🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ مَسَافَةِ الْقَصْرِ وَحُكْمِ مَنْ نَزَلَ بِبَلَدٍ فَنَوَى الْإِقَامَةَ فِيهِ وَإِتْمَامِ الْمُسَافِرِ إِذَا
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان¤وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ¤مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا¤وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ¤کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2357
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي السِّمْطِ أَنَّهُ أَتَى أَرْضًا يُقَالُ لَهَا دَوْمِينُ، مِنْ حِمْصَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
جبیر بن نفیر کہتے ہیں: جناب ابو سمط دو مین نامی جگہ پر آئے، جو حمص سے اٹھارہ میل کے فاصلے پر ہے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھی۔ میں نے کہا: کیا تو دو رکعت نماز پڑھ رہا ہے؟اس نے کہا: میں نے تو سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذی الحلیفہ دو رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، پھر جب میں نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا: میں تو اسی طرح کروں گا جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2357]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 692، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 198»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 692
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2358
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ مِنَ الْمَدِينَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ) لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ سے سفر کیا (اور ایک روایت میں ہے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں مکہ اور مدینہ کے درمیان کا سفر کیا) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر تھا، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آنے تک دو دو رکعت نماز ادا کرتے رہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2358]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 547، والنسائي: 3/ 117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1852 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1852»

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 547
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2359
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِمِنَى أَكْثَرَ مَا كَانَ النَّاسُ وَآمَنَهُ رَكْعَتَيْنِ
سیّدناحارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں ظہر وعصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، حالانکہ اس وقت لوگوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ تھی اور امن بھی بہت تھا۔ ان احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ قصر کا تعلق دشمن کے خوف یا صرف جہادی سفر سے نہیں ہے، بلکہ ہر سفر میں قصر نماز پڑھی جائے گی، اس میں امن ہو یا خوف۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2359]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1083، 1656، ومسلم: 696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18727، 18731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18934»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1083
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2360
عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں:ہم مکہ میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، میں نے کہا: جب ہم تمہارے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعت نماز پڑھتے ہیں اور جب اپنی رہائش گاہوں کی طرف لوٹتے ہیں تو دو رکعت(قصر نماز) پڑھتے ہیں، سیّدنا عبد اللہ نے کہا: یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2360]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 688، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1862، 1996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1862»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 688
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2361
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا لَمْ تُدْرِكِ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ كَمْ تُصَلِّي فِي الْبَطْحَاءِ قَالَ رَكْعَتَيْنِ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
(دوسری سند) میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: جب تم مسجد میں نماز (باجماعت) نہیں پاتے توبطحاء میں کتنی رکعتیں پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: دو رکعت پڑھتا ہوں اور یہی ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2361]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1996»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1996
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2362
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: إِنِّي أَكُونُ بِمَكَّةَ فَكَيْفَ أُصَلِّي؟ فَقَالَ: رَكْعَتَيْنِ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
(تیسری سند)میں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے ہوئے کہا:جب میں مکہ میں ہوتا ہوں تو وہاں کیسے نماز پڑھوں؟ انھوں نے جواب دیا: دو رکعتیں اور یہی ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2362]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2632»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2632
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2363
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنَى رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ أَمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور سیّدناعثمان کے ساتھ چھ سال تک منی میں نماز پڑھی، وہ مسافر والی نماز پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2363]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 694، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4858 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4858»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 694
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2364
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي مَسْجِدِهِ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ آمِنًا لَا يَخَافُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
سیّدنا انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مدینہ میں مسجد نبوی میں ظہر کی نماز کی چار رکعت پڑھائی، اور ذو الحلیفہ کے مقام پر عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی، یہ حجۃ الوداع کا (سفر تھا)،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امن کی حالت میں تھے اور کسی سے نہیں ڈر رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2364]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 418، وابن حبان: 2746، وابويعلي: 3634، وأخرجه مسلم مختصرا: 690، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12079، 13488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13522»

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 418
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2365
عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ، قَالَ كُنْتُ أَخْرُجُ إِلَى الْكُوفَةِ فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَرْجِعَ، وَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمِيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ شُعْبَةُ الشَّاكُّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ
یحی بن یزید ہنائی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ میں کوفہ کی طرف جاتا ہوں اور واپس لوٹنے تک دو دو رکعت نماز پڑھتا ہوں۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت تک نکلتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے، امام شعبہ کو شک ہوا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2365]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 691، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12338»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 691
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2366
عَنْ حَفْصٍ عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أُنْطَلِقَ بِنَا إِلَى الشَّامِ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ لِيَفْرِضَ لَنَا، فَلَمَّا رَجَعَ وَكُنَّا بِفَجِّ النَّاقَةِ صَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ سَلَّمَ وَدَخَلَ فُسْطَاطَهُ وَقَامَ الْقَوْمُ يُضِيفُونَ إِلَى رَكْعَتَيْهِ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ: قَبَّحَ اللَّهُ الْوُجُوهَ، فَوَاللَّهِ مَا أَصَابَتِ السُّنَّةَ وَلَا قَبِلَتِ الرُّخْصَةَ، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ أَقْوَامًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ يَمْرُقُونَ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم چالیس انصاری لوگوں کو شام میں عبد الملک کے پاس بھیجا گیا، تاکہ وہ ہمارے لیے کچھ مقرر کرے۔ جب وہ (انس رضی اللہ عنہ) لوٹے اور ہم فَجُّ النَّاقَۃِ مقام تک پہنچے، تو انھوں نے ہمیں عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور سلام پھیرکر اپنے خیمے میں چلے گئے۔لیکن ہوا یوں کہ وہ (مقتدی) کھڑے ہو گئے اور ان دو رکعتوں کے ساتھ مزید دو رکعتیں پڑھنے لگے، اس پر سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ان چہروں کا برا کرے، اللہ کی قسم! انہوں نے سنت کو نہیں پایا اور نہ رخصت کو قبول کیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک کچھ قومیں دین میں مبالغہ اور تشدد کی حد تک گھسیں گی، لیکن پھر دین سے یوں نکل جائیں گی، جیسے شکار سے تیر نکل جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2366]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه سعيد بن منصور في ’’سننه‘‘: 2905، والضيائ: 1894 وابن عساكر في ’’تاريخ دمشق‘‘: 5/ ورقة 180، وأخرج القسم المر فوع منه البزار: 1853، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12642»

الحكم على الحديث: اسناده قوي۔ أخرجه سعيد بن منصور في ’’سننه‘‘: 2905
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں