الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا جَاءَ خَاصًّا يَنْقُصُ الشَّهْرُ مَعَ قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ
خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
حدیث نمبر: 3699
عَنِ ابْنِ عَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (تَمَّ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا: یہ مہینہ (۲۹) دن کا پورا ہوچکا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3699]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه النسائي: 4/ 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1885 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1885»
وضاحت: فوائد: … پوری حدیثیوں ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ھَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نِسَائَ ہٗشَھْرًا،فَلَمَّامَضٰی تِسْعٌ وَّعِشْرُوْنَ، اَتَاہُ جِبْرِیْلُ، فَقَالَ: قَدْ بَرَّتْ یَمِیْنُکَ وَقَدْ تَمَّ الشَّھْرُ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے ایک مہینہکے لیے علیحدگی اختیار کر لی تھی، جب (۲۹) دن گزر گئے تو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”آپ کی قسم پوری ہو گئی ہے،کیونکہ مہینہ گزر گیا ہے۔ (مسند احمد: ۱/ ۲۳۵)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه النسائي: 4/ 138
حدیث نمبر: 3700
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قِيلَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رُؤِيَ هَذَا الشَّهْرُ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ، قَالَتْ: وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْ ذَلِكَ؟ لَمَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلَاثِينَ
۔ سعید کہتے ہیں: کسی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المومنین! اس ماہ کا چاند تو (۲۹) تاریخ کو نظر آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا: تمہیں اس پر تعجب کیوں ہو رہا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو روزے رکھے، ان میں (۳۰) ایام کی بہ نسبت (۲۹) دن والے رمضان کے مہینے زیادہ تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3700]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه البيھقي: 4/ 250، والدارقطني: 2/ 198، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 5245، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24518 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25023»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه البيھقي: 4/ 250
حدیث نمبر: 3701
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو روزے رکھے، ان میں (۳۰) دنوں کی بہ نسبت (۲۹) ایام والے رمضان کے مہینے زیادہ تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3701]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2322، والترمذي: 689، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3776»
وضاحت: فوائد: … یوں تو اسلامی مہینہ (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے یا (۳۰) دنوں، درج بالا روایات اور تجربات سے معلوم ہوا کہ رمضان اور ذوالحجہ بھی (۲۹، ۲۹) اور (۳۰، ۳۰) دنوں کے ہوتے رہتے ہیں، تو پھر درج ذیل حدیث کا کیا معنی ہو گا۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2322
حدیث نمبر: 3702
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ، فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عِيدٌ، رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ) )
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو مہینے ناقص نہیں ہوتے، ان میں سے ہر ایک میں عید ہوتی ہے، وہ رمضان اور ذوالحجہ ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3702]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1912، ومسلم: 1089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20485)۔ اخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20759»
وضاحت: فوائد: … عید الفطر کا مہینہ شوال ہے، نہ کہ رمضان، چونکہ یہ عید رمضان کی مناسبت کی وجہ سے اور رمضان کے متصل بعد ہوتی ہے، اس لیے رمضان کو عید والا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ رمضان اور ذوالحجہ ناقص نہیں ہوتے، اس جملے کے مختلف مفاہیم بیان کیے گئے ہیں، درج ذیل دو اقوال زیادہ معتبر ہیں:
(۱) ان کی بیان شدہ فضیلت اور اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ (۲۹) دنوں کے ہوں یا (۳۰) کے۔
(۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود ذو الحجہ کے پہلے دس دنوںمیں کیے گئے اعمال کی فضیلت بیان کرنا ہے، یعنی ان کا اجر و ثواب بھی ماہِ رمضان سے کم نہیں ہوتا۔
(۱) ان کی بیان شدہ فضیلت اور اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ (۲۹) دنوں کے ہوں یا (۳۰) کے۔
(۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود ذو الحجہ کے پہلے دس دنوںمیں کیے گئے اعمال کی فضیلت بیان کرنا ہے، یعنی ان کا اجر و ثواب بھی ماہِ رمضان سے کم نہیں ہوتا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1912