🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الظَّنِّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُسْنِ الْخَاتِمَةِ
اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور حسن خاتمہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2979
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ: ( (أَلَا لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ) )
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات سے تین روز قبل یوں فرماتے ہوئے سنا: خبردار! تم میں سے جس کسی کو بھی موت آئے تو وہ اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسنِ ظن رکھتا ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2979]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2877، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14386 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14439»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2877
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2980
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ، فَإِنَّ قَوْمًا قَدْ أَرْدَاهُمْ سُوءُ ظَنِّهِمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ}) )
(دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کسی کو بھی موت آئے تو اس حال میں آئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو، ایک قوم کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان کے سوئے ظن نے ہلاک کر دیا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: تمہاری اس بد گمانی نے جو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا اور بالآخر تم گھاٹا پانے والوں میں ہو گئے۔ (سورہ حم سجدۃ: ۲۳) [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2980]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ((فان قوما قد أرداھم۔)) وھذا اسناد ضعيف لضعف النضر بن اسماعيل، وابنُ ابي ليلي سييء الحفظ وانظر الحديث بالطريق الأول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15197 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15267»
وضاحت: فوائد: … اِن احادیث میں دراصل ناامیدی اور مایوسی سے ڈرایا گیا ہے اور اس امر پر رغبت دلائی گئی ہے کہ بندے کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ حسن ظن اور امید ہونی چاہیے کہ وہ رحم کرے گا اور بخش دے گا۔ لیکن یہ تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ اس حسنِ ظن کے لیے بندے کے پاس اعمالِ صالحہ بھی ہونے چاہئیں، ان احادیث کا یہ معنی و مفہوم نہیں ہے کہ مسلمان نیک عمل ترک کر کے حسن ظن قائم کر لے، کیونکہ ان فرموداتِ نبویہ کے بلاواسطہ اور پہلے سامعین صحابۂ کرام تھے، ہمیں اس چیز پر غور کرنا ہو گا کہ اُن پاکیزہ ہستیوں نے کون سا رویہ اختیار کیا تھا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: ((فان قوما قد أرداھم۔)) وھذا اسناد ضعيف لضعف النضر بن اسماعيل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2981
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، إِنْ ظَنَّ بِي خَيْرًا فَلَهُ وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فَلَهُ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان کرتا ہو، میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں، اگر وہ میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے تو یہ بھی اسی کے لیے ہے اور اگر وہ برا گمان رکھتا ہے تو یہ بھی اسی کے لیے ہی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2981]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناده فيه ابن لھيعة سييء الحفظ أخرجه ابن حبان: 639، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9065»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2982
عَنْ حَيَّانَ أَبِي النَّضْرِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أَبِي الْأَسْوَدِ الْجُرَشِيِّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَجَلَسَ، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو الْأَسْوَدُ يَمِينَ وَاثِلَةَ فَمَسَحَ بِهَا عَلَى عَيْنَيْهِ وَوَجْهِهِ لِبَيْعَتِهِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ وَاثِلَةُ: وَاحِدَةٌ أَسْأَلُكَ عَنْهَا، قَالَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: كَيْفَ ظَنُّكَ بِرَبِّكَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدُ وَأَشَارَ بِرَأْسِهِ حَسَنٌ، قَالَ وَاثِلَةُ: أَبْشِرْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ) )
ابو نضر حیان کہتے ہیں:میں سیّدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ابو اسود جرشی کی عیادت کے لیے گیا، وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، جناب واثلہ نے جا کر ان کو سلام کہا اور وہاں بیٹھ گئے۔ ابو الاسود نے واثلہ کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اپنی آنکھوں اور چہرے پر پھیرا، کیونکہ انھوں نے اپنے اس ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ سیّدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا: وہ کیا؟ انھوں نے پوچھا: آپ اللہ کے بارے میں کیا گمان رکھتے ہیں؟ ابوالاسود نے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اچھا گمان رکھتا ہوں۔ جناب واثلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خوش ہوجاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ نے فرمایا: میرے بندے کا میرے بارے میں جو گمان ہوتا ہے، میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں، پس وہ میرے بارے میں جو چاہے (اچھا یا برا) گمان رکھ لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2982]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 211، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 1005، وأخرج بنحوه ابن حبان: 641، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16112»
وضاحت: فوائد: … اس ضمن میں بندے کو ان اعمالِ صالحہ کے اجرو ثواب کا علم ہونا چاہیے تو وہ سرانجام دے رہا ہوتا ہے تاکہ وہ اس اجرو ثواب کی امید پر اللہ تعالیٰ کے بارے میں اپنے ظن میں حسن پیدا کر سکے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 211
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2983
عَنْ عُمَرَ الْجُمَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ) ) ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: مَا اسْتَعْمَلَهُ؟ قَالَ: ( (يَهْدِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى الْعَمَلِ الصَّالِحِ قَبْلَ مَوْتِهِ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَى ذَلِكَ) )
عمر جمعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تووہ اسے استعمال کر لیتا ہے۔ قوم میں سے ایک آدمی نے پوچھا: اسے استعمال کرتا ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے موت سے پہلے اچھے عمل کی توفیق دے دیتا ہے، پھر اسے اسی حالت میں موت دے دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2983]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد فيه تدليس بقية بن الوليد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:17217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17349»
وضاحت: فوائد: … لوگ راضی ہو کر اس کے بارے میں اچھی شہادت دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی شہادت کو قبول کر لیتے ہیں۔ ان احادیث سے بڑی عمر کے لوگوں کو فکر پیدا ہونی چاہیے، اس عمر کے زیادہ تر لوگ فارغ ہوتے ہیں، کوئی کام کاج نہیں ہوتا، اگر یہ لمحات اللہ تعالیٰ کے ذکرو اذکار اور دوسرے امورِ خیر میں گزر جائیں، تو ان احادیث کا مصداق بنا جا سکتا ہے۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ سفید بال لوگوں کی مسجدوں میں قلت ہے، اب یہ لوگ بھی حقہ، تاش اور گپ شپ کی مجلسوں اور دوسری پنچائتوں کو ترجیح دینے لگ گئے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2984
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ) ) ، قِيلَ: وَمَا اسْتَعْمَلَهُ؟ قَالَ: ( (يُفْتَحُ لَهُ بَيْنَ يَدَيْ مَوْتِهِ حَتَّى يَرْضَى عَنْهُ مَنْ حَوْلَهُ) )
سیّدناعمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اسے استعمال کرتا ہے۔ کسی نے پوچھا: اسے استعمال کرتا ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے اس کی موت سے پہلے (اچھے اعمال) کھول دیئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ارد گرد والے لوگ اس سے راضی ہو جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2984]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه عبد بن حميد: 481، والبزار في ’’مسنده‘‘: 2310، وابن حبان: 342، 343، والحاكم: 1/ 340،، والطحاوي: 2640، والطبراني في ’’الشاميين‘‘: 183، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22295»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه عبد بن حميد: 481
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2985
عَنْ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَلَهُ) ) ، قِيلَ: وَمَا عَسَلَهُ؟ قَالَ: ( (يَفْتَحُ اللَّهُ لَهُ عَمَلًا صَالِحًا قَبْلَ مَوْتِهِ، ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ) )
سیّدنا ابو عنبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتاہے تو اسے لوگوں میں محبوب بنا دیتا ہے۔ کسی نے کہا کہ محبوب بنا دینے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے مرنے سے پہلے نیک عمل کرنے کی توفیق دے دیتا ہے، پھر اسی حالت پر اس کو موت دے دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2985]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 5722، وابن الاثير في ’’أسد الغابة‘‘: 6/ 234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:17784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17937»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 5722
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2986
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ مَاتَ عَلَى شَيْءٍ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ) )
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی جس حالت میں فوت ہو گا، اللہ اسے اسی حالت میں اٹھائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2986]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14373 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14426»
وضاحت: فوائد: … لوگوں کو فکر دلانے کے لیے ایک سچا واقعہ بیان کیا جاتا ہے، ضلع فیصل آباد (پاکستان) میں ایک زانی آدمی تھا، یہ برائی اس کی رگوں میں رچ بس گئی تھی، ایک دن وہ اسی بدکاری میں مبتلا تھا، جب شہوت پوری ہونے یعنی انزال کا وقت قریب آیا تو اس کے دماغ کی رگ پھٹ گئی اور وہ اسی حال میں مر گیا، جبکہ اس کا عضو ِ خاص اسی شہوت کی حالت میں تنا ہوا رہ گیا، ذلت سے بچنے کے لیے لوگوں نے اس کی شرمگاہ کو رسی کے ساتھ کھینچتے ہوئے ٹانگوں کے ساتھ ملا کر باندھ دیا۔ اللہ تعالیٰ دنیوی ذلتوں اور اخروی رسوائیوں سے محفوظ رکھے۔ (آمین)

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2878
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2987
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَسْنَدْتُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِي، فَقَالَ: ( (مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ) )
سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے سینے سے لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسرا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے رضا کے لیے لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہااور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ جنت میں جائے گا،جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے کے لیے ایک روزہ رکھا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ بھی جنت میں جائے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے کے لیے صدقہ کیا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ بھی جنت میں جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2987]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد فيه انقطاع بين نعيم بن أبي ھند و حذيفة أخرجه ابن ابي شيبه في ’’مسنده‘‘: 8222، والبيھقي في ’’الأسماء والصفات‘‘: صـ 303، والبزار في ’’مسنده‘‘: 2854، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23713»
وضاحت: فوائد: … صرف ایک سبق ملتا ہے کہ اعمالِ صالحہ میں حسب ِ استطاعت تسلسل ہو اور ان کا مقصود اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضامندی کا حصول ہو۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں