🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. بَابُ اسْتِحْبَابِهَا لِلرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ
اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مستحب ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3343
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنِ الْأَوْعِيَةِ، وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِي بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ: ( (إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مَا أَسْكَرَ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي أَنْ تَحْبِسُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ) )
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت، (چند مخصوص) برتنوں اور تین دنوں کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ تمہیں آخرت یاد دلائے گی، نیز میں نے تمہیں کچھ برتنوں سے منع کیاتھا، اب تم ان میں بھی پی سکتے ہو، لیکن ہر نشہ دینے والی چیز سے بچو اور میں نے تمہیں تین دن کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم جب تک چاہو اسے رکھ سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3343]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره أخرجه ابويعلي: 278 ورواه ابن ابي شيبة: 8/111 مختصر بلفظ: ((كنت نھيتكم عن ھذه الاوعية، فاشربوا فيھا واجتنبوا ما اسكر۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1236»
وضاحت: فوائد: بعض لوگوں کے فقرو فاقہ کی بنا پر قربانی کا گوشت تین ایام کے بعد تک ذخیرہ کرنے سے منع کیا گیا تھا، اسی طرح شراب کی حرمت کے موقع پر ان برتنوں کو استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا: کدو سے بنایا ہوا مٹکا‘ کھجور کے تنے کو کرید کر بنایا ہوا برتن‘ روغن کیا ہوا برتن اورپرانا سبز مٹکا۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں امور کی اجازت دے دی تھی۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره أخرجه ابويعلي: 278 ورواه ابن ابي شيبة: 8/111 مختصر بلفظ: ((كنت نھيتكم عن ھذه الاوعية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3344
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ (بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3344]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23346»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 977
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3345
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ وَفِيهِ: ( (وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا) )
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، لیکن اب اگر تم قبرستان کی زیارت کرو توکوئی فحش بات نہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3345]
تخریج الحدیث: «حديث صحيحؒ أخرجه مالك في ’’المؤطا‘‘: 2/ 485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11606، 11627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11650»

الحكم على الحديث: حديث صحيحؒ أخرجه مالك في ’’المؤطا‘‘: 2/ 485
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3346
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تو تھا، لیکن پھرمجھے خیال آیا ان کی زیارت سے دلوں میں رقت پیدا ہوتی ہے، آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور آخرت یاد آتی ہے، لہٰذاتم قبروں کی زیارت کیا کرو، لیکن کوئی فحش کام نہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3346]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه و شواهده أخرجه تام و مقطعا ابن ابي شيبة: 3/ 342، 8/ 159، وابويعلي: 3705، 37006، والحاكم: 1/ 376، والبيھقي: 4/ 77، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13521»

الحكم على الحديث: صحيح بطرقه و شواهده أخرجه تام و مقطعا ابن ابي شيبة: 3/ 342
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3347
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اور خود بھی روئے اور اپنے ساتھ والوں کو بھی رلایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے یہ اجازت طلب کی کہ میں اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کروں؟ لیکن مجھے اجازت نہیں دی گئی۔پھر جب میں نے اس کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دے دی، تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت یاد دلاتی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3347]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 976، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9686»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 976
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں