🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ مُطْلَقًا
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3650
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: مُرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِيَ الْجَنَّةَ، قَالَ: ( (عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ) ) ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: ( (عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ) )
۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل کرنے کا حکم دیں کہ جو مجھے جنت میں پہنچا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے رکھا کرو، کیونکہ کوئی دوسرا عمل اس کے مثل نہیں ہے۔ جب میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور (یہی مطالبہ رکھا تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے رکھا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3650]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه النسائي: 4/ 165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22501»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے حق میں روزے کو ہی افضل سمجھا کہ دونوں دفعہ اسی کا حکم دیا، جبکہ اس قسم کے مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے سائلین کے لیے روزوںکے علاوہ دوسرے اعمال کی نشاندہی کی، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکیم تھے اور ایک طبیب کی طرح تھے، ہر انسان کی کیفیت کے مطابق دوا تجویز کرتے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه النسائي: 4/ 165
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3651
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ الصِّيَامُ: أَيْ رَبِّ مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، قَالَ: فَيُشَفَّعَانِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے حق میں سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس بندے کو دن کے اوقات میں کھانے پینے اور شہوات سے روکے رکھا تھا، لہٰذا تو اب اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، اور قرآن کہے گا: میں نے رات کے وقت اس کو سونے سے روکے رکھا تھا، لہٰذا اب تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، نتیجتاً دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3651]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة و حيي بن عبد الله كلاھما ضعيف۔ اخرجه الحاكم: 1/ 554، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 1994، والطبراني في ’’الكبير‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6626»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3652
عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَتْ لَهُ بِطَعَامٍ فَقَالَ لَهَا: ( (كُلِي) ) ، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَفْرَغُوا، رُبَّمَا قَالَ: حَتَّى يَقْضُوا أَكْلَهُمْ) )
۔ سیدہ ام عمارہ بنت کعب انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اورانہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا منگوا کر پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم بھی کھاؤ۔ لیکن انھوں نے کہا: جی میں تو روزے سے ہوں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب روزے دار کے پاس کھانا کھایا جاتا ہے تو جب تک کھانا کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں، اس وقت تک فرشتے اس کے حق میں دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3652]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ليلي مولاة حبيب۔ اخرجه الترمذي: 785، وابن ماجه: 1748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27601»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ليلي مولاة حبيب۔ اخرجه الترمذي: 785
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3653
عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مَوْلَاتِهِ لَيْلَى عَنْ عَمَّتِهَا أُمِّ عُمَارَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، قَالَ: وَثَابَ إِلَيْهَا رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهَا، قَالَ: فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِمْ تَمْرًا فَأَكَلُوا فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا شَأْنُهُ؟) ) ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَمَا إِنَّهُ مَا مِنْ صَائِمٍ يُؤْكَلُ عِنْدَهُ فَوَاطِرُ إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَقُومُوا) )
۔ سیدہ ام عمارہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور ان کی قوم کے بہت سے لوگ ان کے ہاں جمع ہو گئے، انھوں نے ان کی خدمت میں کھجوریں پیش کیں، جب وہ کھانے لگے تو ایک آدمی ایک طرف کو ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اسے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: جی میں روزے سے ہوں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی روزہ دار کے پاس دوسرے لوگ کھانا کھاتے ہیں تو ان کے کھانے سے فارغ ہونے تک فرشتے اس کے حق میں رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3653]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27599»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27599
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3654
عَنْ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ الْجُمَحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ) )
۔ سیدناعامر بن مسعود جمحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سردیوں کے روزے تو بلا مشقت حاصل ہونے والی غنیمت ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3654]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، نمير بن عريب مجھول، وعامر بن مسعود الجمحي ليست له صحبة، فروايته عن النبيي صلي الله عليه وآله وسلم مرسلة، ثم انه مجھول الحال۔ اخرجه الترمذي: 797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19167»
وضاحت: فوائد: … اس حقیقت کو ہر کوئی سمجھتا ہے کہ سردیوں کے دن بہت چھوٹے ہوتے ہیں، موسم کی وجہ سے آدمی پیاس سے بھی محفوظ رہتا ہے، لیکن اس غنیمت سے مستفید ہونے والے لوگ کم ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں