🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي فَضْلِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَتَأْكِيدِ صَوْمِهِ قَبْلَ نُزُولِ رَمَضَانَ
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3902
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ كَفَّارَةُ سَنَتَيْنِ، سَنَةٍ مَاضِيَةٍ وَسَنَةٍ مُسْتَقْبَلَةٍ، وَيَوْمُ عَاشُورَاءَ كَفَّارَةُ سَنَةٍ) )
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کا کفارہ ہے اور عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کا کفارہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3902]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22958»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1162
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3903
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ صِيَامَ عَرَفَةَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ) ) ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ صَوْمَ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ) )
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: عرفہ کے روزہ کے بارے میں آپ کاکیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنائے گا۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! عاشوراء کے روزے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امیدہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ ایک سال کا کفارہ بنائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3903]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22997»
وضاحت: فوائد: … یوم عاشورا سے مراد محرم کا دسواں دن ہے، ابتدائے اسلام میں یہ روزہ فرض تھا اور صرف ایک سال یعنی دو سن ہجری کی ابتداء میں اس کی فرضیت کا مسئلہ پیش آیا تھا، کیونکہ اسی سن کے رمضان میں روزے فرض ہو گئے تھے اور رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد عاشورا کا روزہ مستحب قرار دیا گیا تھا، اس کی مزید وضاحت اگلی احادیث میں آرہی ہے۔ عرفہ کے دن سے مراد (۹) ذوالحجہ کا دن ہے، جس دن حجاج کرام عرفہ کے میدان میں جمع ہوتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22997
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3904
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ صَامُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: ( (مَا هَذَا مِنَ الصِّيَامِ؟) ) قَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي نَجَّى اللَّهُ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْغَرَقِ وَغَرَّقَ فِيهِ فِرْعَوْنَ، وَهَذَا يَوْمٌ اسْتَوَتْ فِيهِ السَّفِينَةُ عَلَى الْجُودِيِّ فَصَامَهُ نُوحٌ وَمُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ) ) ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالصِّيَامِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہودی لوگوں کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسا روزہ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنو اسرائیل کو غرق ہونے سے بچایا اور فرعون کو غرق کر دیا اور اسی دن کو نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پر آ کر ٹھہری تھی، اس لیے نوح اور موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا تھا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں موسیٰ علیہ السلام اور اس دن کے روزے کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دے دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3904]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الصمد بن حبيب وجھالة ابيه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8702»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الصمد بن حبيب وجھالة ابيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3905
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: ( (مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَ؟) ) قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ) ) ، قَالَ: فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور دیکھا کہ یہودی دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں، آپ نے ان سے پوچھا: یہ دن کون سا ہے، جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ بڑا مبارک دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی اور موسیٰ علیہ السلام نے اس کا روزہ رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی صادر فرمایا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3905]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2004، ومسلم: 1130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2831»
وضاحت: فوائد: … رسالت، دینی بھائی چارے اور ظاہری قرابت کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ اس کا بہترین جواب یہی ہے کہ اس مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخالفت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ کے آخری سال میں اس خواہش کا اظہار کر دیا تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہے تو (۹) ذوالحجہ کو روزہ رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ربیع الاول کے مہینے میں مدینہ منورہ پہنچے تھے، پھر جب محرم کا مہینہ آیا تو یہ صورتحال پیدا ہوئی۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2004
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3906
عَنْ ثُوَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُومُوهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصِيَامِهِ
۔ ثویر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا تھا: یہ یومِ عاشوراء ہے، تم اس دن کا روزہ رکھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3906]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا لضعف ثوير بن ابي فاخته۔ اخرجه البزار: 1050، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 76، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 293، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16230 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16231»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا لضعف ثوير بن ابي فاخته۔ اخرجه البزار: 1050
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3907
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ بِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَنْ نَصُومَهُ، وَقَالَ: هُوَ يَوْمٌ كَانَتِ الْيَهُودُ تَصُومُهُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دس محرم کو روزہ رکھنے کا حکم دیا، اس دن کو یہودی روزہ رکھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3907]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2501، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14718»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2501
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3908
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ قَرْيَةٍ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعَةِ فَرَاسِخَ، أَوْ قَالَ: فَرْسَخَيْنِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَأَمَرَ مَنْ أَكَلَ أَنْ لَا يَأْكُلْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَنْ يُتِمَّ صَوْمَهُ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس محرم کو چار چار یا دو دو فرسخ تک بستیوں میں پیغام بھیجا کہ جس آدمی نے کچھ کھا لیا ہو وہ بقیہ دن میں کچھ نہ کھائے اور جس نے تاحال کچھ نہیں کھایا وہ اپنا روزہ پورا کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3908]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الطبراني: 11804، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2058»
وضاحت: فوائد: … اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرضیت ِ رمضان سے قبل یوم عاشوراء کے روزے کا خاصا اہتمام کیا تھا، ایک فرسخ تقریبا سات آٹھ کلومیٹر کا ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ اخرجه الطبراني: 11804
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3909
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: ( (مَنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ كَانَ أَكَلَ فَلَا يَأْكُلْ شَيْئًا وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ) )
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشوراء کے دن بنو اسلم قبیلے کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کرے: جس نے آج روزہ رکھا ہوا ہے، وہ اسے پورا کرے اور جو کچھ کھا پی چکا ہے، وہ بھی اب کچھ نہ کھائے پئے اور اس طرح روزہ مکمل کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3909]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1924، 2007، ومسلم: 1135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16507 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16621»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1924
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3910
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيِّ النَّصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: ( (أَصُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا؟) ) فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَعَمْ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا، قَالَ: ( (فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ هَذَا) ) ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُؤْذِنُوا أَهْلَ الْعَرُوضِ أَنْ يُتِمُّوا يَوْمَهُمْ ذَلِكَ
۔ سیدنا محمد بن صیفی انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یومِ عاشوراء کو ہمارے ہاں تشریف لائے اور پوچھا: کیا تم لوگوں نے آج روزہ رکھا ہے؟ بعض نے کہا: جی ہاں، اور بعض نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہرحال بقیہ دن کا روزہ پورا کرو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اہلِ عَروض کو بھی اطلاع کر دیں کہ وہ بھی اس دن کا روزہ مکمل کریں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3910]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1735، والنسائي: 4/ 192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19680»
وضاحت: فوائد: … ”عَروض“ کے تعین کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) اس کا اطلاق مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ان کے پڑوس والے شہروں پر ہوتا ہے اور (۲) مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور یمن کو عَروض کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1735
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3911
عَنْ هِنْدِ بْنِ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِي مِنْ أَسْلَمَ، فَقَالَ: ( (مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ وَجَدْتَّهُ مِنْهُمْ قَدْ أَكَلَ فِي أَوَّلِ يَوْمِهِ فَلْيَصُمْ آخِرَهُ) )
۔ سیدنا ہند بن اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے قبیلہ بنو اسلم کی طرف بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج یومِ عاشوراء کا روزہ رکھیں، اگر ان میں سے کوئی آدمی کھا پی چکا ہو تو وہ بھی دن کے آخری یعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 3911]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16058»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 545
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں