🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. بَابُ افْتِرَاضِ صَلَاةِ السَّفَرِ وَحُكْمِهَا
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2345
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ أَوَّلَ مَا افْتُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةُ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا كَانَتْ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَمَّ اللَّهُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا فِي الْحَضَرِ، وَأَقَرَّ الصَّلَاةَ عَلَى فَرْضِهَا الْأَوَّلِ فِي السَّفَرِ
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو نماز شروع میں فرض کی گئی، وہ مغرب کے علاوہ دو دو رکعتیں تھیں، مغرب کی تین رکعتیں تھیں، پھر اللہ تعالیٰ نے ظہر، عصر، اور عشاء کی نمازوں کی حضر میں چار چار رکعتیں پوری کر دیں اور پہلے فرض ہونے والی (دو دو رکعتوں) کو سفر میں مقرر کردیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2345]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 350، ومسلم: 685، وابوداود: 1198، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26869 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26869»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 350
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2346
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَدْ فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا وَتْرُ النَّهَارِ، وَصَلَاةَ الْفَجْرِ لِطُولِ قِرَاءَتِهَا، قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُوْلَى
(دوسری سند)وہ کہتی ہیں: مکہ میں نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ آئے تو دو دو رکعتوں کا مزید اضافہ کر دیا گیا، سوائے نمازِ مغرب کے، کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں،اور سوائے نمازِفجرکے، کیونکہ اس میں قراءت لمبی ہوتی ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مزید کہتی ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر ہوتے تو پہلے والی نماز پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2346]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، الشعبي لم يسمع من عائشة، ويغني عنه الحديث بالطريق الأول، أخرجه ابن خزيمة: 305، 944، وابن حبان: 2738،، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 1/ 415، وابن ابي شيبة: 14/ 132، واسحاق بن راھويه: 1635، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26570»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف بھذه السياقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2347
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةَ الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَالْخَوْفِ رَكْعَةً عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان پر حضر کی نماز چار رکعتیں، سفر کی نماز دو رکعتیں اور خوف کی نماز ایک رکعت فرض کی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2347]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه مسلم: 687، وابوداود: 1247، وابن ماجه: 1068، والنسائي: 1/ 226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2124، 3332 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3332»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2348
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ لَكُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان پر حضر کی نماز چار اور سفر کی نماز دو رکعتیں فرض کی ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2348]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، عبيد الله بن زحر مختلف فيه، وفيه انقطاع بين عبيد الله وبين ابي ھريرة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9200 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9189»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2349
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْفِطْرِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانٍ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سفری نماز کی دو رکعتیں، نمازِ عیدالاضحی کی دو رکعتیں، نماز عید الفطر کی دو اور نمازِ جمعہ کی دو رکعتیں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر پوری نمازیں ہیں،ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2349]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 1063، والنسائي: 3/ 111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 257 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 257»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2350
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا} وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ لِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ) )
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہا ہے کہ اگر تمہیں ڈر ہو کہ کفار تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، جبکہ اب تو لوگ امن میں ہیں؟ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا: جس چیز سے تجھے تعجب ہوا ہے، مجھے بھی اس پر تعجب ہوا تھا، لیکن جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خیرات (اور رخصت) ہے، جواللہ نے تم پر صدقہ کی ہے، سو تم اس کی یہ رخصت قبول کرو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2350]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 174»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 686
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2351
عَنْ أَبِي حَنْظَلَةَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ، قَالَ: الصَّلَاةُ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، قُلْتُ إِنَّا آمِنُونَ، قَالَ: سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابوحنظلہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سفر کی نماز کے بار ے سوال کیا تو انہوں نے کہا: سفر کی نماز دو رکعتیں ہیں۔ میں نے کہا: ہم تو اب امن میں ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2351]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الدولابي في ’’الكني‘‘: 1/ 160، وابن ابي شيبة: 2/447،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4704، 5213 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4861»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2352
عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ وَصَلَاةَ الْحَضَرِ وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ؟ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
خالد بن اسید کی آل میں سے ایک آدمی کہتا ہے: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں قرآن مجید میں خوف اور حضر کی نماز کا تذکرہ تو ملتا ہے، لیکن ہم سفر کی نماز کا کوئی ذکر نہیں پاتے؟ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا اور ہم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اب ہم وہی کچھ کریں گے، جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2352]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن ماجه: 1066، والنسائي: 3/ 117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5333»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2353
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: نَجِدُ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَصَلَاةَ الْحَضَرِ فِي الْقُرْآنِ وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ الْمُسَافِرِ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: بَعَثَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَجْفَى النَّاسِ فَنَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
(دوسری سند)امیہ بن عبد اللہ کہتے ہیں: ہم نے سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہاکہ ہم خوف اور حضر کی نمازیں تو قرآن میں پاتے ہیں، لیکن ہم مسافر کی نماز کا کوئی تذکرہ نہیں پاتے؟ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھیجا، جبکہ ہم سب لوگوں سے سب سے زیادہ سخت مزاج تھے، پس ہم تو اب اسی طرح کریں گے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2353]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5683»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5683
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2354
عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَافَرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَحِينَ قَامَ أَرْبَعًا، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا كَمَنْ صَلَّى فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ إِلَّا مَرَّةً حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّى النَّاسُ رَكْعَةً رَكْعَةً
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر ہوتے تو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور جب مقیم ہوتے تو چار رکعتیں پڑھتے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے سفر میں چار رکعتیں پڑھی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو حضر میں دو رکعتیں پڑھتا ہے۔سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے مزید کہا: صرف ایک دفعہ نماز کو (ایک رکعت پر) قصر کر کے پڑھا گیا، (اور وہ بھی اس طرح تھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں اور لوگوں نے ایک ایک رکعت ادا کی تھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2354]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حميد بن علي وھو ابوعكرشة العقيلي، قال الدارقطني: لايستقيم حديثه، ولا يحتج به، وقال ابوزرعة: كوفي لابأس به، وذكره ابن حبان في الثقات، وقال البخاري في ’’تاريخه‘‘: حميد بن علي عن الضحاك مرسل، والضحاك بن مزاحم لم يسمع من ابن عباس، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3268»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں