🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ وَذِكْرِ مَسَاوِئِهِمْ
مردوں کو برا بھلا کہنے اور ان کی خامیوں کو یاد کرنے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3245
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مردوں کو برا بھلا نہ کہا کرو کیونکہ وہ اپنے کیے ہوئے اعمال تک پہنچ چکے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3245]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1393، 6516، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25984»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1393
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3246
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو گالی دینے سے منع فرمایا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3246]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 1982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18208، 18209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18395»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 1982
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3247
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ) )
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مردوں کو برا بھلا نہ کہا کرو، اس طرح سے زندگان کو تکلیف دو گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3247]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18397»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18397
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3248
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا) )
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے مردوں کو برا بھلا نہ کہا کرو، اس طرح ہمیں تکلیف پہنچاؤ گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3248]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الاعلي بن عامر الثعلبي ضعفه احمد و ابوزرعة وابوحاتم والنسائي وابن معين وغيرھم أخرجه النسائي: 8/ 33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2734»
وضاحت: فوائد: … لیکن یہ حدیث شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3249
عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ
قطبہ بن مالک کہتے ہیں کہ جب سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیّدناعلیؓ کے بارے میں کچھ نازیبا کلمات کہے تو سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں کو برا بھلا کہنے سے منع کیا کرتے تھے، لہٰذا تم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کیوں کہتے ہو، جبکہ وہ وفات پا چکے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3249]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حجاج مولي بني ثعلبة أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 4975، والحاكم: 1/ 384، وابن ابي شيبة: 3/ 366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19503»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی اور اس موضوع کی دیگر کئی احادیث میں مردوں کو برا بھلا کہنے سے روکا گیا ہے، جبکہ گزشتہ باب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بعض مردوں کو برا بھلا کہا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، امام نووی نے اس ظاہری تناقض میں جمع و تطبیق کی یہ صورت پیش کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مردوں کو گالیاں دینے سے منع فرمایا ہے، ان سے مراد وہ لوگ ہیں، جو منافق، کافر اور فسق یا بدعت کا اظہارکرنے والے نہ ہوں، وگرنہ ایسے بروں کا برا تذکرہ کرنا تو جائز ہے، تاکہ دوسرے لوگ ان کی اقتداء کرنے سے باز رہیں۔

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں