الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّفْنِ لَيْلًا وَبَيَانِ الْأَوْقَاتِ الْمَنْهِيِّ عَنِ الدَّفْنِ فِيهَا
میت کو رات کودفن کرنے کااور ان اوقات کا بیان جن میں تدفین منع ہے
حدیث نمبر: 3264
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْتُ صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبَعَاءِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَالْمَسَاحِي الْمَرُورُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن ہو جانے کا اس وقت علم ہوا کہ جب ہم نے بدھ والی رات کے آخری حصے میں بیلچوں وغیرہ کی آوازیں سنیں۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: اَلْمَسَاحِیْ کا معنی بیلچہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24837»
وضاحت: فوائد: … لفظ ”اَلْمَسَاحِیْ“ کے یہ دو معنی بیان کیے گئے ہیں، ممکن ہے کہ ابن اسحاق کی مراد بیلچوں وغیرہ کی آواز ہو، بہرحال مفہوم ایک ہی بنتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 347
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3264 in Urdu