🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ الْأَحْوَالِ الَّتِي عَرَضَتْ لِلصِّيَامِ وَوُجُوبِ صِيَامِ رَمَضَانَ وَمَبْدَأِ فَرْضِهِ
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3673
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ وَأُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، فَأَمَّا أَحْوَالُ الصَّلَاةِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُصَلِّي سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ (الْحَدِيثَ) ، قَالَ: وَأَمَّا أَحْوَالُ الصِّيَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَقَالَ يَزِيدُ: فَصَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ رَبِيعِ الْأَوَّلِ إِلَى رَمَضَانَ، مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَصَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِ الصِّيَامَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ (إِلَى هَذِهِ الآيَةِ) وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ}، قَالَ: فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَطْعَمَ مِسْكِينًا فَأَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ الآيَةَ الْأُخْرَى: {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ (إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ) فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ}، فَأَثْبَتَ اللَّهُ صِيَامَهُ عَلَى الْمُقِيمِ الصَّحِيحِ، وَرَخَّصَ فِيهِ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ وَثَبَّتَ الإِطْعَامَ لِلْكَبِيرِ الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ فَهَذَانِ حَالَانِ، قَالَ: وَكَانُوا يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ، وَيَأْتُونَ النِّسَاءَ مَالَمْ يَنَامُوا فَإِذَا نَامُوا امْتَنَعُوا، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ صِرْمَةُ، ظَلَّ يَعْمَلُ صَائِمًا حَتَّى أَمْسَى فَجَاءَ إِلَى أَهْلِهِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ نَامَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَلَمْ يَشْرَبْ حَتَّى أَصْبَحَ فَأَصْبَحَ صَائِمًا، قَالَ: فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ جَهِدَ جَهْدًا شَدِيدًا، قَالَ: ( (مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَهِدْتَّ جَهْدًا شَدِيدًا؟) ) ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي عَمِلْتُ أَمْسِ فَجِئْتُ حِينَ جِئْتُ فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي فَنِمْتُ وَأَصْبَحْتُ حِينَ أَصْبَحْتُ صَائِمًا، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ قَدْ أَصَابَ مِنَ النِّسَاءِ مِنْ جَارِيَةٍ أَوْ مِنْ حُرَّةٍ بَعْدَ مَا نَامَ، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ (إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ) ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ})
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین مراحل میں نماز کی فرضیت اور تین مراحل میں ہی روزے کی فرضیت ہوئی، نماز کے مراحل یہ ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سترہ ماہ تک بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے، … … (کتاب الصلاۃ میں مکمل حدیث گزر چکی ہے) روزے کے مراحل یہ ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے، یزید راوی کہتا ہے: ربیع الاول سے لے کر ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت تک کل سترہ ماہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے رہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس محرم کا روزہ بھی رکھا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے اور یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَآمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} (اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔)نیز فرمایا: { وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) ان آیات پر عمل کرتے ہوئے جو آدمی چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو کوئی روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ بطورِ فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہی چیز اس کی طرف سے کافی ہو جاتی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مقیم اورتندرست آدمی پراس مہینے کے روزے فرض کر دیئے، البتہ مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دے دی اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ آدمی کے لیے روزہ کا یہ حکم برقرار رکھا کہ وہ بطورِ فدیہ مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے، یہ دو حالتیں ہو گئیں، تیسری حالت یہ تھی کہ لوگ رات کو سونے سے پہلے تک کھا پی سکتے تھے اور بیویوں سے ہم بستری کر سکتے تھے، لیکن جب نیند آ جاتی تو اس کے بعد یہ سب کچھ ان کے لئے ممنوع قرار پاتا تھا، ایک دن یوں ہوا کہ ایک صرمہ نامی انصاری صحابی روزے کی حالت میں سارا دن کام کرتا رہا، جب شام ہوئی تو اپنے گھر پہنچا اور عشاء کی نماز پڑھ کر کچھ کھائے پئے بغیر سو گیا،یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور اس طرح اس کا روزہ بھی شروع ہو چکا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ کافی نڈھال ہوچکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ: بہت نڈھال دکھائی دے رہے ہو، کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل سارا دن کام کرتا رہا، جب گھر آیا تو ابھی لیٹا ہی تھا کہ سو گیا (اور اس طرح میرے حق میں کھانا پینا حرام ہو گیا اور) جب صبح ہوئی تو میں نے تو روزے کی حالت میں ہی ہونا تھا۔ اُدھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بھی ایک معاملہ تھا کہ انھوں نے نیند سے بیدار ہونے کے بعد اپنی بیوی یا لونڈی سے ہم بستری کر لی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر ساری بات بتلا دی تھی، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ … … ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیامَ إِلَی الَّیْلِ۔} (روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرما لیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3673]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ اخرجه ابوداود:507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22475»
وضاحت: فوائد: … مسلمانوں پر جو روزے فرض ہیں، ان کی موجودہ صورتحال یہ ہے: سال کے بارہ مہینوں میں صرف رمضان کے روزے فرض ہے، روزے کا دورانیہ طلوع فجر سے غروبِ آفتاب تک ہے، روزہ نہ رکھ سکنے والا مستقل مریض اور کمزور بزرگ ایک روزہ ترک کرنے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، مسافر اور شفا کی امید رکھنے والے مریض کے لیےیہ حکم ہے کہ اگر وہ اس سفر اور بیماری کے دوران روزے نہ رکھ سکیں تو بعد میں قضائی دے دیں۔ لیکن روزوں کو درج بالا صورت دینے سے پہلے بالترتیب درج ذیل مراحل سے گزارا گیا:
(۱) ہر ماہ میں تین روزے رکھنا اور یوم عاشوراء (یعنی دس محرم) کا روزہ رکھنا، سترہ مہینوں تک یہ عمل جاری رہا۔
(۲) رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، لیکنیہ اختیار دیا گیا کہ جو چاہتا ہے، روزے رکھ لے اور جو چاہتا ہے ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔
(۳) مقیم اور صحت مند آدمی پر رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، مریض اور مسافر کو مخصوص رخصت دی گئی، …۔ یعنی روزوں کی موجودہ صورت۔ بیچ میں ایک تبدیلییہ بھی ہوئی کہ شروع میں سحری کی رخصت نہیں تھی، بلکہ غروبِ آفتاب کے بعد افطاری سے لے کر رات کو سونے سے پہلے تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت ہوتی تھی، جونہی کسی کی آنکھ لگ جاتی، اس کا روزہ شروع ہو جاتا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے غروب آفتاب سے طلوع فجر تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت دے دی۔

الحكم على الحديث: قال الالباني: صحيح۔ اخرجه ابوداود:507
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3674
عَنِ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ قَالَ: لَقِيتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ (يَعْنِي ابْنَ عَوْفٍ) قُلْتُ: حَدِّثْنِي عَنْ شَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: نَعَمْ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ وَسَنَنْتُ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ احْتِسَابًا خَرَجَ مِنَ الذُّنُوبِ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ) )
۔ نضر بن شیبان کہتے ہیں:میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے ملا اور ان سے کہا: مجھے ماہِ رمضان کے بارے کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو تم نے اپنے والد سے سنی ہو اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، انھوں نے کہا: جی ہاں، میرے باپ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ماہِ رمضان کے روزے فرض کئے ہیں اور میں رمضان کے قیام کو مسنون قرار دیتاہوں، جو کوئی اجر و ثواب کے حصول کی خاطر اس مہینے کے روزے رکھے گا اور اس کا قیام کرے گا تو وہ اپنے گناہوں سے یوں پاک ہو جائے گا، جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3674]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، النضر بن شيبان الحراني، قال ابن معين: ليس حديثه بشيئ، وقال البخاري في حديثه ھذا: لم يصح۔ اخرجه ابن ماجه: 1328، والنسائي: 4/ 158، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1660»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3675
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الصَّوْمُ؟ قَالَ: ( (قَرْضٌ مَجْزِيٌّ) )
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! روزہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قرض ہے، جس کا بدلہ دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3675]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21692»
وضاحت: فوائد: … یعنییہ نیک عمل ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دے گا۔

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں