الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا جَاءَ خَاصًّا يَنْقُصُ الشَّهْرُ مَعَ قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ
خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
حدیث نمبر: 3702
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ، فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عِيدٌ، رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ) )
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو مہینے ناقص نہیں ہوتے، ان میں سے ہر ایک میں عید ہوتی ہے، وہ رمضان اور ذوالحجہ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3702]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1912، ومسلم: 1089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20485)۔ اخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20759»
وضاحت: فوائد: … عید الفطر کا مہینہ شوال ہے، نہ کہ رمضان، چونکہ یہ عید رمضان کی مناسبت کی وجہ سے اور رمضان کے متصل بعد ہوتی ہے، اس لیے رمضان کو عید والا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ رمضان اور ذوالحجہ ناقص نہیں ہوتے، اس جملے کے مختلف مفاہیم بیان کیے گئے ہیں، درج ذیل دو اقوال زیادہ معتبر ہیں:
(۱) ان کی بیان شدہ فضیلت اور اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ (۲۹) دنوں کے ہوں یا (۳۰) کے۔
(۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود ذو الحجہ کے پہلے دس دنوںمیں کیے گئے اعمال کی فضیلت بیان کرنا ہے، یعنی ان کا اجر و ثواب بھی ماہِ رمضان سے کم نہیں ہوتا۔
(۱) ان کی بیان شدہ فضیلت اور اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ (۲۹) دنوں کے ہوں یا (۳۰) کے۔
(۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود ذو الحجہ کے پہلے دس دنوںمیں کیے گئے اعمال کی فضیلت بیان کرنا ہے، یعنی ان کا اجر و ثواب بھی ماہِ رمضان سے کم نہیں ہوتا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1912
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3702 in Urdu