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَأَتَانِي بِلَالٌ فَنَادَانِي بِالصَّلَاةِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَحْبِسَ النَّاسَ فَصَلَّيْتُهُمَا) ) ، قَالَ فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا؟ فَلَا أَدَعُهُمَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: لَا تَزَالُ مُخَالِفًا أَبَدًا (وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّكَ لَمُخَالِفٌ، لَا تَزَالُ تُحِبُّ الْخِلَافَ مَا بَقِيتَ)
عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی، جب مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگ عصر کے بعد نماز پڑھ رہے تھے، وہ گھر چلے گئے اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس چلے گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے چار پائی پر جگہ بنائی اور وہ ان کے ساتھ بیٹھ گئے، انھوں نے پوچھا: یہ کون سی نماز ہے، جومیں نے لوگوں کو ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، حالانکہ نہ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور نہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی حکم دیا؟ انہوں نے کہا: لوگوں کو اس کا فتوی دینے والے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر ان کو بلایا گیا اور وہ آ گئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن زبیر! اس نماز کی کیا حقیقت ہے، جس کے پڑھنے کا آپ لوگوں کو حکم دیتے ہیں؟ ہم نے تو نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا کوئی حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے گھر میں ان کے پاس یہ نماز پڑھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے اور ایک اور آدمی کو حکم دیا کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاکر ان سے اس کے بارے میں دریافت کریں، پس میں سیدہ کے پاس پہنچا اور ان سے اس کے بارے میں پوچھا اور ان کے حوالے جو بات سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے، وہ ان کو بتادی،، وہ کہنے لگیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے یاد نہیں رکھا، میں نے تو انہیں یہ بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد میرے پاس دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ آج آپ نے یہ دو رکعتیں پڑھی ہیں، پہلے تو نہیں پڑھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس کوئی مال لایا گیا تھا اور میں اسے تقسیم کرنے کی وجہ سے ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے مشغول ہو گیا،اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ میرے پاس آ گئے اور انہوں نے نماز عصر کے لئے مجھے بلالیا، اس وقت میں نے ناپسند سمجھا کہ ان دو رکعتوں کیوجہ سے لوگوں کو روک لوں، اس لیے اب میں نے وہ دو رکعتیں ادا کی ہیں۔ میں نے واپس آکر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ساری بات بتائی، لیکن سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دو رکعتیں پڑھی ہیں، لہٰذا میں تو ان کو نہیں چھوڑوں گا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے: آپ ہمیشہ مخالف ہی رہتے ہیں، جب تک آپ زندہ ہیں، آپ مخالفت کو ہی پسند کرتے رہیں گے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2075]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي، ولضعف شيخه حنظلة السدوسي، وقد اختلف فيه۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26021»
الحكم على الحديث:
ھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي
حدیث نمبر: 2076
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاتَتْهُ رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْعَصْرِ فَصَلَّاهُمَا بَعْدُ
زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عصر سے پہلے والے دو رکعتیں رہ گئیں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عصر کے بعد پڑھا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2076]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وتقدم ھذا الحديث بالفاظ مختلفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27369»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2077
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَيْمُونَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) ثُمَّ أَتْبَعَهُ رَجُلًا آخَرَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُجَهِّزُ بَعْثًا وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ظَهْرٌ، فَجَاءَ ظَهْرٌ مِنَ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَ يُقَسِّمُهُ بَيْنَهُمْ، فَحَبَسُوهُ حَتَّى أَرْهَقَ الْعَصْرَ وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى مَا كَانَ يُصَلِّي قَبْلَهَا، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَوْ فَعَلَ شَيْئًا يُحِبُّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ
عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز پڑھائی اور زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف (ایک آدمی) بھیجا اورپھر اس کے پیچھے ایک اور آدمی بھی بھیج دیا،میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک لشکر تیار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سواریاں نہیں تھیں، لیکن اسی اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقے کی سواریاں لائی گئیں، آپ انہیں صحابہ میں تقسیم کرنے لگے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک دیا، حتیٰ کہ عصر کا وقت ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر سے پہلے دو یا اس سے زائد رکعتیں، جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتیں، پڑھتے تھے، (اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رکعتیں ادا نہ کر سکے تھے) اس لیے جب عصر پڑھ کر واپس آئے تو وہ پہلے والی نماز ادا کی، اصل بات یہ تھی کہ جب آپ کوئی نماز پڑھتے یا کوئی کام کرتے تو اس پر ہمیشگی کرنا پسند فرماتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2077]
تخریج الحدیث: «صلاته صلي الله عليه وآله وسلم ركعتين بعد العصر: صحيح، وقولھا: وكان اذا صلي صلاة، او فعل شيئا،يحب ان يداوم عليه: صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف حنظلة السدوسي۔ أخرجه ابويعلي: 7085، 7111، والطبراني في الكبير: 24/ 69، وفي الاوسط: 931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27376»
وضاحت: فوائد: … دوسرے شواہد کی بنا پر اس حدیث میں سے دو امور قابل حجت ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کرنا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی نماز پڑھتے یا کوئی اور کام شروع کرتے تو اس پر دوام کرنا پسند فرماتے تھے۔ کچھ صفحات پہلے اِس عنوان نفل نماز کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ یہ فرض نماز میں ہو جانے والی کمی پوری کرتی ہے مین یہ بات گزر چکی ہے کہ امام شوکانی کی جمع و تطبیق کے مطابق عصر سے پہلے والی دو سنتیں بھی سننِ رواتب میں داخل ہیں، اس لیے جیسے فجر اور ظہر سے پہلے والی سنتیں رہ جائیں اور بعد میں ان کو ادا کیا جاتا ہے، اسی طرح عصر کا مسئلہ ہو گا۔
الحكم على الحديث:
صلاته صلي الله عليه وآله وسلم ركعتين بعد العصر: صحيح