الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ وَعِيدِ مَنْ تَهَاوَنَ بِصِيَامِ رَمَضَانَ وَالْعَمَلِ فِيهِ
ماہِ رمضان کے روزوں اور اس میںکیے جانے والے دوسرے اعمال میں سستی کرنے والے کے لیے وعید کا بیان
حدیث نمبر: 3672
عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْخَضْرَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَرْبَعٌ فَرَضَهُنَّ اللَّهُ فِي الْإِسْلَامِ، فَمَنْ جَاءَ بِثَلَاثٍ لَمْ يُغْنِيْنَ عَنْهُ شَيْئًا، حَتَّى يَأْتِيَ بِهِنَّ جَمِيعًا، الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ) )
۔ سیدنا زیاد بن نعیم خضرمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسلام میں چار امور فرض کیے ہیں، جو آدمی ان میں سے تین پر عمل کرتا ہے، تووہ اسے اس وقت تک کفایت نہیں کریں گے، جب تک وہ ان سب پر عمل نہیں کرے گا، (وہ چار امور یہ ہیں:) نماز، زکوٰۃ، ماہِ رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3672]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، ثم زياد بن نعيم الحضرمي تابعي، فالحديث مرسل ايضا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17942»
وضاحت: فوائد: … مشرف باسلام ہونے کے بعد یہی چار فرائض ہیں، جن سے مسلمان کا سب سے پہلے واسطہ پڑتا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف