الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ مَنْ بُلِيَ وَرِفْقِهِ بِهِ وَسَتْرِهِ عَلَيْهِ وَثَوَابِ ذَلِكَ
میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے¤اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 3096
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَأَدَّى فِيهِ الْأَمَانَةَ، وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا يَكُونُ مِنْهُ عِنْدَ ذَلِكَ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ) ) ، وَقَالَ: ( (لِيَلِيهِ أَقْرَبُكُمْ مِنْهُ، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ، فَإِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ فَمَنْ تَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَهُ حَظًّا مِنْ وَرَعٍ وَأَمَانَةٍ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کو غسل دے، (اس سلسلہ کے تمام امور کی) ادائیگی میں امانت کا خیال رکھے اور میت کی (پردہ والی اور ناپسندیدہ چیزوں کا) افشا نہ کرے تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میت کا قریبی رشتہ دار اس کے امور کا ذمہ دار بنے، بشرطیکہ اسے (ان امور کا) علم ہو، وگرنہ جس کو تم تقوے اور امانت والا سمجھو (اس کو یہ ذمہ داری سونپ دو)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3096]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، ويحيي الجزارُ لم يذكروا له سماعا من عائشة أخرجه الطبراني في ’’الأوسط‘‘: 3599، والبيھقي: 3/ 396، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24881 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25393»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي
حدیث نمبر: 3097
عَنْ صَالِحٍ أَبِي حُجَيْرٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ خُدَيْجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا وَكَفَّنَهُ وَتَبِعَهُ وَوَلِيَ جُثَّتَهُ، رَجَعَ مَغْفُورًا لَهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي: لَيْسَ بِمَرْفُوعٍ
صحابی ٔ رسول سیّدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو شخص میت کو غسل اور کفن دے، پھر اس کے ساتھ جائے اور اس کے دفن کا اہتمام کرے تو بخشا بخشایا واپس آئے گا۔ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: یہ مرفوع نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3097]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال صالح أبي حجير بن حجير، ثم ان في سماع ثابت من صالح شكا، أشار اليه ابوزرعة العراقي في ’’ذيل الكاشف‘‘ أخرجه البخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 4/ 275، وابن سعد: 7/ 503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27800»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث حکماً مرفوع ہے، کیونکہ ایسی بات اپنی رائے سے نہیں کہی جا سکتی۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال صالح أبي حجير بن حجير
حدیث نمبر: 3098
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَبَضَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ وَحَفَرُوا لَهُ وَأَلْحَدُوا لَهُ وَصَلَّوْا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلُوا قَبْرَهُ فَوَضَعُوهُ عَلَيْهِ اللَّبِنَ ثُمَّ خَرَجُوا مِنَ الْقَبْرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَيْهِ التُّرَابَ، ثُمَّ قَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ! هَذِهِ سُنَّتُكُمْ
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فرشتوں نے آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کیا، پھر ان کو غسل دے کر کفن پہنایا اور خوشبو لگائی، بعد ازاں ان کی قبر کھودی اور لحد تیار کی۔ پھران کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کی قبر میں داخل ہوئے اور ان کو قبر میں اتار دیا، پھر اس پر اینٹیں رکھ کرقبر سے باہر آئے اور اس پر مٹی ڈال کر کہا: اے بنی آدم! تمہارے لیے مردوں کو دفن کرنے کا یہ طریقہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3098]
تخریج الحدیث: «ھذا حديث طويل، اسناده ضعيف، عتي بن ضمرة السعدي يضعف فيما يتفرد به لجھالته، وان وثقه بعضھم أخرجه الحاكم: 2/ 545، والطبراني في ’’الأوسط‘‘: 8257، والطيالسي: 549، وابن ابي شيبة: 3/ 243، والبيھقي: 3/ 404، وبعضھم يختصره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21560»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو موقوف اور ضعیف ہے، لیکن ہماری شریعت میں کفن و دفن کا یہی انداز مشروع ہے۔
الحكم على الحديث:
ھذا حديث طويل
حدیث نمبر: 3099
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) )
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں دوسرے آدمی پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3099]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2590، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9237»
وضاحت: فوائد: … پردہ ڈالنے سے مراد عیب کو چھپانا ہے، یہ حدیث اپنے عموم کی بنا پر زندہ اور میت دونوں کو شامل ہے، زندہ کے عیب کے بارے میں شرعی اصول یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کی اصلاح کے لیے ہر ممکنہ شرعی کوشش کی جائے گی، وگرنہ خاموشی، لیکن اگر اس عیب کی وجہ سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو گا، تو اسے آگاہ کیا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2590