🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّفْنِ لَيْلًا وَبَيَانِ الْأَوْقَاتِ الْمَنْهِيِّ عَنِ الدَّفْنِ فِيهَا
میت کو رات کودفن کرنے کااور ان اوقات کا بیان جن میں تدفین منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3263
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: تُوُفِّي رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ فَقُبِرَ لَيْلًا، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ لَيْلًا حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَضْطَرُّوا إِلَى ذَلِكَ
سیّدنا جابربن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بنو عذرہ خاندان کا ایک آدمی رات کو فوت ہوا اور اسے رات کو ہی دفن کر دیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو دفن کرنے سے منع فرما دیا، جب تک اس کی نماز جنازہ ادا نہ کر لی جائے، الا یہ کہ لوگ (رات کو دفن) کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3263]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 943، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14145، 15287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15361»
وضاحت: فوائد: … سیّدناجابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کا ذکر کیا، وہ فوت ہو گیا تھا، اسے ردی سا کفن دے کر رات کو دفن کر دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ڈانٹ دیا کہ بندے کو رات کو دفن کیا جائے، جب تک اس کی نماز جنازہ ادا نہ کر لی جائے، الا یہ کہ کوئی آدمی ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے۔ (صحیح مسلم)

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 943
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3264
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْتُ صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبَعَاءِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَالْمَسَاحِي الْمَرُورُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن ہو جانے کا اس وقت علم ہوا کہ جب ہم نے بدھ والی رات کے آخری حصے میں بیلچوں وغیرہ کی آوازیں سنیں۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: اَلْمَسَاحِیْ کا معنی بیلچہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24837»
وضاحت: فوائد: … لفظ اَلْمَسَاحِیْ کے یہ دو معنی بیان کیے گئے ہیں، ممکن ہے کہ ابن اسحاق کی مراد بیلچوں وغیرہ کی آواز ہو، بہرحال مفہوم ایک ہی بنتا ہے۔

الحكم على الحديث: حديث محتمل للتحسين أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 347
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3265
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ يَنْهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهَا أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَايَفَتْ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ
سیّدناعقبہ بن عامر جھنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ان تین اوقات میں نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا: (۱) جب سورج طلوع ہو رہا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، (۲) جب دوپہر کے وقت کھڑا ہو جانے والا کھڑا ہو جائے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور (۳) جب سورج غروب ہونے کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ وہ غروب ہو جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3265]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 831، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17512»
وضاحت: فوائد: … دوسری صورت سے مراد زوال کا وقت ہے، جب سورج کے وسطِ آسمان میں پہنچ جانے کی وجہ سے بظاہر کسی چیز کا سایہ مغرب اور مشرق کی طرف نظر نہیں آ رہا ہوتا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز فجر اور نماز عصر کے بعد نماز جنازہ جیسی سببی نماز پڑھنا درست ہے۔ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ طلوع آفتاب کی تکمیل کے بعد کراہت کا وقت ختم ہو جاتا ہے، جیسا کہ بعض احادیث میں عمومی طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے، اس مسئلے میں درج ذیل تفصیل کو سامنے رکھا جائے: سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی درج بالا حدیث، جس میں سورج کے بلند ہو جانے کا ذکر ہے۔ سیّدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 831
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں