الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا رُوِيَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث¤جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
حدیث نمبر: 2144
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي افْتَتَحَ الصَّلَاةَ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو اٹھ کر نماز پڑھتے تو ہلکی پھلکی دو رکعتوں سے اپنے قیام کا آغاز کرتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2144]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 767، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24518»
وضاحت: فوائد: … یہ دو رکعتیں قیام اللیل کی تمہید ہیں، ان سے نمازی قیام کے لیے مستعد اور نشیط ہو جاتا ہے، درج ذیل حدیث ِ مبارکہ میں اس انداز میں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے: سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ یُصَلِّیْ بِاللَّیْلِ فَلْیَبْدَ أْ بِرَکْعَتَیْنِ خَفِیَفَتَیْنِ۔)) جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو نماز پڑھنے لگے تو وہ ہلکی پھلکی دو رکعتوں سے اپنے قیام کی ابتدا کرے۔ (مسلم: ۷۶۸)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 767
حدیث نمبر: 2145
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ اثْنَتَيْنِ وَيُوْتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ فِي سُبْحَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ بِخَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُوْلَى مِنْ أَذَانِهِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيَخْرُجُ مَعَهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ عشاء سے نمازِ فجر تک کل گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعتوں میں سلام پھیرتے اور ایک وتر پڑھتے تھے، اس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ایک سجدہ پچاس پچاس آیتوں کے برابر ہوتا، جب مؤذن پہلی اذان سے فارغ ہوتا تو آپ اٹھ کر ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھتے اور پھر اپنی دائیں جانب پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مؤذن آ جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ مسجد میں تشریف لے جاتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2145]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1336، 1337، والنسائي: 2/30، وابن ماجه: 1177، 1358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24965»
وضاحت: فوائد: … اس سے اذان مراد ہے۔ حدیث میں اقامت کو بھی اذان کہا گیا ہے اور وہ بعد میں ہوتی ہے گویا وہ دوسری اذان ہے تو اس جگہ اقامت نہیں اذان مراد ہے جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو رکعت ادا کرتے تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1336
حدیث نمبر: 2146
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَيُوْتِرُ بِالْتَاسِعَةِ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ وَذَكَرَتِ الْوُضُوءَ أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ إِلَى صَلَاتِهِ فَيَأْمُرُ بِطَهُورِهِ وَسِوَاكِهِ فَلَمَّا بَدَّنَ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِالسَّابِعَةِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، قَالَتْ: فَلَمْ يَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قُبِضَ، قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنِ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ؟ قَالَتْ: فَلَا تَفْعَلْ، أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً} فَلَا تَبَتَّلْ، قَالَ فَخَرَجَ وَقَدْ فَقُهَ فَقَدِمَ الْبَصْرَةَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ إِلَى أَرْضِ مَكْرَانَ فَقُتِلَ هُنَالكَ عَلَى أَفْضَلِ عَمَلِهِ
سعد بن ہشام سے روایت ہے، وہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو آٹھ رکعت نماز پڑھتے، نواں یعنی ایک رکعت وتر ادا کرتے اور اس کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھرسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضو کا ذکر کیا،رات کو نماز کے لیے اٹھنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کے پانی اور مسواک کا اہتمام کر دینے کا حکم دیتے تھے،، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمر رسیدہ ہوگئے تو چھ رکعتیں ادا کرتے، ساتواں وتر پڑھتے اور دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی روٹین پر برقرار رہے کہ وفات پا گئے۔ سعد بن ہشام نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں آپ سے (عبادت میں مشغول ہونے کے لیے) شادی نہ کرنے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: ایسے نہیں کرنا، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑھا: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ أَزَوَاجًا وَّذُرِّیَّۃً} (اور یقینا ہم نے آپ سے پہلے کئی رسول بھیجے ہیں اور ہم نے ان کے لئے بیویاں اور اولادیں بنائیں)، لہٰذا تبتّل نہیں کرنا۔ اس طرح سعد بن ہشام فقیہ بن گئے اور پھر بصرہ روانہ ہو گئے، لیکن کچھ دن ہی ٹھہرے تھے کہ پھر مکران کے علاقہ کی طرف گئے اور وہاں اپنے سب سے بہتر عمل پر شہید ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2146]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي مختصرا: 3/ 242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25165»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی لوگوں کو چاہیے کہ وہ رات کو وضو کے پانی اور مسواک وغیرہ کااہتمام کر کے سوئیں، مسواک کی اہمیت کا اندازہ لگانا چاہیے، وضو تو نماز کی شرط ہے، چونکہ اس آیت سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ انبیاء و رسل نے شادیاں کیں، بلکہ کئی ہستیوں کی ایک سے زائد بیویاں تھیں، پھر ان کی اولادیں ہوئیں، جبکہ وہ سب سے بڑھ کر عبادت کرنے والے بھی تھے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کی رہنمائی کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کی ہے، اس طرح سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے استدلال کر کے سعد بن ہشام کو مسئلہ سمجھا اور کیا خوب استدلال کیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ سیدہ نے کس گہرے فہم سے قرآن مجید کا مطالعہ کیا ہوا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي مختصرا: 3/ 242
حدیث نمبر: 2147
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ، ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ نَامَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ قَالَتْ: وَثَبَ، وَلَا وَاللَّهِ! مَا قَالَتْ قَامَ، فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَلَا وَاللَّهِ! مَا قَالَتْ اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا تُرِيدُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ
ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے اسود بن یزید سے اس چیز کے بارے میں پوچھا، جو انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے حوالے سے بیان کی تھی، انھوں نے جواب دیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا: آپ رات کے ابتدائی حصہ میں سوتے اور اس کے آخر میں جاگتے تھے، پھر اگر آپ ہم بستری کی ضرورت محسوس کرتے تو حق زوجیت ادا کر کے سو جاتے، جبکہ پانی کو چھوا تک نہ ہوتا، جب پہلی اذان ہوتی تو یوں سمجھیں کہ اچھل پڑھتے، اپنے اوپر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو عام نماز والا وضو کرتے اور پھر دو رکعتیں ادا کرتے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ نے یہ نہیں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے اور غسل کرتے، جبکہ مجھے علم تھا کہ آپ رضی اللہ عنہا کیا کہنا چاہتی ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2147]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البخاري:،مسلم: 739 دون لفظة: قبل ان يمس مائ، واخرجه ھذه اللفظ ابوداود، والنسائي وابن ماجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25213»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البخاري:
حدیث نمبر: 2148
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: كَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ فَصَلَّى
مسروق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آواز دینے والے مرغے کو سنتے تو اٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2148]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1132، ومسلم: 741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25299»
وضاحت: فوائد: … عام طور پر مرغے نصف رات یا آخری ایک تہائییا آخری چھٹے حصے میں آواز نکالتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1132
حدیث نمبر: 2149
عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَنَامُ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ وَضُوءُهُ مُغَطًّى وَسِوَاكُهُ، اسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَقَامَ فَصَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ الْقُرْآنِ، فَلَا يَقْعُدُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، فَإِنَّهُ يَقْعُدُ فِيهَا فَيَتَشَهَّدُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ، فَيُصَلِّي رَكْعَةً وَاحِدَةً ثُمَّ يَجْلِسُ فَيَتَشَهَّدُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً ( (السَّلَامُ عَلَيْكُمْ) ) يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى يُوقِظَنَا، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَهُوَ جَالِسٌ فَيَقْرَأُ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَيُصَلِّي جَالِسًا رَكْعَتَيْنِ، فَهَٰذِهِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، فَلَمَّا كَثُرَ لَحْمُهُ وَثَقُلَ جَعَلَ التِّسْعَ سَبْعًا لَا يَقْعُدُ إِلَّا كَمَا يَقْعُدُ فِي الْأُوْلَى وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَاعِدًا، فَكَانَتْ هَٰذِهِ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ
زرارۃ بن اوفی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: آپ عشاء کی نماز پڑھتے، پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے اور سوجاتے، رات کو جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوتے اور آپ کے پاس وضو کا ڈھکا ہوا پانی اور مسواک پڑی ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کر کے وضو کرتے اورآٹھ رکعت ادا کرتے، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ اتنی قراءت کرتے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تمام رکعتیں اکٹھی ادا کرتے اور آٹھویں کے بعد بیٹھ جاتے، تشہد پڑھتے، پھر سلام پھیرے بغیر نویں رکعت کے لیے کھڑے ہو جاتے اور ایک رکعت پڑھ کر تشہد میں بیٹھ جاتے، تشہد پڑھتے اور دعائیں کرتے، پھر السلام علیکم کہہ کر ایک سلام پھیرتے اور آواز کو اتنا بلند کرتے حتیٰ کہ ہمیں جگا دیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے بیٹھے تکبیر تحریمہ کہہ کر قراءت شروع کر دیتے اور بیٹھ کر ہی دو رکعت ادا کرتے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گیارہ رکعت نماز ہوتی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گوشت زیادہ ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھاری ہوگئے تو آپ نے نو کے بجائے سات رکعت قیام کیا، ان کو بھی لگاتار ادا کرتے اور پہلے طریقے کی طرح (چھ رکعت کے بعد) تشہد میں بیٹھتے تھے، پھر بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہی نماز جاری رہی،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2149]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1346، 1347، والنسائي: 3/ 60، 199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24269، 25987 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26514»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے نمازِ وتر کی سات اور نو رکعتیں ثابت ہوئیں، نیزیہ بھی ثابت ہوا کہ ان میں ایک سلام پھیرنا بھی درست ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1346
حدیث نمبر: 2150
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَائِمًا يَرْفَعُ صَوْتَهُ كَأَنَّهُ يُوقِظُنَا بَلْ يُوقِظُنَا، ثُمَّ يَدْعُو بِدُعَاءٍ يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ
۔ (دوسری سند)سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کیسے تھی؟ انہوں نے کہا: آپ عشاء کی نماز پڑھتے، پھر پہلے کی طرح حدیث ذکر کی، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھتے اور اس میں اپنی آواز کو بلند رکھتے، ایسے لگتا تھا کہ آپ ہمیں بیدار کر رہے ہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں بیدار کردیتے تھے، پھر آپ دعا کرتے اور ہم سن رہے ہوتے اور پھر بلند آواز سے ایک سلام پھیرتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2150]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه مختصرا ابوداود: 56، 1349، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26515»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه مختصرا ابوداود: 56
حدیث نمبر: 2151
عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً
علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازکیسی تھی؟ انھوں نے کہا: تم سے کون اس چیز کی استطاعت رکھتا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل تھی، [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2151]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6466، ومسلم: 783، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24663»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6466
حدیث نمبر: 2152
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُهُ كَانَ يُفَضِّلُ لَيْلَةً عَلَى لَيْلَةٍ
۔ (دوسری سند) ابراہیم کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ کسی ایک رات کو کسی دوسری رات پر فضیلت دیتے ہوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2152]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابراهيم بن يزيد النخعي لم يسمع من عائشة، ورواية مغيرة عنه ضعيفة۔ أخرجه ابن راھويه في مسنده: 1637، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25468»
وضاحت: فوائد: … دوسری سند والی روایت ضعیف ہے، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کییہ حدیث اس کا شاہد بن جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیررمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ قیام نہیں کرتے تھے۔ (بخاری: ۱۱۴۷، ۲۰۱۳، مسلم: ۷۳۸) یعنی زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام گیارہ رکعت رہا۔ رہا مسئلہ قیام کی کیفیت کا، تو اس میں تبدیلی آ تی رہتی تھی، بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طویل قیام کرتے اور کبھی کبھار زیادہ لمبا نہیں کرتے تھے، البتہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اس معاملے میں سب سے زیادہ محنت کرتے تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 2153
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَإِذَا فَرَغَ مِنَ صَلَاتِهِ اضْطَجَعَ، فَإِنْ كُنْتُ يَقْظَانَةً تَحَدَّثَ مَعِي وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً نَامَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کونماز پڑھتے تھے، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو لیٹ جاتے، لیکن اگر میں جاگ رہی ہوتی تو میرے ساتھ باتیں کرتے اور اگر میں سوئی ہوئی ہوتی تو آپ بھی سوجاتے، یہاں تک کہ مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آجاتا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2153]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1161، 1168، ومسلم: 743، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24573»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1161