🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيِ الْعِيدَيْنِ
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3857
عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: شَهِدْتُّ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ (بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صَوْمِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَكُلُوا مِنْ نُسُكِكُمْ
۔ ابوعبید کہتے ہیں: عید کے موقع پر میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاں موجود تھا، انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، (اس کی وجہ یہ ہے کہ) عید الفطر(ایک ماہ کے) روزوں سے تمہاری افطاری کا دن ہوتا ہے اور عید الاضحیٰ ویسے قربانی کا دن ہے، اس لیے اس میں قربانی کا گوشت کھایا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3857]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1990، 5571، ومسلم: 1137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 163 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 163»

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 1990
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3858
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3858]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1197، 1864، 1995، ومسلم: 827، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11826»

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 1197
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3859
عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ يَمْشِي بِمِنًى، فَقَالَ: نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثَلَاثَاءَ أَوْ أَرْبَعَاءَ، فَوَافَقَتْ هَذَا الْيَوْمَ، يَوْمَ النَّحْرِ، فَمَا تَرَى؟ قَالَ: أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَوْ قَالَ: نُهِينَا أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: فَظَنَّ الرَّجُلُ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثَلَاثَاءَ أَوْ أَرْبَعَاءَ، فَوَافَقَتْ هَذَا الْيَوْمَ، يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: نُهِينَا أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: فَمَا زَادَهُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى أَسْنَدَ فِي الْجَبَلِ
۔ زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ منی میں چل رہے تھے کہ ایک آدمی نے ان سے ایک سوال کرتے ہوئے کہا: میں نے نذر مانی ہوئی ہے کہ ہر منگل یا بدھ کو روزہ رکھا کروں گا، لیکن اب یہ دن عید الاضحی کے دن آرہا ہے، اس کے بارے میں آپ رضی اللہ عنہ کا کیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تو نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عیدا الاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے۔ اس آدمی کو یہ خیال آیا کہ شاید انھوں نے اس کا سوال نہیں سنا تھا، اس لیے اس نے دوبارہ کہا:میں نے ہر منگل یا بدھ کو روزہ رکھنے کی نذر مانی ہوئی ہے، لیکن اس دفعہ یہ دن عید الاضحی کے دن آرہا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے، انہوں نے اس سے زیادہ کچھ نہ کہا حتی کہ پہاڑ پر چڑھ گئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3859]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 6705، 6706، ومسلم: 1139، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6235»
وضاحت: فوائد: … عید الافطر اور عید الاضحی کو ہر قسم کا روزہ رکھنا منع ہے، اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔ آخری حدیث میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نذر کو پورا کرنے والا حکم عام ہے اور عید کے دن کا روزہ رکھنے سے ممانعت کا حکم خاص ہے، اور قانون یہ ہے کہ خاص کو عام پر مقدم کیا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 6705
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں