🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ فَضْلِ التَّبْكِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَالْمَشْيِ لَهَا دُونَ الرُّكُوبِ وَالدُّنُوِّ مِنَ الْإِمَامِ وَالْأَنْصَاتِ لِلْخُطْبَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2757
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا، قَالَ إِسْحَاقُ أَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ أَقْبَلَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ) ) ، وَفِي لَفْظٍ: فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَتِ الْمَلَائِكَةُ الصُّحُفَ وَدَخَلَتْ تَسْمَعُ الذِّكْرَ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسلِ جنابت کی طرح کا غسل کیا،پھر وہ مسجد کی طرف چلا، (اور پہلی گھڑی میں پہنچ گیا)تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی پیش کی، جو شخص دوسری گھڑی میں پہنچا، اس نے گویا کہ ایک گائے کی قربانی پیش کی، جو آدمی تیسری گھڑی میں پہنچا تو اس نے گویا کہ سینگوں والے ایک مینڈھے کی قربانی کی، جو شخص چوتھی گھڑی میں مسجد میں پہنچا تو گویا کہ اس نے ایک مرغی کی قربانی کی اور جو پانچویں گھڑی میں پہنچا تو اس نے گویا کہ ایک انڈے کی قربانی پیش کی، جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے بھی (آگے) آ کر ذکر سننا شروع کردیتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے صحیفوں کو لپیٹ دیتے ہیں اور مسجد میں داخل ہو کر ذکر سننا شروع کردیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ وَفَضْلِ يَوْمِهَا وَكُلِّ مَا يَتَعَلَّقُ بِهَا/حدیث: 2757]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 881، ومسلم: 850، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 99926) (وَفِي لَفْظٍ) فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طَوَتِ الْمَلَائِكَةُ الصُّحُفَ وَدَخَلَتْ تَسْمَعُ الذِّكْرَ۔ انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9928»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 881
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2758
(وَعَنْهُ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً، وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي كَبْشًا‘‘ حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ)
(دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کی طرف جلدی جلدی جانے والا اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح اور اس کے بعد آنے والا مینڈھے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ وَفَضْلِ يَوْمِهَا وَكُلِّ مَا يَتَعَلَّقُ بِهَا/حدیث: 2758]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7258»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7258
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2759
(وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ:) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا تَغْرُبُ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا تَفْزَعُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا هَٰذَانِ الثَّقَلَانِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَكَانِ يَكْتُبَانِ (وَفِي لَفْظٍ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ) الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ فَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ طَائِرًا، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً، فَإِذَا قَعَدَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج ایسے دن پر طلوع ہوتا ہے نہ غروب، جو جمعہ کے دن سے افضل ہو، ہر جانور جمعہ کے دن گھبرایا ہوا ہوتا ہے، سوائے ان دو جماعتوں جن و انس کے، اس دن کو مسجدکے دروازوں میں سے ہر دروازے پر لکھنے والے دو فرشتے ہوتے ہیں، جو پہلے پہلے آنے والوں کو لکھتے ہیں، پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا بکری کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا پرندے کی قربانی کرنے والے کی طرح اور اس کے بعد آنے والا انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو صحائف کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ وَفَضْلِ يَوْمِهَا وَكُلِّ مَا يَتَعَلَّقُ بِهَا/حدیث: 2759]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، وانظر الحديث السابق: 1560، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7687) أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7673»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2760
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَيَكْتُبُونَ النَّاسَ مَنْ جَاءَ مِنَ النَّاسِ عَلَى مَنَازِلِهِمْ فَرَجُلٌ قَدَّمَ جَزُورًا، وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَقَرَةً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ شَاةً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ دَجَاجَةً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ عُصْفُورًا وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَيْضَةً، قَالَ فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَجَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ طُوِيَتِ الصُّحُفُ وَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ) )
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور (مسجد میں آنے کے لحاظ سے) لوگوں کے مراتب کے مطابق ان کا اندراج شروع کر دیتے ہیں، پس پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی، اس کے بعد آنے والا بکری کی قربانی، اس کے بعد آنے والا مرغی کی قربانی، اس کے بعد آنے والا چڑیا کی قربانی اور اس کے بعد آنے والا انڈے کی قربانی پیش کرتا ہے، (یعنی اِن کو ان قربانیوں کے برابر ثواب ملتا ہے)۔ پھر جب مؤذن اذان کہتا ہے اور امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو صحیفے لپیٹ لیے جاتے ہیں اور فرشتے مسجد میں داخل ہو کر (خطبے والا) ذکر سننے لگ جاتے ہیں ْ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ وَفَضْلِ يَوْمِهَا وَكُلِّ مَا يَتَعَلَّقُ بِهَا/حدیث: 2760]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 2606، وفي ’’شرح معاني الآثار‘‘: 4/ 180، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11769 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11791»

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2761
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ خَرَجَ الشَّيَاطِينُ يُرَبِّثُونَ النَّاسَ إِلَى أَسْوَاقِهِمْ وَمَعَهُمُ الرِّيَاتُ وَتَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ مَنَازِلِهِمْ، السَّابِقَ وَالْمُصَلِّي وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ نَاةَ عَنْهُ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ وَلَمْ يَسْتَمِعْ كَانَ عَلَيْهِ كِفْلَانِ مِنَ الْوِزْرِ وَمَنْ نَاةَ عَنْهُ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ وَلَمْ يَسْتَمِعْ كَانَ عَلَيْهِ كِفْلٌ مِنَ الْوِزْرِ، وَمَنْ قَالَ صَهْ فَقَدْ تَكَلَّمَ، وَمَنْ تَكَلَّمَ فَلَا جُمُعَةَ لَهُ، ثُمَّ قَالَ هَٰكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین اپنے جھنڈے لے کر نکلتے ہیں اور لوگوں کو بازاروں کی طرف روک دیتے ہیں، جبکہ فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کو ان کے مرتبے کے مطابق لکھنا شروع کر دیتے ہیں، یعنی سب سے پہلے آنے والا، پھر دوسرے نمبر پر آنے والا، پھر اس کے بعد آنے والا، (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) حتیٰ کہ امام نکل آتا ہے، پس جو شخص امام کے قریب ہو کر بیٹھا، خاموشی سے اور غور سے خطبہ سنا اور کوئی لغو کام نہ کیا تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جو امام سے دور ہو کر بیٹھا،لیکن اس نے غور سے خطبہ سنا،خاموشی سے بیٹھا رہا اور کوئی لغو کام نہ کیا تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ اور جو شخص امام کے قریب ہو کر بیٹھا، لیکن لغو کام کیا اور خاموشی سے بیٹھا نہ غور سے خطبہ سنا، تو اس پر دو حصے گناہ ہے، اور جو امام سے دور بیٹھا،لغو کام کیا، خاموشی اختیار کی نہ غور سے خطبہ سنا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ ہے اور جس نے کسی کو کہا کہ خاموش ہوجا پس اس نے کلام کیا اور جس نے کلام کیا اس کا کوئی جمعہ نہیں۔ پھر سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح فرماتے سنا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ وَفَضْلِ يَوْمِهَا وَكُلِّ مَا يَتَعَلَّقُ بِهَا/حدیث: 2761]
تخریج الحدیث: «يه سند ضعيف هے، كيونكه مولي امرأة عطاء مجھول هے۔ أخرجه أبوداود: 1051، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 719»

الحكم على الحديث: يه سند ضعيف هے
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2762
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ، جَاءَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَةِ كَذَا، جَاءَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَةِ كَذَا، جَاءَ فُلَانٌ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، جَاءَ فُلَانٌ فَأَدْرَكَ الصَّلَاةَ وَلَمْ يُدْرِكِ الْجُمُعَةَ إِذَا لَمْ يُدْرِكِ الْخُطْبَةَ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک فرشتے جمعہ کے دن مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور مراتب کے لحاظ سے لوگوں کا اندراج کرتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں گھڑی میں اور فلاں فلاں ٹائم پر آیا اور فلاں اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا اور فلاں نے نماز تو پالی لیکن جمعہ نہ پا سکا، کیونکہ اس سے خطبہ رہ گیا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ وَفَضْلِ يَوْمِهَا وَكُلِّ مَا يَتَعَلَّقُ بِهَا/حدیث: 2762]
تخریج الحدیث: «اس كي سند ضعيف هے، كيونكه علي بن زيدبن جدعان ضعيف هے اور اوس بن خالد مجھول هے۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 152، والطيالسي: 2565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8504»

الحكم على الحديث: اس كي سند ضعيف هے
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2763
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةٌ، رَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ وَصَلَاةٍ، فَذَلِكَ رَجُلٌ دَعَا رَبَّهُ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِسُكُوتٍ وَإِنْصَاتٍ فَذَلِكَ هُوَ حَقُّهَا، وَرَجُلٌ يَحْضُرُهَا بِاللَّغْوِ فَذَلِكَ حَظُّهُ مِنْهَا) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے افراد جمعہ میں حاضر ہوتے ہیں، ایک آدمی (درانِ خطبہ) دعا اور نماز کے ساتھ حاضر ہوتا ہے، (ایسے شخص کا حکم یہ ہے کہ) اس نے اپنے رب سے دعا کی ہے، اگر اس نے چاہا تو دے دے گا اور چاہا تو نہیں دے گا، دوسرا آدمی سکوت اور خاموشی کے ساتھ حاضر ہوتا ہے اور یہی اس کا حق ہے اور تیسرا آدمی لغو کے ساتھ حاضر ہوتا ہے، پس اس کا حصہ تو یہی (لغو کام) ہی ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ وَفَضْلِ يَوْمِهَا وَكُلِّ مَا يَتَعَلَّقُ بِهَا/حدیث: 2763]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، ويوسف في ھذا السند لم نعرفه أخرجه أبوداود: 1113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6701، 7002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6701»

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2764
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ:) وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا فَهِيَ كَفَّارَةٌ لَهُ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا‘‘})
(دوسری سند)اور ایک وہ آدمی ہے، جو خطبہ میں خاموشی و سکوت کے ساتھ حاضر ہوتا ہے اور کسی مسلمان کی گردن پھلانگتا ہے نہ کسی کو تکلیف دیتا ہے، تو ایسا جمعہ اس کے لیے اگلے جمعہ تک اور مزید تین دنوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ کہتا ہے: جو نیکی کرے گا، اس کو دس گناہ اجر ملے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ وَفَضْلِ يَوْمِهَا وَكُلِّ مَا يَتَعَلَّقُ بِهَا/حدیث: 2764]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7002»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7002
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2765
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَهُ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَرَأَى غُلَامًا فَقَالَ لَهُ: يَا غُلَامُ! اذْهَبْ، الْعَبْ، قَالَ: إِنَّمَا جِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، قَالَ: يَا غُلَامُ! اذْهَبْ! الْعَبْ، قَالَ: إِنَّمَا جِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَتَقْعُدُ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَجِيءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَتَقْعُدُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَتَكْتُبُ السَّابِقَ وَالثَّانِي وَالثَّالِثَ وَالنَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ) )
ابو ایوب کہتے ہیں: میں جمعہ کے دن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا اور اسے کہا: اے لڑکے! جاؤ اورکھیلو، لیکن اس نے کہا: میں تو مسجد کی طرف آیا ہوں، انھوں نے پھر کہا: لڑکے! جاؤ اور کھیلو، لیکن اس نے پھر کہا: میں مسجد کی طرف آیا ہوں، انھوں نے پوچھا: تو امام کے نکلنے تک بیٹھا رہے گا؟اس نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ فرشتے جمعہ کے دن آکر مسجدوں کے دروازوں پربیٹھ جاتے ہیں اورسب سے پہلے آنے والے، پھر دوسرے نمبر پر اورپھر تیسرے نمبر پر آنے والے لوگوں کو ان کے مرتبوں کے مطابق لکھتے ہیں، حتیٰ کہ امام نکل آتا ہے۔ جب امام نکل آتاہے تو صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ وَفَضْلِ يَوْمِهَا وَكُلِّ مَا يَتَعَلَّقُ بِهَا/حدیث: 2765]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح، وھذا اسناد حسن أخرج المرفوع منه: مسلم: 850، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7258، 10271 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10276»

الحكم على الحديث: المرفوع منه صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2766
عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، مَعَهُمُ الصُّحُفُ يَكْتُبُونَ النَّاسَ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ) ) ، قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ! لَيْسَ لِمَنْ جَاءَ بَعْدَ خُرُوجِ الْإِمَامِ جُمُعَةٌ؟ قَالَ: بَلَى وَلَٰكِنْ لَيْسَ مِمَّنْ يُكْتَبُ فِي الصُّحُفِ
ابوغالب کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں، ان کے پاس صحیفے ہوتے ہیں، وہ ان میں لوگوں کا اندراج کرتے ہیں، جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں۔ میں نے کہا: اے ابوامامہ رضی اللہ عنہ!جو شخص امام کے نکلنے کے بعد آئے اس کا جمعہ نہیں ہوتا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہوتا، جو صحیفوں میں لکھے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ وَفَضْلِ يَوْمِهَا وَكُلِّ مَا يَتَعَلَّقُ بِهَا/حدیث: 2766]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 8102، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22242، 22268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22624»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 8102
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں