🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. بَابُ فِي مَوْقِفِ الِاثْنَيْنِ مِنَ الْإِمَامِ
امام کے ساتھ دو آدمیوں کے کھڑا ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2622
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَسَارِهِ فَنَهَانِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَجَاءَ صَاحِبٌ لِي فَصَفَّفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے، میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے روکا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا، پھر میرا ایک اور ساتھی آگیا، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کپڑے میں تھے، جس کے دونوں کنارے ایک دوسرے کی مخالف سمت میں تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2622]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد أخرجه ابن ماجه: 974، وأخرجه ضمن حديث طويل مسلم: 3010، وابوداود: 634، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14550»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2623
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِالْهَاجِرَةِ فَلَمَّا مَالَتِ الشَّمْسُ أَقَامَ الصَّلَاةَ وَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ صَاحِبِي فَجَعَلَنَا عَنْ نَاحِيَتَيْهِ وَقَامَ بَيْنَنَا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، ثُمَّ صَلَّى بِنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ أَئِمَّةٌ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا فَلَا تَنْتَظِرُوهُمْ بِهَا وَاجْعَلُوا الصَّلَاةَ مَعَهُمْ سُبْحَةً
اسود کہتے ہیں: میں اور علقمہ دوپہر کے وقت سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جب سورج ڈھلا تو انھوں نے نماز کھڑی کی اور ہم ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے،لیکن انھوں نے میرا اور میرے ساتھی کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں اپنی دونوں طرف کھڑا کرلیا اور خود ہمارے درمیان کھڑے ہوگئے، پھر کہا: جب تین لوگ ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کیا کرتے تھے، پھر انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی اور فارغ ہونے کے بعد کہا: عنقریب ایسے ائمہ ہوں گے جو نمازوں کوان کے اوقات سے مؤخر کردیں گے، پس تم ان کا انتظار نہ کرنا، (اور وقت پر نماز پڑھ لینا) ا ور اس کے بعد ان کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کو نفلی بنا لینا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2623]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه مسلم: 534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4347»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه مسلم: 534
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2624
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ الْأَسْوَدَ وَعَلْقَمَةَ كَانَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فِي الدَّارِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَصَلَّى هَؤُلَاءِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَقَامَ وَسَطَهُمْ وَقَالَ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَاصْنَعُوا هَكَذَا، فَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ فَلْيُؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَضَعْ أَحَدُكُمْ يَدَيْهِ بَيْنَ فَخِذَيْهِ إِذَا رَكَعَ فَلْيَحْنُأْ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
(دوسری سند) اسود اور علقمہ دونوں سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے، انھوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اذان و اقامت کے بغیر نماز پڑھائی اور وہ ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: جب تم تین لوگ ہو تو اس طرح کیا کرو اور جب زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امامت کروائے (اور آگے کھڑا ہو)، جب کوئی رکوع کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں کے درمیان رکھے اور رکوع کے لیے جھکے، میں اب بھی گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے مختلف ہونے کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2624]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4272»
وضاحت: فوائد: … رکوع کے دوران دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر ڈال کر ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان رکھ لینا تطبیق کہلاتا ہے، یہ عمل شروع میں مسنون تھا، لیکن بعد میں منسوخ ہو گیا اور نئے حکم کے مطابق دورانِ رکوع ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا مسنون قرار پایا۔ اس دعوی کی دلیل درج ذیل حدیث ہے: سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، پس انھوں نے اللہ اکبر کہا اور رفع الیدین کیا، پھر رکوع کیااور ہاتھوں میں تطبیق دی اور ان کو گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ جب سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ چلا تو انھوں نے کہا: میرے بھائی عبد اللہ بن مسعود نے سچ کہا، ہم یہ عمل کرتے تھے، لیکن بعد میں ہمیں گھٹنے پکڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ (مسند احمد: ۳۹۷۴، ابوداود: ۷۴۷، نسائی: ۲/ ۱۸۴)

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2625
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ
سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں کھڑا تھا اور آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2625]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 2/ 86، 104، وابن خزيمة: 1537، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2751»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 2/ 86
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2626
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أُمِّ حَرَامٍ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کے گھر میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی تھیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2626]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 660، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13019، 13118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13149»
وضاحت: فوائد: … اِن روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ دو مقتدی امام کے پیچھے کھڑے ہو ں گے، البتہ عورت اکیلی صف میں کھڑی ہو گی وہ مردوں کی صف میں ساتھ برابر نہیں کھڑی ہو سکتی خواہ صف میں چھوٹا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 660
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں