🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ فَضْلِ طُولِ الْعُمُرِ مَعَ حُسْنِ الْعَمَلِ وَفَضْلِ مَنْ مَاتَ غَرِيبًا
نیک عمل والی طویل عمر اور اجنبیت والی موت مرنے والے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2997
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: ( (مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ) ) ، قَالَ: فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ: ( (مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ) )
سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بہتر آدمی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل اچھا ہو۔ اس نے پھر پوچھا: لوگوں میں سب سے برا آدمی کونسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل برا ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2997]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد فيه علي بن زيد بن جدعان أخرجه الترمذي: 2330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20415، 20491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20686»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل حدیث ِ مبارکہ سے لمبی زندگی کی قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ: أَنَّ رَجُلَیْنِ مِنْ بَلِیٍّ، وَھُوَ حَیٌّ مِنْ قُضَاعَۃَ، قُتِلَ أَحَدُھُمَا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَاُخِّرَ الآخَرُ بَعْدَہٗ سَنَۃً ثُمَّ مَاتَ، قَالَ طَلْحَۃُ: فَرَأَیْتُ فِی الْمَنَامِ الْجَنَّۃَ فُتِحَتْ، فَرَأَیْتُ الآخَرَ مِنَ الرَّجُلَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ الأَوَّلِ، فَتَعَجَّبْتُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَکَرْتُ ذٰلِکَ، فَبَلَّغْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِVفَقَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِV: ((أَلَیْسَ قَدْ صَامَ بَعْدَہٗ رَمَضاَنَ، وَصَلّٰی بَعْدَہٗ سِتَّۃَ آلآفِ رَکْعَۃٍ، وَکَذاَ وَکَذَا رَکْعَۃً لِصَّلَاۃِ السُّنَّۃِ۔)) (رواہ البیھقی فی ”الزھد“: ۷۳/۲، وأخرج ابن ماجہ: ۳۹۲۵، وابن حبان: ۲۴۶۶ نحوہ، لکن أتم منہ۔ وکذا رواہ احمد: ۱/ ۱۶۱، ۱۶۳، الصحیحۃ: ۲۵۹۱) ”طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قضاعہ کے بلی قبیلے کے دو آدمی تھے، ان میں ایک شہید ہو گیا اور دوسرااس سے ایک سال بعد فوت ہوا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے خواب آیا کہ جنت کا دروازہ کھولا گیا اور بعد میں فوت ہونے والا، شہید ہونے والے سے پہلے جنت میں داخل ہوا، مجھے بڑا تعجب ہوا۔ جب صبح ہوئی تو میں نے اس خواب کا تذکرہ کیا اور بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس نے (ایک سال پہلے شہید ہونے والے کے بعد)رمضان کے روزے نہیں رکھے اور ایک سال کی (فرضی نمازوں کی) چھ ہزار اور اس سے زائد اتنی اتنی نفل رکعتیں ادا نہیں کیں؟“

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2998
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِكُمْ؟) ) قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ أَعْمَالًا) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتلا دوں کہ تم میں سب سے بہتر آدمی کون ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جن کی عمریں طویل ہوں اور وہ اچھے عمل کرنے والے ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2998]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 254، والبزار: 1971، وابن حبان: 484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:7212 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7211»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 254
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2999
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا بَلَغَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَرْبَعِينَ سَنَةً آمَنَهُ اللَّهُ مِنْ أَنْوَاعِ الْبَلَاءِ مِنَ الْجُنُونِ وَالْبَرَصِ وَالْجُذَامِ، وَإِذَا بَلَغَ الْخَمْسِينَ لَيَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ حِسَابَهُ، وَإِذَا بَلَغَ السِّتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ إِنَابَةً، يُحِبُّهُ عَلَيْهَا، وَإِذَا بَلَغَ السَّبْعِينَ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، وَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنْهُ حَسَنَاتِهِ وَمَحَا عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ، وَإِذَا بَلَغَ التِّسْعِينَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَسُمِّيَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ وَشُفِّعَ فِي أَهْلِهِ
امام ہیثمی نے کہا: بزار نے اس حدیث کو دو سندوں کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے، ان میں سے ایک کے راوی ثقہ ہیں۔سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب مسلمان آدمی چالیس برس کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جنون، پھلبہری اور کوڑھ سے محفوظ کر دیتا ہے، جب وہ پچاس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کا حساب نرم کر دیتا ہے، جب وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اسے رجوع الی اللہ کی ایسی توفیق ملتی ہے کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے،جب وہ ستر سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے اور اہل آسمان بھی، جب اس کی عمر اسی سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول کرتا ہے اور اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور جب اس کی عمر نوے سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے اور زمین میں اللہ کا قیدی اس کا نام رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے اہل و عیال کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 2999]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا لضعف فرج بن فضالة، ومحمدُ بن عامر لم نعرف من ھو أخرجه مرفوعا البزار: 3587، ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5626»
وضاحت: فوائد: … ”اللہ کا قیدی“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ موت کا منتظر پھر رہا ہوتا ہے، اِس وقت آئی یا اُس وقت آئی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا لضعف فرج بن فضالة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3000
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ أَتَتْ عَلَيْهِ سِتُّونَ سَنَةً، فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ) )
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی عمر ساٹھ سال ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس کا عمر کے بارے میں عذر ختم کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3000]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6419، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:7713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 824»
وضاحت: فوائد: … ساٹھ سال عمر پانے والے لوگوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ یہ عمر اتنا لمبا پیریڈ ہے کہ اس میں سبق حاصل کرنے والے اپنے انجام بخیر کے اسباب جمع کر سکتے ہیں۔ اگر کسی شخص کے پاس حج وعمرہ کے اسباب ہوں، لیکن اس نے اِس عمر تک یہ فریضہ ادا نہ کیا ہو تو اسے سب سے پہلے اسی فریضہ کی تکمیل کرنی چاہیے۔ اس حدیث سے یہ اشارہ بھی ملتاہے کہ ساٹھ سال زندگی ختم ہونے کا مظنہ ہے، اس عمر کے بعد اچھے انداز میں موت کا انتظار ہونا چاہیے، ویسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَعْمَارُ أُمَّتِیْ مَا بَیْنَ السِّتِّیْنَ اِلَی السَّبْعِیْنَ وَأَقَلُّھُمْ مَنْ یَجُوْزُ ذَالِکَ۔)) (ترمذی:) یعنی: ”میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر برس کے درمیان درمیان ہیں، کم ہی لوگ ہیں جو اس مقدار سے تجاوز کریں گے۔“

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6419
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3001
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ) ) ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا تُوُفِّيَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک شخص فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ یہ آدمی اپنے جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور فوت ہوتا۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی دوسرے شہر میں فوت ہوتا ہے تو اس کے شہر سے مقامِ وفات تک کے برابر جگہ اسے جنت میں عطا کی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3001]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حيي بن عبد الله المعافري ضعيف أخرجه النسائي: 4/ 7، وابن ماجه: 1614، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6656»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہواکہ پردیس کی موت قابل افسوس نہیں بلکہ میت کے حق میں بہتر ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں