الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْكِيدِهَا وَالْحَثِّ عَلَيْهَا
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
حدیث نمبر: 2458
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْزِلِي شَاسِعٌ وَأَنَا مَكْفُوفُ الْبَصَرِ وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ، قَالَ: ( (فَإِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ فَأَجِبْ وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا) )
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا:اے اللہ کے رسول! میرا گھر مسجد سے دور ہے، جبکہ میں نابینا بھی ہوں اور اذان بھی سنتاہوں (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اذان سنتا ہے تو اس کا جواب دیا کر، اگرچہ تجھے سرین کے بل گھسٹ کر یا کولہوں کے بل سرک کر آنا پڑے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2458]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عيسي بن جارية، قال ابن معين: ليس بذاك عنده مناكير، وقال ابوداود: منكر الحديث أخرجه عبد بن حميد: 1148، وابويعلي: 1803، وابن حبان: 2063، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3738۔ وقد روي ھذا الحديث عن ابن ام مكتوم نفسه، سيأتي برقم: 1302، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15011»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2459
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنْتُ ضَرِيرًا شَاسِعَ الدَّارِ وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي فَهَلْ تَجِدُ لِي رُخْصَةً أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ: ( (أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ؟) ) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ( (مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً) )
سیّدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول!میں نابینا ہوں اور میرا گھر بھی مسجد سے دور ہے اور میرا ایک قائد تو ہے لیکن وہ میری موافقت نہیں کرتا تو کیا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تب میں تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2459]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد منقطع، ابو رزين مسعود بن مالك لم يسمع من ابن ام مكتوم أخرجه ابوداود: 552، وابن ماجه: 792، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15571»
الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2460
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَسُئِلَ سُفْيَانُ عَمَّنْ؟ قَالَ: هُوَ مَحْمُودٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ رَجُلًا مَحْجُوبَ الْبَصَرِ وَإِنَّهُ ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّخَلُّفَ عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ: ( (هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟) ) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ
محمود بن ربیع کہتے ہیں: سیّدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہا ایک نابینا آدمی تھا، اس لیے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز سے پیچھے رہ جانے کا ذکر کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اذان کی آواز سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رخصت نہیں دی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2460]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف لشذوذه، فقد خالف فيه سفيان بن عيينة اصحابَ الزھري في روايته عن محمود بن الربيع، عن عتبان بن مالك من انهV أذن لعتبان ان يصلي في بيته لما انكر بصره، وكانت السيول تحول بينه وبين مسجد قومه۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16594»
الحكم على الحديث: حديث ضعيف لشذوذه
حدیث نمبر: 2461
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ( (إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيُؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، وَإِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ فَأَنْصِتُوا) )
سیّدناابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں (بعض امور کی)تعلیم دی، بیچ میں یہ بھی فرمایا تھا: جب تم نماز کے لیے اٹھو تو تم میں سے ایک آدمی امامت کروایا کرے اور جب امام قراءت کرے تو تم خاموش رہا کرو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2461]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19723 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19961»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 404
حدیث نمبر: 2462
عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيْنَ مَسْكَنُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: فِي قَرْيَةٍ دُونَ حِمْصَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ لَا يُؤَذَّنَ وَلَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ الذِّئْبَ يَأْكُلُ الْقَاصِيَةَ) )
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں: سیّدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا:تیرا گھر کہاں ہے؟ میں نے کہا: حمص سے پیچھے ایک بستی میں۔ پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:یعنی: جس بستی میں تین آدمی ہوں اور اس میں نہ اذان دی جاتی ہو اور نہ نماز قائم کی جاتی ہو تو وہاں شیطان غالب آ جاتا ہے، اس لیے تم جماعت کا التزام کرو، (وگرنہ ذہن نشین کر لو کہ) بھیڑیا (ریوڑ سے) دور چلی جانے والی بکری کو کھا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2462]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 547، والنسائي: 2/ 106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22053»
الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 547
حدیث نمبر: 2463
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ فَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ وَالْمَسْجِدِ) )
سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک شیطان انسان کے لیے اسی طرح کا بھیڑیا ہے، جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے، جو دور جانے والی اور علیحدہ رہنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے، پس تم گھاٹیوں سے بچو اور جماعت، عام مسلمانوں اور مسجد کو لازم پکڑو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2463]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا سند منقطع، العلاء بن زياد لم يسمع من معاذ أخرجه الطبراني: 20/ (345)، وعبد بن حميد: 114، وابونعيم في ’’الحلية‘‘: 2/ 257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22379»
الحكم على الحديث: حسن لغيره