الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ وَفَضْلِ طُولِ الْعُمُرِ مَعَ حُسْنِ الْعَمَلِ
موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2988
عَنْ أَنَسَ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی تکلیف کی بنا پر موت کی تمنا نہ کرے، اگر کسی کا اس کے علاوہ اور کوئی چارۂ کار نہ ہو تو وہ یہ دعا کرے: اَللّٰہُمَّ أَحْیِنِی مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی، وَتَوَفَّنِی مَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ۔ (اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ، جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہو اور اس وقت مجھے فوت کر دینا، جب میرے لیے فوت ہونا بہتر ہو۔)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2988]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5671، ومسلم: 2680، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:13020، 13165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13197»
وضاحت: فوائد: … ہر قسم کی جسمانی اور روحانی پریشانی پر صبر کرنا چاہیے اور کسی دکھ کی بنا پر موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے، اگر کسی پر اس کا دکھ زیادہ ہی غلبہ پا لے تو وہ حدیث میں مذکورہ دعا پڑھا کرے۔ کسی تکلیف کے بغیر نیکی والی زندگی اور حسنِ انجام والی موت کا سوال کرنا پسندیدہ عمل ہے، اس حدیث کا مصداق وہ شخص ہے جو کسی مصیبت سے تنگ آ کر موت کو اپنے لیے بہتر سمجھنے لگ جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5671
حدیث نمبر: 2989
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ وَلَا يَدْعُو بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ، إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ انْقَطَعَ عَمَلُهُ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ مِنْ عُمْرِهِ إِلَّا خَيْرًا) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی موت کے آنے سے پہلے نہ اس کی تمنا کرے اور نہ اس کی دعا کرے، کیونکہ جب آدمی فوت ہوتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے اور مومن اپنی زندگی میں صرف نیکیوں میں ہی اضافہ کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2989]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5673، 7235، ومسلم: 2682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8086، 8189، 10669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8174»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5673
حدیث نمبر: 2990
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ، إِمَّا مُسِيءٌ فَيَسْتَعْفِرُ أَوْ مُحْسِنٌ فَيَزْدَادُ) )
(دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے، کیونکہ اگر وہ گنہگار ہے تو اللہ سے گناہوں کی معافی مانگ لے گا اور اگر نیک ہے تو نیکیوں میں اضافہ کر لے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2990]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10679»
وضاحت: فائدہ: … عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر مسلمان بالآخر نیکیوں میں اضافے اور برائیوں میں کمی کی صورت میں زندگی سے مستفید ہو جاتا ہے، ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کا مشاہدہ کیا ہے کہ انتہائی برے کردار اور عیاشی کے بعد ان کو رجوع الی اللہ نصیب ہو جاتا ہے، چہرے پر سفید بالوں والی سنت نظر آنے لگتی ہے، ذہن تبدیل ہو جاتے ہیں، اخلاق میں نرمی آ جاتی ہے، بسا اوقات حج و عمرہ کی سعادت بھی مل جاتی ہے۔ علی ہذا القیاس۔بہرحال چند لوگ ایسے بھی نظر آ سکتے ہیں، جو اپنی زندگی سے اس طرح نقصان اٹھاتے کہ ان کی پہلی عمر میں نیکی کا رجحان ہوتا ہے اور پچھلی عمر میں برائی کا اور وہ دن بدن فرائض و واجبات میں کمی کر کے اور حرام امور کا ارتکاب کر کے اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے مقروض بنتے رہتے ہیں۔ لیکن اکثریت کو دیکھ کر نفع یا نقصان کا حکم لگایا جاتا ہے، نہ کہ چند افراد کو۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10679
حدیث نمبر: 2991
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ وَهُوَ يَشْتَكِي فَتَمَنَّى الْمَوْتَ فَقَالَ: ( (يَا عَبَّاسُ! يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ! لَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتَ مُحْسِنًا تَزْدَادُ إِحْسَانًا إِلَى إِحْسَانِكَ خَيْرٌ لَكَ وَإِنْ كُنْتَ مُسِيءًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ خَيْرٌ لَكَ فَلَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ) ) (وَفِي رِوَايَةٍ: وَإِنْ كُنْتَ مُسِيءًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ مِنْ إِسَائَتِكَ خَيْرٌ لَكَ)
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، جبکہ وہ مریض تھے اور موت کی تمنا کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! موت کی تمنا مت کرو، اگر تم نیک ہو تو زندہ رہ کر نیکیوں میں اضافہ کرنا تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر برے ہو تو زندہ رہنے کی صورت میں توبہ کر سکتے ہو، لہٰذا یہ بھی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ پس موت کی خواہش نہ کرو۔ ایک روایت میں ہے: اگر تم بدعمل ہو تو موت کی تاخیر کی صورت میں بدعملی سے توبہ کر نا تمہارے لیے بہترہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2991]
تخریج الحدیث: «اسناده ضيعف، لجھالة ھند بنت الحارث الخثعمية أخرجه الحاكم: 1/ 339، والطبراني: 25/ 44، وابن سعد: 4/ 23، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27411»
الحكم على الحديث:
اسناده ضيعف
حدیث نمبر: 2992
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَلَسْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَّرَنَا وَرَقَّقَنَا فَبَكَى سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ فَقَالَ: يَا لَيْتَنِي مِتُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا سَعْدُ! أَعِنْدِي تَتَمَنَّى الْمَوْتَ؟) ) فَرَدَّدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: ( (يَا سَعْدُ! إِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ فَمَا طَالَ عُمُرُكَ أَوْ حَسُنَ مِنْ عَمَلِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ) )
سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں وعظ و نصیحت کی اور اتنی رقت آمیز گفتگو فرمائی کہ سیّدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رونے لگے اور خوب روئے، بیچ میں انھوں نے یہ بھی کہا: کاش میں مر چکا ہوتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد! کیا تم میرے پاس موت کی تمنا کر رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین بار دہرائی۔ پھر فرمایا: اے سعد! اگر تم جنت کے لیے پیدا کیے گئے ہو تو تمہاری عمر جس قدر طویل ہوگی یا اعمال جس قدر اچھے ہوں گے وہ اتنے ہی تمہارے حق میں بہتر ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2992]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا من أجل علي بن يزيد الألھاني أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:22293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22649»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا من أجل علي بن يزيد الألھاني أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7870
حدیث نمبر: 2993
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَا تَمَنَّوْا الْمَوْتَ فَإِنَّ هَوْلَ الْمُطَّلَعِ شَدِيدٌ، وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَةِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُ الْعَبْدِ وَيَرْزُقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم موت کی تمنا نہ کیا کرو،کیونکہ (موت کے بعد والے) امور کی گھبراہٹ بھی بڑی سخت ہے، خوش بختی یہ ہے کہ بندے کی عمر لمبی ہو اور اللہ تعالیٰ اسے توبہ کرنے کی توفیق دے دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2993]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه البزار: 3240، 3422، والحاكم: 4/ 240، والبيھقي في ’’شعب الايمان‘‘: 10589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14564 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14618»
وضاحت: فوائد: … ”الْمُطَّلَعِ“ سے مراد وہ امور ہیں جس پر انسان برزخی زندگی میں اور پھر قیامت کے دن اطلاع پائے گا، جبکہ وہ امور، دنیاوی احوال کے مقابلے میں کئی گنا سخت ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیوی پریشانیوں سے نجات پانے کے لیے خود کشی کرنے والا بڑے عذاب میں پھنس جاتا ہے، الّا یہ کہ اللہ تعالیٰ معاف کر دے۔ لہٰذا ہمیں موت کو دنیاوی آزمائشوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے اور زندگی کو بڑی غنیمت سمجھ کر اعمال صالحہ کی کثرت اور رجوع الی اللہ کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه البزار: 3240
حدیث نمبر: 2994
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ، قَالَ أَتَيْنَا خَبَّابًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَعُودُهُ فَقَالَ: لَوْ لَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ) ) لَتَمَنَّيْتُهُ
حارثہ کہتے ہیں: ہم سیّدنا خباب رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کرنے کے لیے گئے، انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہر گز موت کی تمنا نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2994]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد فيه شريك بن عبد الله النخعي سييء الحفظ أخرجه الترمذي: 2483، وابن ماجه: 4163۔ وأخرجه البخاري: 6430، ومسلم: 2681 بلفظ: لولا أن رسول اللهV نھانا أن ندعو بالموت، لدعوت به۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21054، 21059 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21368»
وضاحت: فوائد: … اس وقت سیّدنا خباب رضی اللہ عنہ شدید زخمی تھے اور جسم کے سات مقامات پر ان کو داغا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ سخت تکلیف سے دوچار تھے، لیکن صبر کا دامن تھامے رکھا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2995
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ آجِلًا فَارْفَعْنِي، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَاصْبِرْنِي، قَالَ: ( (مَا قُلْتَ؟) ) فَأَعَدْتُّ عَلَيْهِ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: ( (مَا قُلْتَ؟) ) قَالَ: فَأَعَدْتُّ عَلَيْهِ فَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ عَافِهِ أَوْ اشْفِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: اللَّهُمَّ اشْفِهِ بِدُونِ شَكٍّ) ) ) ، قَالَ: فَمَا اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ الْوَجَعَ بَعْدُ
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں بیمار تھا اور یہ کہہ رہا تھا: یا اللہ! اگر میری موت کا وقت آ چکا ہے تو (موت دے کر) مجھے راحت عطا فرما،اگر موت آنے میں دیر ہے تو مجھے اٹھا لے اور اگر یہ میری آزمائش ہے تو مجھے صبر کی توفیق عطا فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم نے کیا کہا ہے؟ جب میں نے اپنے الفاظ دہرائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا پاؤں مجھے مارا اور فرمایا: کیا کہا تم نے؟ میں نے پھر اپنے الفاظ دہرائے، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو عافیت دے۔ یا فرمایا کہ اے اللہ! اس کو شفا دے۔ ایک روایت میں شک کے بغیر صرف یہ الفاظ ہیں: اے اللہ! اس کو شفا دے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مجھے اس تکلیف کی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2995]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3564، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:637، 841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 637»
وضاحت: فائدہ: … معلوم ہواکہ کسی بیماری اور تکلیف سے گھبرا کر موت کی دعا کرنامنع ہے، اگرکوئی آدمی تنگ ہو کر ایسی دعا کرے تو اسے سمجھانا چاہئے اور اس کے لیے صحت اور شفا یابی کی دعا کرنی چاہئے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3564
حدیث نمبر: 2996
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَاتَتْ فُلَانَةُ وَاسْتَرَاحَتْ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ( (إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: مَنْ غُفِرَ لَهُ) ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت فوت ہو گئی ہے اور راحت پا گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں آگے اور فرمایا: صرف اور صرف راحت تو وہ پاتا ہے جو جنت میں داخل ہوتا ہے، دوسری روایت میں ہے: جس کو بخش دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2996]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن لھيعة، وان كان يحيي من قدماء أصحابه سماع قتيبة منه، تفرد برفعه، ومرسله ھو الصحيح أخرجه الطبراني في ’’الأوسط‘‘: 9375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:24399 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24903»
وضاحت: فوائد: … ہم کسی مرنے والے کسی نیک یا بد کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ راحت پا گیا ہے یا عذاب میں پھنس گیا ہے، کیونکہ اس چیز کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے کہ حقیقت میں کون نیک ہے، کون برا ہے اور کس کی نیکیاں قبول نہیں ہوئیں اور کس کی برائیاں معاف کر دی گئی ہیں۔ ہم حسن ظن یا سوئے ظن کی روشنی میں اپنے اندازے کا اظہار کر سکتے ہیں، نہ کہ حتمی نتیجے کا۔ بہرحال مرنے کے بعد جنت میں داخل ہونے والا حقیقی راحت پا جاتا ہے اور جس کو جنت نہیں ملتی وہ بڑی مصیبت سے دوچار ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن ہستیوں کا نام لے کر ان کے جنتی ہونے کی وضاحت کر دی، ان کے بارے میں بالیقین یہ کہنا درست ہے کہ وہ راحت پا گئی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف