🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ عَدَدِ تَكْبِيرِ صَلَاةِ الْجَنَازَةِ وَمَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ مِنْهَا
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3174
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ لِأَصْحَابِهِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّوْا خَلْفَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ کرام کو نجاشی کی وفات کی خبر دی، پھر صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نمازِ جنازہ ادا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے چار تکبیرات کہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3174]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1327، 1328، ومسلم: 951، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7763»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1327
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3175
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كَبِّرُوا عَلَى مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ) )
سیّدنا جابر بن عبدا للہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دن ہو یا رات، تم اپنے مردوں پر نماز پڑھتے ہوئے چار تکبیرات کہا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3175]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14617 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14672»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے چارتکبیرات ثابت ہیں۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3176
عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنِ قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو سَرِيحَةَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا، وَقَالَ: كَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابو سلمان موذن سے روایت ہے کہ ابوسریحہ(حذیفہ بن اسید)فوت ہو گئے اور سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور اس میں چار تکبیرات کہیں اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3176]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف شريك بن عبد الله النخعي، وجھالة حال أبي سلمان المؤذن أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 4995، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 1/ 494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19516»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، اس کی مزید وضاحت اگلی حدیث سے ہو گی، بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے چار تکبیرات ثابت ہیں۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3177
عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا أَوْ كَبَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: سیّدنازید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں میں چار تکبیرات کہا کرتے تھے، ایک جنازہ میں انہوں نے پانچ تکبیرات کہہ دیں، جب لوگوں نے اس کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح تکبیرات کہا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3177]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 957، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19272، 19320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19487»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 957
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3178
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو عَيْسَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَقَالَ: نَسِيتَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ خَمْسًا فَلَا أَتْرُكُهَا
(دوسری سند) عبد الاعلی کہتے ہیں:میں نے سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز جنازہ ادا کی،انہوں نے پانچ تکبیرات کہیں، ابو عیسیٰ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ان کی طرف گئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا آپ بھول گئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، میں نے اپنے خلیل ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی پانچ تکبیرات کہی تھیں، لہٰذا میں اس عمل کو ترک نہیں کروں گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3178]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الاعلي بن عامر الثعلبي قد اتفقوا علي ضعفه أخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 1 494، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 1844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:19300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19515»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3179
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرِ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عِيسَى مَوْلَى لِحُذَيْفَةَ (بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) بِالْمَدَائِنِ عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: مَا وَهَمْتُ، وَلَا نَسِيتُ وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ مَوْلَايَ وَوَلِيُّ نِعْمَتِي حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَكَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: مَا نَسِيتُ وَلَا وَهَمْتُ وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا
یحییٰ بن عبد اللہ کہتے ہیں:میں نے مدائن میں سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے غلام عیسیٰ کی اقتدا میں نماز جنازہ ادا کی، انہوں نے پانچ تکبیرات کہیں، پھرہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: مجھے وہم ہوا ہے نہ میں بھولا ہوں، میں نے تو اسی طرح تکبیرات کہی ہیں، جس طرح میرے آقا سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہی تھیں، انہوں نے ایک جنازہ پڑھا اور پانچ تکبیرات کہیں، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا: میں بھولا ہوں نہ مجھے وہم ہوا ہے، بات یہ ہے کہ میں نے اسی طرح تکبیرات کہی ہیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ تکبیرات کہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3179]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، يحيي بن عبد الله التيمي مختلف فيه، ولم يتابع علي حديثه ھذا، وعيسي مولي حذيفة البزاز ضعفه الدارقطني أخرجه الخطيب في ’’تاريخ بغداد‘‘: 11/ 142، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 1/ 494، والدارقطني: 2/ 73، و أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 303 مقتصرا علي فعل حذيفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23448 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23841»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3180
عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَامَ عَلَى جَنَازَةِ بِنْتٍ لَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ قَامَ هُنَيَّةً، فَسَبَّحَ بَعْضُ الْقَوْمِ فَانْفَتَلَ فَقَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي أُكَبِّرُ الْخَامِسَةَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ الرَّابِعَةَ قَامَ هُنَيَّةً، فَلَمَّا وَضِعَتْ الْجَنَازَةُ جَلَسَ وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ
ابراہیم ہجری کہتے ہیں کہ سیّدناعبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیرات کہیں، پھر کچھ دیر کے لیے کھڑے رہے۔ جب بعض مقتدیوں نے سبحان اللہ کہہ کر لقمہ دیا تو انہوں نے سلام پھیر کر کہا: کیا تمہارا یہ خیال تھا کہ میں پانچویں تکبیر کہنے والا ہوں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چوتھی تکبیر کہہ لیتے تو کچھ دیر اسی حالت میں کھڑے رہتے، پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ بیٹھ گئے اور ہم بھی اس کے پاس بیٹھ گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3180]
تخریج الحدیث: «ضعيف لضعف علي بن عاصم والواسطي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19637»
وضاحت: فوائد: … امام احمدkنے تکبیرات کی مختلف تعداد پر مشتمل روایات کا احاطہ نہیں کیا، اس موضوع کی تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز جنازہ میں کم از کم تکبیرات کی تعداد چار ہے اور زیادہ سے زیادہ نو ہے، زیادہ تر احادیث میں چار تکبیرات کا ہی ذکر ہے۔چار اور پانچ تکبیرات کے دلائل تو اوپر گزر چکے ہیں، باقی تعداد درج ذیل مرفوع اور موقوف روایات سے ثابت ہوتی ہے۔سیّدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں نو تکبیرات کہیں۔ (معانی الآثار للطحاوی: ۱/ ۲۹۰)

الحكم على الحديث: ضعيف لضعف علي بن عاصم والواسطي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں