🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. اخْتِيَارُ اللَّحْدِ عَلَى الشَّقِّ وَتَعْمِيقِ الْقَبْرِ وَتَوْسِيعِهِ وَدَفْنِ الْاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ إِذَا اقْتَضَى الْحَالُ ذَالِكَ
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق¤دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3250
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الْإِسْلَامَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ فَوَقَصَهُ بَعِيرُهُ فَمَاتَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا، قَالَهَا حَمَّادٌ، ثَلَاثًا، اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا) )
سیّدنا جریر بن عبداللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے آکر اسلام قبول کیا، ایک سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے اسلام کی تعلیم دیتے رہے، چلتے چلتے اس کے اونٹ کا پاؤں ایک قسم کے چھوٹے چوہے کے بل پر جا پڑا، جس کہ وجہ سے وہ اونٹ سے گر کر فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی میت کے پاس آئے اور فرمایاـ: اس نے عمل تو تھوڑا کیا، لیکن ثواب بہت زیادہ پا لیا۔)) حماد راوی نے یہ جملہ تین دفعہ دہرایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3250]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه أخرجه ابن ماجه:1555، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19158، 19159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19371»

الحكم على الحديث: حديث حسن بطرقه أخرجه ابن ماجه:1555
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3251
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، قَالَ: فَقَالَ: ( (الْحَدُوا، وَلَا تَشُقُّوا، فَإِنَّ اللَّحْدَ لَنَا وَالشَّقَّ لِغَيْرِنَا) )
(دوسری سند) اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور فرمایا: بغلی قبر بناؤ، شق نہ بناؤ، کیونکہ لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3251]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19390»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19390
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3252
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِأَهْلِ الْكِتَابِ) )
۔ (تیسر ی سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لحد ہمارے لیے ہے اور شق اہل کتاب کے لیے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3252]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19426»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے لحد افضل ہے، اگرچہ شق بھی جائز ہے، کیونکہ مدینہ میں لحد بنانے والا اور شق بنانے والا دونوں آدمی موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو برقرار رکھا ہوا تھا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کے موقع پر صحابہ نے آپس میں یہ مشورہ کیا تھا کہ ان دو میں جو پہلے پہنچے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اسی کے عمل کو ترجیح دی جائے گی،چنانچہ لحد بنانے والا پہلے پہنچ گیا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لحد بنایا گیا۔ امام نووی نے کہا: اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ لحد اور شق دونوں میں میت کو دفن کرنا جائز ہے۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19426
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3253
عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ( (احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَأَعْمِقُوا) وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ) ) ، قَالُوا: فَأَيُّهُمْ نُقَدِّمُ؟ قَالَ: ( (أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا) ) ، قَالَ: فَقُدِّمَ أَبِي عَامِرٍ بَيْنَ يَدَي رَجُلٍ أَوْ اثْنَيْنِ
سیّدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: غزوہ احد والے دن انصاری صحابہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم بہت زخمی اور تھکے ہوئے ہیں، (اب ان شہداء کی تدفین کے بارے میں) آپ ہمیں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبریں کھودو اور ان کو وسیع اور گہرا کرو، اور دو دو اور تین تین آدمی ایک ایک قبر میں دفنا دو۔ انھوں نے کہا: ہم ان میں سے کس کو مقدم کر کے رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے زیادہ قرآن یاد ہو۔ ہشام کہتے ہیں: چنانچہ میرے والدعامر کو ایک یا دو آدمیوں سے آگے رکھا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3253]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3215، والترمذي: 1713، وابن ماجه:1560، والنسائي: 4/ 83، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16367»

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3215
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3254
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا الاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا (وَفِي رِوَايَةٍ أَكْثَرَهُمْ أَخَذًا لِلْقُرْآنِ) وَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقُدِّمَ) )
(دوسری سند) سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے والد غزوہ احد والے دن شہید ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبریں کھودو، وسیع کرو اور ان کو اچھا بناؤ اور دو دو، تین تین افراد کو ایک ایک قبر میں دفن کرو اور جس کو زیادہ قرآن یاد ہو، اسے آگے کی طرف رکھو۔ میرے باپ تین افراد میں سے تیسرے تھے، چونکہ ان کو قرآن زیادہ یاد تھا، اس لیے ان کو مقدم کر کے رکھا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3254]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16369»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ مجبوری کے وقت دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفن کرنا جائز ہے، جیسے زمین کا تنگ ہونا، کھودنے والوں پر شاق گزرنا، وغیرہ۔ نیز قبر گہری، وسیع اور خوبصورت ہونی چاہیے۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16369
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3255
عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَنَا غُلامٌ مَعَ أَبِي فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَفِيرَةِ الْقَبْرِ فَجَعَلَ يُوصِي الْحَافِرَ وَيَقُولُ: ( (أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرَّأْسِ وَأَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرِّجْلَيْنِ، لَرُبَّ عِذْقٍ لَهُ فِي الْجَنَّةِ) )
ایک انصاری صحابی بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازہ میں نکلے، میں چھوٹا لڑکا تھا اور اپنے والد کے ہمراہ گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے گڑھے کے قریب بیٹھ گئے اور قبر بنانے والے سے فرمانے لگے: سر کی طرف سے قبر کو کھلا کرو، پاؤں کی طرف وسیع کرو، جنت میں اس میت کے لیے کھجور کے بہت سے خوشے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3255]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي أخرجه ابوداود: 3332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22509، 23465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23859»

الحكم على الحديث: اسناده قوي أخرجه ابوداود: 3332
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3256
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: الْحَدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَيَّ اللَّبِنَ نَصْبًا كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ میرے لیے لحد بنانا اور میرے اوپر اسی طرح کچی اینٹیں رکھ دینا،جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3256]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 966، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1450»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 966
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں