الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْكِيدِهَا وَالْحَثِّ عَلَيْهَا
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
حدیث نمبر: 2459
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنْتُ ضَرِيرًا شَاسِعَ الدَّارِ وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي فَهَلْ تَجِدُ لِي رُخْصَةً أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ: ( (أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ؟) ) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ( (مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً) )
سیّدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول!میں نابینا ہوں اور میرا گھر بھی مسجد سے دور ہے اور میرا ایک قائد تو ہے لیکن وہ میری موافقت نہیں کرتا تو کیا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تب میں تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2459]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد منقطع، ابو رزين مسعود بن مالك لم يسمع من ابن ام مكتوم أخرجه ابوداود: 552، وابن ماجه: 792، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15571»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2459 in Urdu