🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. الرُّخْصَةُ فِي الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ إِلَّا لِمَنْ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3773
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟) ) قُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (فَفِيمَ) )
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن مجھے راحت اور نشاط محسوس ہوا، سو میں نے اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، جبکہ میں روزے کی حالت میں تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: آج میں ایک بہت بڑا کام کر بیٹھا ہوں اور وہ یہ کہ روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو تو اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہو گا؟ میں نے کہا:اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو (پھر اس بوسے کے بارے میں) کیا پوچھتے کیا ہو؟ یعنی بوسہ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3773]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2385، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 138 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 138»
وضاحت: فوائد: … کوئی بھی مشروب ہو، اس کو نوش کرنے کے لیے اسے منہ میں ڈالا جاتا ہے، گویا منہ میں پانی ڈالنا پانی پینے کا داعیہ اور چابی ہے، لیکن کلی کے لیے منہ میں یہی پانی ڈالنے سے کچھ نہیں ہوتا، یہی معاملہ بیوی کا بوسہ لینے کے حکم ہے، کہ یہ جماع کا داعیہ اور چابی ہے، لیکن صرف بوسہ لینے سے روزہ متأثر نہیں ہو گا۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2385
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3774
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ يَجْعَلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ثَوْبًا تَعْنِي الْفَرْجَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں (اپنی بیوی کے ساتھ) مباشرت کرتے یعنی جسم کے ساتھ جسم ملا لیتے تھے، البتہ اپنے اور اس کی شرمگاہ کے درمیان کپڑا رکھ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3774]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه مسلم: 1106 بلفظ ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم كان يباشر وھو صائم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24818»

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ اخرجه مسلم: 1106 بلفظ ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم كان يباشر وھو صائم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3775
عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ: خَرَجَ عَلْقَمَةُ وَأَصْحَابُهُ حُجَّاجًا فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ: الصَّائِمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، قَدْ قَامَ سَنَتَيْنِ وَصَامَهُمَا هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ قَوْسِي فَأَضْرِبَكَ بِهَا قَالَ: فَكُفُّوا حَتَّى تَأْتُوا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَدَخَلُوا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلُوهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ، قَالُوا: يَا أَبَا شِبْلٍ! سَلْهَا، قَالَ: لَا أَرْفُثُ عِنْدَهَا الْيَوْمَ، فَسَأَلُوهَا فَقَالَتْ: كَانَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ
۔ علقمہ اور ان کے ساتھی حج کے لیے روانہ ہوئے، کسی نے کہا:روزے دار (اپنی بیوی کا) بوسہ لے سکتا ہے اور اس کے ساتھ لیٹ بھی سکتا ہے۔ ان میں سے ایک آدمی دو سال کے قیام اور روزوں کا اہتمام کر چکا تھا، اس نے یہ سن کر کہا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اپنی کمان لے کر تمہیں دے ماروں۔ علقمہ نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچنے تک اس مسئلہ سے رک جاؤ۔ بالآخر وہ سارے لوگ سیدہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ بھی لے لیتے تھے اور مباشرت بھی کر لیا کرتے تھے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سب لوگوں سے زیادہ اپنی حاجت پر قابو پانے والے تھے۔ساتھیوں نے کہا: ابوشبل! اب سیدہ رضی اللہ عنہا سے خود پوچھ لو۔ لیکن اس نے کہا: میں آج ان کے ہاں اس قسم کی گفتگو نہیں کروں گا۔ پھر انھوں نے سوال کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ بھی لے لیتے اور مباشرت بھی کر لیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3775]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24631»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1106
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3776
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَهْوَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُقَبِّلَنِي فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ: وَأَنَا صَائِمٌ، قَالَتْ: فَأَهْوَى إِلَيَّ فَقَبَّلَنِي
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بوسہ دینے کے لیے میری طرف جھکے، میں نے کہا: میں تو روزہ دار ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف جھکے اور میرا بوسہ لیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3776]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1927، 1928، ومسلم: 1106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25536»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1927
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3777
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ ضَحِكَتْ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اہلیہ کا بوسہ لیا، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں تھے، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3777]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26251»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26251
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3778
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَظَلُّ صَائِمًا ثُمَّ يُقَبِّلُ مَا شَاءَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ رکھتے اور پھر افطار کرنے تک جس قدر چاہتے میرے چہرے کے بوسے لیتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3778]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25206»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25206
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3779
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ وَيَمُصُّ لِسَانَهَا، قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور ان کی زبان کو چوس لیا کرتے تھے۔ عفان کہتے ہیں: میں نے محمد بن دینار سے پوچھا کہ کیا تو نے یہ حدیث سعد بن اوس سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3779]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ويمص لسانھا، وھذا اسناد ضعيف لضعف محمد بن دينار۔ اخرجه ابوداود: 2386، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24916 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25429»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی خاوند روزے کی حالت میں اپنی بیوی کی زبان کو چوس لے تو ضروری ہے کہ ایک کا لعاب دوسرے کے پیٹ میں نہ جائے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قوله: ويمص لسانھا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3780
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَسَكَتَ هُنَيَّةً، ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ
۔ امام سفیان نے عبد الرحمن بن قاسم سے کہا: کیا تو نے اپنے باپ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے دار ہوتے تھے؟ یہ سن کر عبدالرحمن بن القاسم کچھ دیر خاموش رہے، پھر کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3780]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:1927، 1928، ومسلم: 1106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24611»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري:1927
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3781
عَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَسْأَلُهَا، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ فَإِنْ قَالَتْ: لَا، فَقُلْ لَهَا إِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَ: فَسَأَلْتُهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَتْ: لَا، قُلْتُ: إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ: لَعَلَّهُ إِيَّاهَا، كَانَ لَا يَتَمَالَكَ عَنْهَا حُبًّا، أَمَّا إِيَّايَ فَلَا
۔ ابو قیس کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہ طرف بھیجا تاکہ میں ان سے سوال کروں کہ کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے؟ اگر وہ نفی میں جواب دیں تو ان کو یہ کہو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ تو لوگوں کو یہ بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پس میں گیا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے؟انہوں نے کہا: جی نہیں، میں نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ تو لوگوں کو یہ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا بوسہ لے لیتے ہوں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان سے بہت زیادہ محبت تھی، رہا مسئلہ میرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حالت میں میرا بوسہ نہیں لیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3781]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فقد تفرد به موسي بن عُلَيّ اللخمي وھو ليس بحجة اذا انفرد۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 3072، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 23/ 389، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26533 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27068»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3782
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخٍ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ، فَمَا تَرَيْنَ؟ فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ
۔ عبد اللہ بن فروخ کہتے ہیں کہ ایک خاتون نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس کا شوہر اس کا بوسہ لے لیتا ہے، جب کہ وہ دونوں روزے دار ہوتے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی روزے کی حالت میں ہوتے اور میں بھی روزے دار ہوتی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3782]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 322، ومسلم: 296، 234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27033»

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 322
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں