🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. بَابُ حُكْمِ الْإِمَامِ إِذَا ذَكَرَ أَنَّهُ مُحْدِثٌ
اس امام کے حکم کا بیان، جس کو (دورانِ نماز) یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2575
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُصَلِّي إِذِ انْصَرَفَ وَنَحْنُ قِيَامٌ ثُمَّ أَقْبَلَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى لَنَا الصَّلَاةَ، ثُمَّ قَالَ: ( (إِنِّي ذَكَرْتُ أَنِّي كُنْتُ جُنُبًا حِينَ قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ لَمْ أَغْتَسِلْ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ فِي بَطْنِهِ رِزًّا أَوْ كَانَ مِثْلَ مَا كُنْتُ عَلَيْهِ فَلْيَنْصَرِفْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حَاجَتِهِ أَوْ غُسْلِهِ ثُمَّ يَعُودُ إِلَى صَلَاتِهِ) )
سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے، جبکہ ہم قیام کی حالت میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور (فراغت کے بعد) فرمایا: جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوا تو مجھے یاد آیا کہ میں جنبی ہوں اور غسل نہیں کیا،(آئندہ تم یاد رکھو کہ) تم میں جو شخص اپنے پیٹ میں آواز وغیرہ محسوس کرے یا اس کے ساتھ میرا والا یہ معاملہ ہو جائے تو وہ چلا جائے اور اپنی حاجت سے یا غسل سے فارغ ہوکر اپنی نماز کی طرف لوٹے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2575]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ليكن اگلي حديث سے اس كي تائيد هوتي هے۔ أخرجه البزار: 890، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 668»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2576
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ مَكَانَكُمْ ثُمَّ دَخَلَ فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: ( (إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا) )
سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کی، اللہ اکبر کہا، لیکن اچانک نمازیوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخل ہو گئے، پھر جب آپ باہر آئے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پس آپ نے ان کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: بیشک میں بشر ہی ہوں، در اصل میں جنبی تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2576]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح، لكن الحسن البصري مدلس وقد عنعن، امام البانيk نے اس حديث كو صحيح كها هے۔ أخرجه ابوداود: 234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20691»

الحكم على الحديث: رجاله ثقات رجال الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2577
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
(دوسری سند)بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز میں داخل ہوئے اور پھر مذکورہ پوری حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2577]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20697»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20697
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2578
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَمَّا كَبَّرَ انْصَرَفَ وَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَيْ كَمَا أَنْتُمْ ثُمَّ خَرَجَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ( (إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَنَسِيتُ أَنْ أَغْتَسِلَ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے آئے اور جب اللہ اکبر کہا تو (گھر کی طرف) چل دیئے اور لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی حالت پرقائم رہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر چلے گئے اور غسل کر کے تشریف لائے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور جب نماز پڑھ لی تو فرمایا: میں جنبی تھا اور غسل کرنا یاد نہیں رہا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2578]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، لكن قوله: ’’فلما كبر انصرف‘‘ من اوھام اسامة بن زيد الليثي، وھو صدوق له اوھام، أما الطريق الثاني الصحيح الآتي بعده عن ابي ھريرة، ففيه ان انصراف الرسولV من مقامه كان قبل ان يكبر ويدخل في الصلاة أخرجه ابن ماجه: 1220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9785»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2579
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ مَقَامَهُ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنْ مَكَانَكُمْ فَخَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ وَرَأْسُهُ يَنْطُفُ فَصَلَّى بِهِمْ
(دوسری سند)راوی کہتا ہے: نماز کے لیے اقامت کہی گئی اور لوگوں نے صفیں بنالیں، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اپنے مقام پر کھڑے ہوئے تو اپنے ہاتھ سے اُن کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی اپنی جگہ پرٹھہرے رہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے،غسل کیا اور جب دوبارہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2579]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 640، ومسلم: 605، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7237»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 640
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں