الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ فَضْلِ التَّبْكِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَالْمَشْيِ لَهَا دُونَ الرُّكُوبِ وَالدُّنُوِّ مِنَ الْإِمَامِ وَالْأَنْصَاتِ لِلْخُطْبَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2763
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةٌ، رَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ وَصَلَاةٍ، فَذَلِكَ رَجُلٌ دَعَا رَبَّهُ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِسُكُوتٍ وَإِنْصَاتٍ فَذَلِكَ هُوَ حَقُّهَا، وَرَجُلٌ يَحْضُرُهَا بِاللَّغْوِ فَذَلِكَ حَظُّهُ مِنْهَا) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے افراد جمعہ میں حاضر ہوتے ہیں، ایک آدمی (درانِ خطبہ) دعا اور نماز کے ساتھ حاضر ہوتا ہے، (ایسے شخص کا حکم یہ ہے کہ) اس نے اپنے رب سے دعا کی ہے، اگر اس نے چاہا تو دے دے گا اور چاہا تو نہیں دے گا، دوسرا آدمی سکوت اور خاموشی کے ساتھ حاضر ہوتا ہے اور یہی اس کا حق ہے اور تیسرا آدمی لغو کے ساتھ حاضر ہوتا ہے، پس اس کا حصہ تو یہی (لغو کام) ہی ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2763]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، ويوسف في ھذا السند لم نعرفه أخرجه أبوداود: 1113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6701، 7002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6701»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2763 in Urdu