الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. اخْتِيَارُ اللَّحْدِ عَلَى الشَّقِّ وَتَعْمِيقِ الْقَبْرِ وَتَوْسِيعِهِ وَدَفْنِ الْاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ إِذَا اقْتَضَى الْحَالُ ذَالِكَ
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق¤دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: Q3250]
حدیث نمبر: 3250
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الْإِسْلَامَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ فَوَقَصَهُ بَعِيرُهُ فَمَاتَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا، قَالَهَا حَمَّادٌ، ثَلَاثًا، اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا) )
سیّدنا جریر بن عبداللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے آکر اسلام قبول کیا، ایک سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے اسلام کی تعلیم دیتے رہے، چلتے چلتے اس کے اونٹ کا پاؤں ایک قسم کے چھوٹے چوہے کے بل پر جا پڑا، جس کہ وجہ سے وہ اونٹ سے گر کر فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی میت کے پاس آئے اور فرمایاـ: اس نے عمل تو تھوڑا کیا، لیکن ثواب بہت زیادہ پا لیا۔)) حماد راوی نے یہ جملہ تین دفعہ دہرایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3250]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه أخرجه ابن ماجه:1555، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19158، 19159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19371»
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه أخرجه ابن ماجه:1555
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3250 in Urdu