🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي الْوِتْرِ بِخَمْسٍ
پانچ رکعت نمازِ وترکا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2209
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوْتِرُ بِخَمْسٍ وَلَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ فَيُسَلِّمُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کوتیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، ان میں پانچ رکعت نمازِ وتر ہوتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ پانچ رکعتیں اکٹھی ادا کرتے) اور پانچویں کے بعد تشہد کے لیے بیٹھتے اور پھر سلام پھیرتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2209]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1170، ومسلم: 737، ورواية البخاري دون ذكر صلاة الوتر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24239، 25447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24743»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1170
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2210
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ، إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ، سِتٌّ مِنْهَا مَثْنَى مَثْنَى وَيُوْتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ
۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو تیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، ان میں وہ دو سنتیں بھی شامل ہوتیں، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طلوعِ فجر کے بعد اور نمازِ فجر سے پہلے پڑھتے تھے، اس طرح رات کی کل گیارہ رکعتیں رہ گئیں، ان میں سے چھ رکعتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو کر کے ادا کرتے اور پانچ وتر اس طرح ادا کرتے کہ (درمیانے تشہد کے لیے) بیٹھتے نہیں تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2210]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح- أخرجه ابوداود: 1359، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26890»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح- أخرجه ابوداود: 1359
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2211
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ بِسَبْعٍ وَبِخَمْسٍ لَا يُفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِسَلَامٍ وَلَا بِكَلَامٍ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سات اور پانچ وتر پڑھتے تھے اوران میں سلام یا کلام کے ساتھ فاصلہ نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2211]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، مِقسم لم يسمع من ام سلمة- أخرجه النسائي: 3/ 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27019»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ پانچ رکعت وتر ادا کرنا مسنون عمل ہے، جبکہ ان رکعات کو ایک سلام کے ساتھ اور درمیانے تشہد کے بغیر ادا کیا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2212
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ بِتِسْعٍ حَتَّى إِذَا بَدُنَ وَكَثُرَ لَحْمُهُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَقَرَأَ بِـ{إِذَا زُلْزِلَتْ} وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ}
سیدنا ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو(۹) وتر پڑھا کرتے تھے، لیکن جب آپ موٹے ہوگئے اور آپ کا گوشت زیادہ ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سات وتر پڑھتے تھے اور (وتروں کے بعد) بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، ان میں سورۂ زلزال اور سورۂ کافرون کی تلاوت کرتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2212]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، دون تعيين قراء ة النبي صلي الله عليه وآله وسلم في الركعتين بعد الوتر۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 290، والبيھقي: 3/ 33، والطبراني في الكبير: 8064، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22669»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2213
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَلَمَّا ضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو رکعت وتر ادا کرتے اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے، جب آپ ضعیف ہوگئے تو سات وتر پڑھتے اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2213]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1343، والنسائي: 3/ 242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24269، 25346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25860»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1343
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2214
وَعَنْهَا أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ، لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو رکعت نماز پڑھتے،اور ان میں آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے، اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر کھڑے ہو جاتے اور سلام نہ پھیرتے، اس طرح نوویں رکعت ادا کرتے اور پھر بیٹھ جاتے اور اللہ تعالی ٰکی تعریف، اس کا ذکر اور اس سے دعا کرتے اور پھر اس طرح سلام پھیرتے کہ ہم سن رہے ہوتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2214]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 746، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25861»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 746
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2215
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ؟ قَالَتْ: بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ، وَعَشْرَةٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوْتِرُ بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَلَا أَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَكَانَ لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْنِ
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنے وتر پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: چار اور تین، چھ اور تین، دس اورتین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرہ سے زیادہ اور سات سے کم وتر نہیں پڑھتے تھے اور آپ (فجر سے پہلے) دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2215]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 1362، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25674»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 1362
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2216
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ وَهُوَ جَالِسٌ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2216]
تخریج الحدیث: «صحيح من حديث عائشة، وھذا اسناد ضعيف، ميمون بن موسي مدلس وقد عنعن، ثم انه اختلف علي الحسن۔ أخرجه الترمذي: 471، وابن ماجه: 1195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27088»
وضاحت: فوائد: … ایک سلام کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نو وتر ثابت ہیں۔ جب کوئی نمازی ایک سلام کے ساتھ سات یا نو وتر ادا کرے گا تو وہ چھ اور آٹھ رکعات کے بعد درمیانہ تشہد بیٹھے گا، پھر ساتویںیا نویں رکعت ادا کرے گا۔ ہم نے ان ابواب کے شروع میں ان تمام امور کا دلائل کے ساتھ خلاصہ پیش کر دیا تھا۔

الحكم على الحديث:
صحيح من حديث عائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2217
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُفْصِلُ بَيْنَ الْوِتْرِ وَالشَّفْعِ بِتَسْلِيمَةٍ وَيُسْمِعُنَا إِيَّاهَا
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تین) وتروں میں ایک اور دو رکعتوں کے درمیان ایک دفعہ سلام کے ساتھ فاصلہ کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں یہ سلام سناتے بھی تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2217]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابن حبان: 2433، 2435، والطبراني في الاوسط: 757، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5461»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابن حبان: 2433
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2218
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْحُجْرَةِ وَأَنَا فِي الْبَيْتِ فَيُفْصِلُ بَيْنَ الشَّفْعِ وَالْوِتْرِ بِتَسْلِيمٍ يُسْمِعُنَاهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرے میں نماز پڑھتے اور میں گھر میں ہوتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کی دو اور ایک رکعت میں فاصلہ کرنے کے لیے سلام پھیرتے تو آپ ہمیں وہ سلام سناتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2218]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد منقطع، عمر بن عبد العزيز لم يدرك عائشة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25046»
وضاحت: فوائد: … یہ بھی تین رکعت نماز وتر کا ایک طریقہ ہے کہ دو رکعات کے بعد سلام پھیر کر تیسری رکعت علیحدہ پڑھی جائے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وتر کی دو اور ایک رکعت کے مابین سلام پھیرتے تھے اور اپنی کسی ضرورت کا حکم بھی دے دیا کرتے تھے۔ (بخاری: ۹۹۱) سیدنا ابو موسی اشعری، سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ دو رکعتوں اور ایک رکعت کے درمیان سلام پھیرا کرتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۴۶۷۲)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں