الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ مَوْقِفِ الْوَاحِدِ مِنَ الْإِمَامِ
امام کے ساتھ ایک آدمی کے کھڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2615
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَذَبَنِي فَجَرَّنِي، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً قِيَامُهُ فِيهِنَّ سَوَاءٌ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگ گئے، میں بھی اٹھا، وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کھینچا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرہ رکعت نماز پڑھی، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام برابر برابر رہا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2615]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابوداود: 1365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2276، 3459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2276»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابوداود: 1365
حدیث نمبر: 2616
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَرَّنِي فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلَاتِهِ خَنَسْتُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِي: ( (مَا شَأْنِي أَجْعَلُكَ حِذَاءِي فَتَخْنِسُ؟) ) فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ حِذَاءَكَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ، قَالَ: فَأَعْجَبْتُهُ، فَدَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَنْفُخُ ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الصَّلَاةَ، فَقَامَ فَصَلَّى، مَا أَعَادَ وُضُوءًا
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات کے آخری حصے میں آیا آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھینچ کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز میں متوجہ ہوگئے تو میں تھوڑا سا پیچھے ہٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور جب فارغ ہوئے تو مجھے فرمایا: کیا بات ہے،میں تجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر رہا تھا اور تو پیچھے ہٹ رہا تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کسی کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ آپ کے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھے، حالانکہ آپ تو اللہ کے وہ رسول ہیں،جن کو اللہ تعالیٰ نے (بہت کچھ) عطا کیا۔ میں نے یہ بات کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعجب میں ڈال دیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے دعا کی اللہ تعالیٰ مجھے علم وفہم میں زیادہ کر دے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سو گئے ہیں، حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھرسیّدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اورکہا: اے اللہ کے رسول! نماز، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور دوبارہ وضو کیے بغیر نماز پڑھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2616]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 233، وأخرجه باختصار ابن ماجه: 423، وأخرجه مسلم مطولا ولم يذكر بعضه: 763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1912، 2567، 3060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3060»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کہ سونے سے آپ کا وضو ٹوٹتا نہیں تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل جاگ رہا ہوتا تھا۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 233
حدیث نمبر: 2617
عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: يَقُومُ عَنْ يَسَارِهِ، فَقُلْتُ حَدَّثَنِي سُمِيعُ النَّجَّارُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ، فَأَخَذَ بِهِ
اعمش کہتے ہیں: میں نے ابراہیم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو امام کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے، انھوں نے کہا: وہ امام کی بائیں جانب کھڑا ہوگا۔ میں نے کہا: مجھے تو سُمیع زیات نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا۔ پھر ابراہیم نے اس حدیث کو تسلیم کر لیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2617]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الدارمي: 641، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3359 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3359»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه الدارمي: 641
حدیث نمبر: 2618
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور وہ اس طرح کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کیے ہوئے تھے۔ میں (نماز پڑھنے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2618]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 766، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14849»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 766
حدیث نمبر: 2619
عَنْ جَبَّارِ بْنِ صَخْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ يُصَلِّي، قَالَ: فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَحَوَّلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْنَا فَلَمْ يَلْبَثْ يَسِيرًا أَنْ جَاءَ النَّاسُ
سیّدنا جبار بن صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے پھیر کر اپنی دائیں جانب کردیا، اور ہم نماز پڑھنے لگے، ابھی تھوڑی دیر بھی نہیں گزری تھی کہ لوگ بھی آگئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2619]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي، وابواويس صدوق سييء الحفظ أخرجه ابن الاثير في ’’اسد الغابة‘‘: 1/ 316، وأخرج بنحوه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 2137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15550»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي
حدیث نمبر: 2620
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا بِإِزَائِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2620]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25737»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم (۵۱۲، ۵۱۴) میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس موضوع کی درج ذیل دو احادیث مروی ہیں:
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2621
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ يُفْرَشُ لِي حِيَالَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يُصَلِّي وَأَنَا حِيَالَهُ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے نماز کے سامنے میرے لیے کوئی چیز بچھائی جاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوتی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2621]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4148، وابن ماجه: 957، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27269»
وضاحت: فوائد: … آخری دو احادیث کا اِس باب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اِس موضوع کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مرد یا بچہ امام کی دائیں جانب اس کے برابر کھڑا ہو گا اور عورت کا اکیلے پیچھے کھڑے ہو جانے کا معاملہ توواضح ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4148