الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. بَابُ قَضَاءِ الصَّوْمِ عَنِ الْمَيِّتِ
فوت شدہ کی طرف سے روزوں کی قضاء دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3854
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَيُّمَا مَيِّتٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ فَلْيَصُمْهُ عَنْهُ وَلِيُّهُ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کے ذمہ میں روزے ہوں تو اس کا رشتہ دار اس کی طرف سے روزے رکھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3854]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1952، ومسلم: 1147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24906»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1952
حدیث نمبر: 3855
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَقْضِي عَنْهَا؟ قَالَ: فَقَالَ: ( (أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دِينٌ أَمَا كُنْتِ تَقْضِينَهُ؟) ) قَالَ: بَلَى، قَالَ: ( (فَدِينُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ) )
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری امی فوت ہو گئی ہے، جبکہ اس کے ذمہ میں ایک مہینہ کے روزے تھے، کیا اب میں اس کی طرف سے روزوں کی قضائی دے سکتی ہوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہاری والدہ پر قرضہ ہوتا تو کیا تم نے وہ ادا کرنا تھا؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرض اس امر کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3855]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1148، وعلقه البخاري: 1953، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1970»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ اس خاتون پر نذر کے روزے تھے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1148
حدیث نمبر: 3856
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟ فَقَالَ: ( (لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا؟) ) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ( (فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى) )
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، جبکہ اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے، تو کیا میں اس کی طرف سے قضائی دے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری والدہ کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تم نے اسے ادا کرنا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرض اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3856]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2336»
وضاحت: فوائد: … ابن قیم کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد نذر کے روزے ہیں، لیکن صحیحین کی روایت عام ہے، اس لیے اس سے مراد ہر وہ روزہ ہے، جو میت کے ذمے ہو، وہ نذر کا ہویا رمضان کا۔ جیسا کہ خطابی نے کہا: اس حدیث میں میت کا وہ روزہ مراد ہے، جو اس پر فرض تھا، وہ نذر کی صورت میں ہو یا رمضان کے روزوں کی قضا دینے کی صورت میں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق