الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَرَصِّهَا وَبَيَانِ خَيْرِهَا مِنْ شَرِّهَا
صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی¤اور سب سے بری صفوں کا بیان
حدیث نمبر: 2646
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (لَتُسَوُّنَّ الصُّفُوفَ أَوْ لَتُطْمَسَنَّ وُجُوهُكُمْ وَلَتُغْمِضُنَّ أَبْصَارَكُمْ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُكُمْ) )
سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرو گے یا پھر تمہارے چہروں کی صورتیں تبدیل کر دی جائیں گی اور تم ضرور اپنی آنکھوں کو بند کر و یا تمہاری آنکھوں کو ضرور اچک لیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2646]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدّا، عبيد الله بن زحر الافريقي وعلي بن يزيد الالھاني ضعيفان أخرجه أبو يعلي في ’’مسنده‘‘، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 7849، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22225 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22578»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف جدّا
حدیث نمبر: 2647
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَقِيمُوا الصُّفُوفَ فَإِنَّمَا تَصُفُّونَ بِصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ وَحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِينُوا فِي أَيْدِي إِخْوَانِكُمْ وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، (خیال تو کرو کہ) تم نے فرشتوں کی صفوں کی طرح صفیں بنانی ہیں، اپنے کندھوں کو برابر رکھو، خالی جگہوں کو پر کردو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو او رشیطان کے لیے کوئی خالی جگہ نہ چھوڑو۔ (یاد رکھو کہ) جس نے صف کو ملایا اللہ اس کو (اپنے فضل اور رحمت سے) ملائے گا، اور جس نے صف کو کاٹا اللہ اس کو (اپنی رحمت سے)کاٹ دے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2647]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 666، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5724»
وضاحت: فوائد: … ”اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو“ اس کا مطلب یہ ہے کہ صف کے شگاف کو پر کرنے والے
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 666
حدیث نمبر: 2648
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصُّفُوفِ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو ملاؤ، ان کو قریب قریب کرو اور گرد نوں کو (ایک سیدھ میں) برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدکی جان ہے! بے شک میں شیطانوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ صفوں کے درمیان خالی جگہوں میں یوں گھستے ہیں، جیسے وہ بغیر بالوں کے کالی بھیڑیں ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2648]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابوداود: 667، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13771»
وضاحت: فوائد: … ”ان کو قریب قریب کرو“ کا معنی یہ ہے کہ دو صفوں کے درمیان کا فاصلہ ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے، ایک صف دوسری صف سے زیادہ دور نہ ہو۔ ”حَذَف“:کالی چھوٹی بھیڑیں جن کے نہ بال ہوں، نہ دم اور نہ کان۔جب بعض مساجد میں اس قسم کی احادیث بیان کی جاتی ہے کہ صف کے خلا میں شیطان گھس جاتے ہیں، تو بعض لوگ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ مسجد میں شیطان کہاں سے آ جاتا ہے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ جب صحابہ کرام مسجد نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہوتے تو وہاں تو رہ جانے والے شگاف میں شیطان پہنچ جاتا تھا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر یہ نسخہ بتایا کہ دو مقتدیوں کے درمیان کوئی خلا اور شگاف نہیں ہونا چاہیے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابوداود: 667
حدیث نمبر: 2649
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ لَا يَتَخَلَّلُكُمْ كَأَوْلَادِ الْحَذَفِ) ) ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا أَوْلَادُ الْحَذَفِ؟ قَالَ: ( (سُودٌ جُرْدٌ تَكُونُ بِأَرْضِ الْيَمَنِ) )
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر کیا کرو، شیطان حَذَف کی اولاد کی طرح تمہارے اندر نہ گھسنے پائے۔کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! حَذَف کی اولاد سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سیاہ رنگ کی بھیڑیں ہوتی ہیں، ان کے بال نہیں ہوتے اوریہ یمن کے علاقے میں پائی جاتی ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2649]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 351، والطبراني في ’’الصغير‘‘: 330، والبيھقي: 3/ 101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18821»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 351
حدیث نمبر: 2650
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي أَنْظُرُ أَوْ إِنِّي لَأَنْظُرُ مَا وَرَاءِي كَمَا أَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ، فَسَوُّوا صُفُوفَكُمْ وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ وَسُجُودَكُمْ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں اپنے پیچھے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں، جیسے اپنے آگے دیکھتا ہوں، اس لیے اپنی صفوں کو سیدھا رکھا کرو اوررکوع و سجود کو اچھے انداز میں ادا کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2650]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابونعيم في’’دلائل النبوة‘‘: 354، والحميدي: 961، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8927، 8771، 10561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10572»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ نماز میں مقتدیوں کے حالات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آتے تھے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابونعيم في’’دلائل النبوة‘‘: 354
حدیث نمبر: 2651
(وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَحْسِنُوا إِقَامَةَ الصُّفُوفِ فِي الصَّلَاةِ، خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ فِي الصَّلَاةِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا: نماز میں صفوں کو اچھی طرح سیدھا رکھا کرو، نماز میں مردوں کی بہترین صف پہلی ہے او ران کی بدترین صف آخری ہے اور عورتوں کی نماز میں بہترین صف آخری ہے اور ان کی بد ترین صف پہلی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2651]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن ماجه: 1000، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10295»
وضاحت: فوائد: … پہلے یہ تاویل گزر چکی ہے کہ بدترین صف سے مراد وہ صف ہے، جس میں اجر و ثواب کم ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن ماجه: 1000
حدیث نمبر: 2652
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (سَوُّوا (وَفِي رِوَايَةٍ: أَتِمُّوا) صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو برابر کرواور ((ایک روایت کے مطابق)) مکمل کرو،پس بے شک صفوں کو برابر کرنا نماز کی تکمیل میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2652]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 723، ومسلم: 433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12813 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14142»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا واضح طور پر یہ مفہوم ہے کہ صف میں نقص سے نماز میں کمی لازم آئے گی۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 723
حدیث نمبر: 2653
(وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ) )
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، بے شک صف کو سیدھا رکھنا نماز کی خوبصورتی میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2653]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13939»
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق: 1470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13939
حدیث نمبر: 2654
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: طَلَبْنَا عِلْمَ الْعُودِ الَّذِي فِي مَقَامِ الْإِمَامِ، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَحَدٍ يَذْكُرُ لَنَا فِيهِ شَيْئًا، قَالَ مُصْعَبٌ: فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَبَّابٍ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ: جَلَسَ إِلَيَّ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَٰذَا؟ وَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ لَا أَدْرِي لِمَ صُنِعَ، فَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ عَلَيْهِ يَمِينَهُ ثُمَّ يَلْتَفِتُ إِلَيْنَا فَيَقُولُ: ( (اسْتَوُوا وَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ) )
مصعب بن ثابت کہتے ہیں: امام کے مقام کے پاس ایک لکڑی تھی، ہم نے اس کی حقیقت کے بارے میں معلوم کرنا چاہا، لیکن ہمیں کوئی ایسا آدمی نہ ملا جو اس کے بارے میں کچھ بتلا سکے۔ پھر مقصورہ والے محمد بن مسلم نے مجھے بتلاتے ہوئے کہا: ایک دن سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ میرے پاس بیٹھے اور کہا: کیا تو جانتا ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی؟ حالانکہ میں نے اس کے بارے ان سے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ اس کو کیوں بنایا گیا۔ پھر سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس پر اپنا ہاتھ رکھتے اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے: اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر کر لو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2654]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1470(2654) اسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت وجھالة محمد بن مسلم بن السائب أخرجه ابوداود: 669، 670، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13704»
وضاحت: فوائد: … ابوداود کے ایک طریق کے الفاظ یہ ہیں: کَانَ اِذَا قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ اَخَذَہٗ بِیَمِیْنِہٖ، ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: ((اِعْتَدِلُوْا، سَوُّوْا صُفُوْفَکُمْ۔)) ثُمَّ اَخَذَہٗ بِیَسَارِہٖ فَقَالَ: ((اِعْتَدِلُوْا، سَوُّوْا صُفُوْفَکُمْ۔)) یعنی: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اسے اپنی دائیں ہاتھ سے پکڑتے اور (مقتدیوں کی طرف) متوجہ ہو کر فرماتے: ”برابر ہو جاؤ، اپنی صفوں کو سیدھا کر لو۔“ پھر اس کو بائیں ہاتھ میں پکڑتے اور فرماتے:
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق: 1470(2654) اسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت وجھالة محمد بن مسلم بن السائب أخرجه ابوداود: 669
حدیث نمبر: 2655
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ، فَإِنْ كَانَ نَقْصٌ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلی صف کو پہلے مکمل کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اگر کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہیے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2655]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 671، والنسائي: 2/ 93، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13473»
وضاحت: فوائد: … مقتدیوں کو چاہیے کہ وہ بالترتیب پہلی صفوں کو مکمل کرتے جائیں۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 671