🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ وَذِكْرِ مَسَاوِئِهِمْ
مردوں کو برا بھلا کہنے اور ان کی خامیوں کو یاد کرنے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3249
عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ
قطبہ بن مالک کہتے ہیں کہ جب سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیّدناعلیؓ کے بارے میں کچھ نازیبا کلمات کہے تو سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں کو برا بھلا کہنے سے منع کیا کرتے تھے، لہٰذا تم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کیوں کہتے ہو، جبکہ وہ وفات پا چکے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3249]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حجاج مولي بني ثعلبة أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 4975، والحاكم: 1/ 384، وابن ابي شيبة: 3/ 366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19503»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی اور اس موضوع کی دیگر کئی احادیث میں مردوں کو برا بھلا کہنے سے روکا گیا ہے، جبکہ گزشتہ باب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بعض مردوں کو برا بھلا کہا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، امام نووی نے اس ظاہری تناقض میں جمع و تطبیق کی یہ صورت پیش کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مردوں کو گالیاں دینے سے منع فرمایا ہے، ان سے مراد وہ لوگ ہیں، جو منافق، کافر اور فسق یا بدعت کا اظہارکرنے والے نہ ہوں، وگرنہ ایسے بروں کا برا تذکرہ کرنا تو جائز ہے، تاکہ دوسرے لوگ ان کی اقتداء کرنے سے باز رہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3249 in Urdu