🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي الْوِتْرِ بِثَلَاثٍ
تین رکعت نمازِ وترکا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2206
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَيُوْتِرُ بِثَلَاثٍ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ) فَلَمَّا كَبِرَ صَارَ إِلَى تِسْعٍ، سِتٍّ وَثَلَاثٍ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کوآٹھ رکعت نماز اور تین وتر پڑھتے، اس کے بعد فجر والی دو سنتیں پڑھتے، پھرجب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمر رسیدہ ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز نو رکعت ہو گئی،یعنی چھ رکعت اورتین وتر۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2206]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي: 457، والنسائي: 3/ 237 عن ابن عباس عن ام سلمة، والنسائي عنه عن عائشة ايضا: 3/ 238، وأخرجه ابن ماجه عن ابن عباس وابن عمر: 1361، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2714»

الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه الترمذي: 457
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2207
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوْتِرُ بِثَلَاثٍ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین وتر پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2207]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف الحارث الاعور۔ أخرجه الترمذي: 460، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 685»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2208
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین وتر ادا کیے اور ان میں سورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2208]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 462، وابن ماجه: 1172، والنسائي: 3/ 236، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2720»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا ظاہری سا مفہوم تو یہی بنتا ہے کہ تین وتر اکٹھے ادا کیے گئے، بہرحال بعض صحابہ سے یہ ثابت ہے کہ وہ ایک درمیانے تشہد کے بغیر ایک سلام کے ساتھ تین رکعت نمازِ وتر ادا کرتے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ درج ذیل حدیث بھی قابل غور ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین وترنہ پڑھو، پانچ یا سات وتر پڑھو (اور تین پڑھ کر) مغرب کی مشابہت نہ کرو۔ (دارقطنی: ۲/۲۴، بیہقی: ۳/۳۱، شرح معانی الآثار: ۱/۲۹۲) کون سا انداز اختیار کیا جائے کہ تین رکعت وتروں کی نمازِ مغرب کے ساتھ کوئی مشابہت نہ رہے؟ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں کہا ہے کہ جب تین وتروں کو درمیانے تشہد کے بغیر لگاتار ادا کیا جائے تو مغرب سے مشابہت ختم ہو جائے گی اور اگر آنے والے تیسرے باب میں بیان کردہ صورت اختیار کر لی جائے کہ تین وتر نماز کو دوسلاموں کے ساتھ ادا کیا جائے، تو مشابہت کا شبہ باقی نہیں رہتا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 462
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں