🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ بَعْدَ الدَّفْنِ
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3168
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ إِنْسَانًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَسْوَدَ، مَاتَ أَوْ مَاتَتْ، فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (مَا فَعَلَ الْإِنْسَانُ الَّذِي كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ؟) ) ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: مَاتَ، قَالَ: ( (فَهَلَّا أَذِنْتُمُونِي بِهِ؟) ) ، فَقَالُوا: بِأَنَّهُ كَانَ لَيْلًا، قَالَ: ( (فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهَا) ) ، قَالَ: فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهَا، قَالَ ثَابِتٌ عِنْدَ ذَلِكَ أَوْ فِي حَدِيثٍ آخَرَ: ( (إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسجد میں جھاڑ و دینے والا ایک سیاہ فام آدمی تھا یا عورت تھی، وہ فوت ہو گیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ نظر نہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: مسجد کی صفائی کرنے والے کا کیا بنا؟ کسی نے کہا کہ وہ تو فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟ صحابہ نے کہا: یہ رات کا واقعہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی قبر کی طرف میری رہنمائی کرو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر پر تشریف لے گئے اور نمازجنازہ ادا کی۔ اس حدیث کے راوی ثابت نے یہ یا کوئی اور حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں، میری اس نماز کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو منور کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3168]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 458، 460، 1337، ومسلم: 956، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8634، 9037 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9025»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 458
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3169
عَنْ أَنَسِ (بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ أَسْوَدَ كَانَ يُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ، فَدُفِنَ لَيْلًا وَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ فَقَالَ: ( (انْطَلِقُوا إِلَى قَبْرِهِ) ) ، فَانْطَلَقُوا إِلَى قَبْرِهِ، فَقَالَ: ( (إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مُمْتَلِئَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا) ) ، فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَخِي مَاتَ وَلَمْ تُصَلِّ عَلَيْهِ، قَالَ: فَأَيْنَ قَبْرُهُ؟ فَأَخْبَرَهُ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْأَنْصَارِيِّ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام آدمی مسجد کی صفائی کیا کرتا تھا، وہ رات کو فوت ہو گیا اور اسے رات کو ہی دفن کر دیا گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو اس کی قبر کی طرف، یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ان پر میری نماز کی وجہ سے روشن کر دیتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی قبر کے پاس آئے اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ ایک انصاری صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بھائی فوت ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس کی قبر کہاں ہے؟ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3169]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الدارقطني: 2/ 77، والطيالسي: 2446۔ وأخرجه مختصرا مسلم: 955 بلفظ: ان النبيV صلي علي قبر۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12318، 12517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12445»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه الدارقطني: 2/ 77
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3170
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ قَدْ دُفِنَتْ
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دفن کر دی جانے والی ایک عورت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3170]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق 177 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12343»

الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق 177 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12343
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3171
عَنْ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا وَرَدْنَا الْبَقِيعَ إِذَا هُوَ بِقَبْرٍ جَدِيدٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقِيلَ فُلَانَةٌ، فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: ( (أَلَا أَذِنْتُمُونِي بِهَا؟) ) ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنْتَ قَائِلًا صَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِنَكَ، فَقَالَ: ( (لَا يَمُوتَنَّ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا أَذِنْتُمُونِي بِهِ فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ لَهُ رَحْمَةٌ؟) ) ، قَالَ: ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ فَصَفَّنَا خَلْفَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا
سیّدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے، جب ہم بقیع میں پہنچے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں ایک نئی قبر دیکھ کر اس کے متعلق پوچھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ فلاں عورت کی قبر ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پہچان لیا اور پھر پوچھا: تم نے مجھے اس کے بارے میں بتلایا کیوں نہیں تھا؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ روزے کی حالت میں تھے اور قیلولہ کر رہے تھے، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دینا مناسب نہ سمجھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ایسے نہ کیا کرو،) جب بھی تم میں سے کوئی فوت ہو جائے اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں تو مجھے ضرور اطلاع دیا کرو، کیونکہ کسی میت پر میرا نماز جنازہ ادا کرنا اس کے لیے باعث ِ رحمت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں اپنے پیچھے صفوں میں کھڑا کیا اور چار تکبیرات کہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3171]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اِن ثبت سماع خارجة بن زيد من عمه يزيد بن ثابت، والا فمنقطع أخرجه ابن ماجه: 1528، والنسائي: 4/ 84، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19681»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اس طرح قبر پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا مسنون عمل ہے، نیز یہ بھی پتہ چلا کہ ایک آدمی ایک سے زائد دفعہ بھی نماز جنازہ ادا کر سکتا ہے، کیونکہ جن صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جنازہ پڑھی، یقینا وہ پہلے پڑھ چکے ہوںگے، کیونکہ وہی اس میت کو دفنانے والے تھے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح اِن ثبت سماع خارجة بن زيد من عمه يزيد بن ثابت
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3172
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى صَاحِبِ قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قبر والے پر اس کی تدفین کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3172]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1247، 1319، 1321، 1322، 1326، 1340، ومسلم: 954، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1962، 3136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1962»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1247
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3173
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ، فَأَمَّهُمْ وَصَفُّوا خَلْفَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو! وَمَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
(دوسری سند) امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے ایک ایسے آدمی نے خبر دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کی امامت کرائی اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں۔ سلیمان شیبانی نے کہا: اے ابو عمرو! آپ کو یہ واقعہ کس نے بیان کیا تھا؟ انھوں نے کہا: سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3173]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3134»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ دفن کر دی جانے والی میت پر بھی نماز جنازہ ادا کی جا سکتی ہے، اگرچہ اس کی نماز جنازہ پہلے پڑھی جا چکی ہو، کیونکہ درج بالا صورتوں میں صحابہ کرام نے نماز جنازہ پڑھ کر ہی ان لوگوںکو دفنایا تھا، اس ضمن میں مخصوص قیدوں کی شرط لگانا باطل ہے، مثلا: تدفین سے تیسرے دن تک نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے، یا ایک ماہ تک، یا جب تک کہ جسم تر نہ ہو جائے، یا جب تک جسم مٹی نہ بن جائے۔ اسی طرح نماز جنازہ کی اس صورت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص کر دینا بھی درست نہیں ہے، کیونکہ اس خصوصیت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3134
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں