الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ صِفَةِ الْكَفَنِ لِلرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ وَفِي كَمْ ثَوْبٍ يَكُونُ
مرد اور عورت کے کفن کی کیفیت کا بیان، نیز وہ کتنے کپڑے ہونے چاہئیں
حدیث نمبر: 3114
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهَا: يَا بُنَيَّةُ! أَيُّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، قَالَ: فِي كَمْ كَفَّنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: يَا أَبَتِ! كَفَّنَّاهُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ جُدَدٍ يَمَانِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ أُدْرِجَ فِيهَا إِدْرَاجًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: بیٹی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال کس روز کو ہوا تھا؟ میں نے کہا: سوموار کو۔ پوچھا: آپ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے کہا: ابا جان! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین سفید نئے یمنی سحولی کپڑوں میں کفن دیا تھا، ان میں قمیص تھی نہ عمامہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان چادروں میں لپیٹ دیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3114]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الأوسط‘‘: 8369، وتوفيه يوم الأِثنين وكفنه في ثلاثة اثواب رواھما البخاري ومسلم عن عائشة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24869 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25381»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ تین چادریں بچھا دی جائیں اور ان کے اوپر میت کو رکھ کر ان کو اس پر لپیٹ دیا جائے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات میں بھی یہ وضاحت موجود ہے کہ اِن تین کپڑوں میں قمیص اور پگڑی نہیں تھی، جن روایات میں قمیص کا ذکر ہے، وہ یا تو ضعیف ہیں یا اس صحیح ترین حدیث کی مخالفت کی وجہ سے شاذ ہیں۔ کیا کفن کے لیے تین کپڑوںکا ہونا ضروری ہے؟ اس کا ذکر اگلے تین ابواب میں آ رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الأوسط‘‘: 8369
حدیث نمبر: 3115
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ: فِي قَمِيصِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَحُلَّةٍ نَجْرَانِيَّةٍ، الْحُلَّةُ ثَوْبَانِ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا، ایک قمیص تھی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تھے اور نجرانی حُلّہ (جوڑا) تھا، حلہ دو کپڑوں کا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3115]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، يزيد بن أبي زياد ضعيف أخرجه أبوداود: 3153، وابن ماجه: 1471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1942»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3116
وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بُرْدَيْنِ أَبْيَضَيْنِ وَبُرْدٍ أَحْمَرَ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سفید رنگ کی دو اور سرخ رنگ کی ایک چادر میں کفن دیا گیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3116]
تخریج الحدیث: «حسن، محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلي قد توبع أخرجه البيھقي: 3/ 400، والطبراني: 12056، وعبد الرزاق: 6166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2284، 2861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2863»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل حدیث کی روشنی میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی مندرجہ بالا حدیث کو سمجھا جا سکتا ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روئی کے بنے ہوئے سفید رنگ کے تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا، ان میں کوئی قمیص یا پگڑی نہیں تھی، رہا مسئلہ لوگوں کے اس قول کا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حلّہ میں کفن دیا گیا، تو یہ ایک شبہ کا نتیجہ ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن دینے کے لیے حلّہ خریدا تو گیا تھا، لیکن پھر اسے ترک کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید رنگ کے تین سحولی کپڑوں میں کفن دے دیا گیا۔
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 3117
عَنِ ابْنَةِ أُهْبَانَ أَنَّ أَبَاهَا أَمَرَ أَهْلَهُ حِينَ ثَقُلَ أَنْ يَكَفِّنُوهُ وَلَا يُلْبِسُوهُ قَمِيصًا، قَالَتْ: فَأَلْبَسْنَاهُ قَمِيصًا، فَأَصْبَحْنَا وَالْقَمِيصُ عَلَى الْمِشْجَبِ
بنت اہبان سے روایت ہے کہ جب ان کے والد مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے اپنے اہل و عیال کو وصیت کی کہ وہ ان کو کفن دیں اورقمیص نہ پہنائیں۔ وہ کہتی ہیں: مگر ہم نے ان کو قمیص پہنا دیا، لیکن جب صبح ہوئی تو (کیا دیکھتے ہیں کہ) قمیص کھونٹی پرموجود تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3117]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الطبراني: 864، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20671 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20947»
وضاحت: فوائد: … اس میں سیّدنا اہبان رضی اللہ عنہ کی منقبت کا بیان ہے کہ گھر والوں نے ان کی وصیت کو نافذ کرنے سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت دی اور ان کی وصیت کی تکمیل کے باطنی اسباب پیدا کر دیئے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه الطبراني: 864
حدیث نمبر: 3118
عَنْ لَيْلَى ابْنَةِ قَانِفٍ الثَّقَفِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ فِيمَنْ غَسَّلَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عِنْدَ وَفَاتِهَا وَكَانَ أَوَّلَ مَا أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّهِ الْحِقَاوَيْنِ، ثُمَّ الدِّرْعُ، ثُمَّ الْخِمَارُ، ثُمَّ الْمِلْحَفَةُ، ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِي الثَّوْبِ الْآخِرِ، قَالَتْ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَابِ مَعَهُ كَفَنُهَا يُنَاوِلُنَا ثَوْبًا ثَوْبًا
سیدہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں ان عورتوں میں شامل تھی، جنہوں نے سیدہ ام کلثوم بنت رسول رضی اللہ عنہا کو ان کی وفات کے موقع پر غسل دیا تھا۔ ان کے کفن کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے ہمیں اپنے تہبند کی چادر دی،اس کے بعد بالترتیب قمیص، دوپٹہ اور ایک بڑی چادر دی، پھر ان کو ایک اور کپڑے میں لپیٹ دیا گیا۔سیدہ لیلیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ان کا کفن تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایک کر کے یہ کپڑے ہمیں پکڑا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3118]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة نوح بن حكيم الثقفي، وأما الرجل الذي يقال له داود، فالله اعلم من ھو أخرجه ابوداود: 3157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27676»
وضاحت: فوائد: … چونکہ یہ پانچ کپڑوں والی حدیث ضعیف ہے، اس لیے عورت کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تین کپڑوں میں ہی کفن دیا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة نوح بن حكيم الثقفي
حدیث نمبر: 3119
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ (عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَبْعَةِ أَثْوَابٍ
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سات کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3119]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتفرد عبد الله بن محمد بن عقيل به، ولمخالفته الحديث الصحيح الذي رواه البخاري ومسلم عن عائشة C ان رسول اللهV كفِّن في ثلاثة أثواب يمانية بيض سحولية من كرسف۔ والقول الفصل في عبد الله بن محمد بن عقيل ما قال ابن حجر في ’’التلخيص الحبير‘‘ أنه سيء الحفظ يصلح حديثه للمتابعات، فأما اذا انفرد فيحسن، وأما اذا خالف فلايقبل۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 262، والبزار: 646، وابن سعد: 2/ 287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 728، 801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 728»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لتفرد عبد الله بن محمد بن عقيل به