الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ مَنْ بُلِيَ وَرِفْقِهِ بِهِ وَسَتْرِهِ عَلَيْهِ وَثَوَابِ ذَلِكَ
میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے¤اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 3097
عَنْ صَالِحٍ أَبِي حُجَيْرٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ خُدَيْجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا وَكَفَّنَهُ وَتَبِعَهُ وَوَلِيَ جُثَّتَهُ، رَجَعَ مَغْفُورًا لَهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي: لَيْسَ بِمَرْفُوعٍ
صحابی ٔ رسول سیّدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو شخص میت کو غسل اور کفن دے، پھر اس کے ساتھ جائے اور اس کے دفن کا اہتمام کرے تو بخشا بخشایا واپس آئے گا۔ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: یہ مرفوع نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3097]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال صالح أبي حجير بن حجير، ثم ان في سماع ثابت من صالح شكا، أشار اليه ابوزرعة العراقي في ’’ذيل الكاشف‘‘ أخرجه البخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 4/ 275، وابن سعد: 7/ 503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27800»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث حکماً مرفوع ہے، کیونکہ ایسی بات اپنی رائے سے نہیں کہی جا سکتی۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال صالح أبي حجير بن حجير
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3097 in Urdu