🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. باب غَزْوَةِ الأَحْزَابِ:
باب: غزوہ احزاب یعنی جنگ خندق کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1788 ترقیم شاملہ: -- 4640
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَن جَرِيرٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُ مَعَهُ وَأَبْلَيْتُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنْتَ كُنْتَ تَفْعَلُ ذَلِكَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ، وَأَخَذَتْنَا رِيحٌ شَدِيدَةٌ وَقُرٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ، فَقَالَ: قُمْ يَا حُذَيْفَةُ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ، فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِي بِاسْمِي أَنْ أَقُومَ، قَالَ: اذْهَبْ فَأْتِنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ "، فَلَمَّا وَلَّيْتُ مِنْ عِنْدِهِ جَعَلْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ حَتَّى أَتَيْتُهُمْ، فَرَأَيْتُ أَبَا سُفْيَانَ يَصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ، فَوَضَعْتُ سَهْمًا فِي كَبِدِ الْقَوْسِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ وَلَوْ رَمَيْتُهُ لَأَصَبْتُهُ، فَرَجَعْتُ وَأَنَا أَمْشِي فِي مِثْلِ الْحَمَّامِ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَفَرَغْتُ قُرِرْتُ، فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِ عَبَاءَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا، فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحْتُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، قَالَ: قُمْ يَا نَوْمَانُ ".
ابراہیم تیمی کے والد (یزید بن شریک) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ایک آدمی نے کہا: اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کو پا لیتا تو آپ کی معیت میں جہاد کرتا اور خوب لڑتا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم ایسا کرتے؟ میں نے غزوہ احزاب کی رات ہم سب کو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمیں تیز ہوا اور سردی نے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسا مرد ہے جو مجھے (اس) قوم (کے اندر) کی خبر لا دے؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو میرے ساتھ رکھے! ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: کوئی شخص ہے جو میرے پاس ان لوگوں کی خبر لے آئے؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو میرے ساتھ رکھے! ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ہے کوئی شخص جو ان لوگوں کی خبر لا دے؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو میری رفاقت عطا فرمائے! ہم خاموش رہے، ہم میں سے کسی نے کوئی جواب نہ دیا، آپ نے فرمایا: حذیفہ! کھڑے ہو جاؤ اور تم مجھے ان کی خبر لا کے دو۔ جب آپ نے میرا نام لے کر بلایا تو میں نے اُٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہ پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ ان لوگوں کی خبریں مجھے لا دو اور انہیں میرے خلاف بھڑکا نہ دینا۔ (کوئی ایسی بات یا حرکت نہ کرنا کہ تم پکڑے جاؤ، اور وہ میرے خلاف بھڑک اٹھیں) جب میں آپ کے پاس سے گیا تو میری حالت یہ ہو گئی جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں، (پسینے میں نہایا ہوا تھا) یہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچا، میں نے دیکھا کہ ابوسفیان اپنی پشت آگ سے سینک رہا ہے، میں نے تیر کو کمان کی وسط میں رکھا اور اس کو نشانہ بنا دینا چاہا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا کہ انہیں میرے خلاف بھڑکا نہ دینا (کہ جنگ اور تیز ہو جائے) اگر میں اس وقت تیر چلا دیتا تو وہ نشانہ بن جاتا، میں لوٹا تو (مجھے ایسے لگ رہا تھا) جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں، پھر جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو ان لوگوں کی (ساری) خبر بتائی اور میں فارغ ہوا تو مجھے ٹھنڈ لگنے لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اپنی اس) عبا کا بچا ہوا حصہ اوڑھا دیا جو آپ (کے جسم اطہر) پر تھی، آپ اس میں نماز پڑھ رہے تھے۔ میں (اس کو اوڑھ کر) صبح تک سوتا رہا، جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: اے خوب سونے والے! اُٹھ جاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4640]
ابراہیم تیمی اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تھے تو ایک آدمی نے کہا، اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جنگ میں شریک ہوتا اور خوب جوہر دکھاتا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا تو یہ کام کرتا؟ واقعہ یہ ہے، ہم نے اپنے آپ کو احزاب کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں دیکھا کہ سخت ہوا اور سردی سے ہم دوچار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی آدمی ہے جو مجھے دشمن کے حالات معلوم کر کے بتائے، اللہ قیامت کے دن اسے میری رفاقت نصیب کرے گا؟ تو ہم سب خاموش ہو گئے، ہم میں سے کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب نہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: کیا کوئی آدمی ہے، جو ہمیں دشمن کے بارے میں معلومات فراہم کرے، اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ عنایت فرمائے گا؟ تو ہم خاموش ہو گئے اور ہم میں سے کسی نے آپ کو جواب نہ دیا، پھر آپ نے تیسری بات فرمایا، کیا کوئی مرد ہے، جو ہمارے پاس ان لوگوں کے حالات معلوم کر کے لائے، اللہ اسے قیامت کے دن میری معیت نصیب کرے گا؟ تو ہم خاموش ہو گئے اور ہم میں سے کسی نے آپ کو جواب نہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حذیفہ، ہمیں ان لوگوں کے بارے میں معلومات پہنچاؤ۔ تو میرے لیے جانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر کہا کہ میں اٹھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، میرے پاس ان کے بارے میں معلومات حاصل کر کے آؤ اور انہیں میرے خلاف نہ بھڑکانا۔ تو جب میں آپ کے پاس سے چل پڑا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں حمام میں چل رہا ہوں حتی کہ میں ان کے پاس پہنچ گیا تو میں نے ابو سفیان کو دیکھا کہ وہ آگ سے اپنی پشت تاپ رہا ہے تو میں نے کمان کے درمیان تیر رکھ لیا اور اس کو نشانہ بنانا چاہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آگیا، انہیں میرے خلاف نہ بھڑکانا۔ اگر میں اس پر تیر پھینکتا تو وہ نشانہ پر لگتا تو میں واپس لوٹا اور مجھے یوں لگ رہا تھا، جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں تو جب میں آپ کے پاس پہنچا اور آپ کو ان لوگوں کے حالات سے آگاہ کر کے فارغ ہوا تو مجھے سردی لگنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس چادر (کمبلی) کا زائد حصہ پہنایا، (مجھ پر ڈال دیا) جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تو میں صبح تک سویا رہا تو جب صبح ہو گئی تو آپ نے فرمایا: اٹھ، اے سوتڑ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4640]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1788
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں