🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. بَابُ جَوَازِ السِّوَاكِ وَالْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالِاغْتِسَالِ مِنَ الْحَرِّ لِلصَّائِمِ
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3767
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أَعُدُّ وَلَا أُحْصِي، يَسْتَأْكُ (وَفِي لَفْظٍ يَتَسَوَّكُ) وَهُوَ صَائِمٌ
۔ سیدناعامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے بے شمار مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزہ کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3767]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2364، والترمذي: 725، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15776»

الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2364
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3768
عَنْ (عَمْرِو) بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ فِي رَمَضَانَ
۔ سیدناعمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماہِ رمضان میں کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3768]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، كثير بن زياد لم يدرك عمرو بن عبسة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17142»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3769
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْكُبُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ بِالسُّقْيَا، إِمَّا مِنَ الْحَرِّ وَإِمَّا مِنَ الْعَطَشِ، وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كَدِيدًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ وَهُوَ عَامُ الْفَتْحِ، زَادَ فِي رِوَايَةٍ: قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ
۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھا کہ سقیا مقام پر آپ کے سر پر گرمی یا پیاس کی وجہ سے پانی ڈالا جا رہا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے دار تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ قائم رکھا، یہاں تک کہ کدید مقام تک پہنچ گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور روزہ افطار کر دیا اور لوگوں نے بھی روزہ توڑ دیا،یہ فتح مکہ (کے سفر کے دوران کا) واقعہ ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں:مجھے بیان کرنے والے نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرمی کی شدت کی وجہ سے سر پر پانی ڈال رہے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3769]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23577»
وضاحت: فوائد: … نہانا، سرپر پانی ڈالنا، کلی کرنا، مسواک کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا، اِن سب امور کا روزہ کے ٹوٹنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، البتہ ناک میں پانی چڑھاتے وقت مبالغہ نہیں کرنا چاہیے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ پانی حلق میں اتر جائے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَبَالِغْ فِیْ الْاِسْتِنْشَاقِ، اِلَّا اَنْ تَکُوْنَ صَائِمًا۔)) ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کر، الّا یہ کہ تو روزے دار ہو۔ (سنن اربعہ) اس حدیث سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ کلی اور مسواک کرتے وقت بداحتیاطی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اسی طرح آنکھوں میں سرمہ ڈالنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ کسی شرعی دلیل کے ذریعے روزے دار پراس کی پابندی نہیں لگائی گئی اور جن احادیث میں سرمہ ڈالنے کی ترغیب دلائی گئی، ان کو کسی تخصیصیا قید کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا، البتہ ایسے قطروں کے ڈالنے سے بچنا جائے جن کے حلق پر اتر جانے کا خطرہ ہو۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ چونکہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ اور محبوب ہوتی ہے، اس لیے روزہ کی حالت میں مسواک نہیں کرنا چاہیے، تاکہ وہ بو زائل نہ ہو جائے، تو گزارش ہے کہ اس بو کا تعلق معدے کے خالیہو جانے سے ہے، مسواک وغیرہ کے ذریعے منہ کی صفائی اور بات ہے اور معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے منہ کی بو کا متغیر ہو جانا اور بات ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2365
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں