الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. الْفَصْلُ الثَّامِنُ فِيمَا وَرَدَ أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَذِكْرِ أَمَارَتِهَا
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر: 4042
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَذَاكَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ أُبَيٌّ: أَنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ! أَعْلَمُ أَيَّ لَيْلَةٍ هِيَ، هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَخْبَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ تَمْضِي مِنْ رَمَضَانَ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ الشَّمْسَ تُصْبِحُ الْغَدَ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ تَرَقْرَقُ، لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ، فَزَعَمَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ أَنَّ زِرًّا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَصَدَهَا ثَلَاثَ سِنِينَ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ يَدْخُلُ رَمَضَانُ إِلَى آخِرِهِ، فَرَآهَا تَطْلُعُ صَبِيحَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، تَرَقْرَقُ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ (وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْضَاءَ تَرَقْرَقُ)
۔ زربن حبیش بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے شب ِ قدر کے بارے میں آپس میں بحث کی، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: معبودِ برحق کی قسم! میں جانتا ہوں کہ وہ کونسی رات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کے بارے میں بتلایا تھا، یہ ماہِ رمضان کی ستائیس تاریخ کی رات ہے، اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو جب سورج بلند ہو رہا ہوتا ہے تو اس کی شعائیں نہیں ہوتیں۔سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ زرّ نے اسے بتلایا کہ اس نے مسلسل تین برس تک پورا ماہِ رمضان طلوع آفتاب کا مشاہدہ کیا اور دیکھا کہ واقعی ستائیس کی صبح کو سورج طلوع کے بعد جب بلند ہو رہا ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی، جبکہ اس کا رنگ سفید ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4042]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 762، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21509»
الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 762
حدیث نمبر: 4043
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ: ( (لَا أَحْسَبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ) ) ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ: ( (لَا أَحْسَبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ) ) ، فَقُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ حَتَّى أَصْبَحَ وَسَكَتَ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے ماہِ رمضان کی تئیسویں رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رات کے پہلے ایک تہائی تک قیام کیا، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم جس چیز کو تلاش کر رہے ہو، وہ بعد میں آئے گی۔ پس ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پچیسویں رات کو نصف رات تک قیام کیا، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم جس رات کے متلاشی ہو وہ اس کے بعد ہوگی۔ سو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ستائیسویں شب کو صبح تک قیام کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4043]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابن خزيمة: 2205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21899»
وضاحت: فوائد: … ستائیسویںشب کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاموش ہو جانا اور اگلی طاق رات کی طرف رہنمائی نہ کرنا، اس ثابت ہو رہا ہے کہ یہی شب ِ قدر ہو گی۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابن خزيمة: 2205
حدیث نمبر: 4044
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيٍّ: أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَإِنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ كَانَ يَقُولُ: مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، قَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، فَإِنَّهَا لِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَلَكِنَّهُ عَمَّى عَلَى النَّاسِ لِكَيْ لَا يَتَّكِلُوا، فَوَاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا فِي رَمَضَانَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ! وَأَنَّى عَلِمْتَهَا؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَنْبَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا فَوَاللَّهِ إِنَّهَا لَهِيَ مَا يُسْتَثْنِي، قُلْتُ لِزِرٍّ: مَا الْآيَةُ؟ قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ غَدَاةَ إِذًا كَأَنَّهَا طَسْتٌ، لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: حَتَّى تَرْتَفِعَ)
۔ زِرّ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے شب ِ قدر کے بارے میں بتائیں، ام عبد کا بیٹایعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو یہ کہتے ہیں کہ جو آدمی سارا سال قیام کرے گا،وہ اس رات کو پا ہی لے گا۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ رات ماہِ رمضان میں ہے اور ہے بھی ستائیسویں رات، دراصل انہوں نے اس رات کے تعین کو لوگوں سے اس لیے پوشیدہ رکھا کہ لوگ اسی پر اکتفا کر لیں گے (باقی راتوں کا قیام ترک کر دیں گے)۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب اتارنے والے اللہ کی قسم! یہ رات ماہِ رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابومنذر! یہ علم آپ کو کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک علامت بتلائی تھی، پھر ہم نے اسے شمار کیا اور خوب یاد رکھا۔ اللہ کی قسم! وہ یہی رات ہے۔ زِرّ نے کہا: سیدنا ابی نے استثنا نہیں کیا، (ان شاء اللہ بھی نہیں کہا)۔ میں (عاصم) نے زر سے کہا: وہ علامت کون سی ہے؟ انہوں نے کہا: وہ یہ ہے کہ شب ِ قدر کی صبح کو سورج ایک تھال کی مانند دکھائی دیتا ہے، اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں،یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4044]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 762، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21513»
الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 762
حدیث نمبر: 4045
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ يَقُولُ: لَوْلَا سُفَهَاؤُكُمْ، لَوَضَعْتُ يَدَيَّ فِي أَذُنَيَّ ثُمَّ نَادَيْتُ: أَلَا إِنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي رَمَضَانَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، قَبْلَهَا ثَلَاثٌ وَبَعْدَهَا ثَلَاثٌ، نَبَّأَنِي مَنْ لَمْ يَكْذِبْنِي عَنْ نَبَإِ مَنْ لَمْ يَكْذِبْهُ، قُلْتُ لِأَبِي يُوسُفَ: يَعْنِي أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كَذَا هُوَ عِنْدِي
۔ زربن حبیش نے کہا: اگر یہ کم عقل لوگ نہ ہوتے تو میں کان میں انگلی ڈال کر زور زور سے یہ اعلان کرتا کہ شب ِ قدر، ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی آخری سات راتوں میں سے پہلے تین راتوں کے بعد اور آخری تین راتوں سے پہلے ہوتی ہے، اس شخصیت نے مجھے یہ بات بتائی جو مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی اور اس کو ایسی ہستی نے بیان کیا کہ وہ بھی اس کو جھوٹی بات بیان نہیں کر سکتی۔ میں نے ابو یوسف سے کہا: کیا ان کی مراد سیدنا ابی بن کعب اور نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں؟ انھوں نے کہا: جی، اسی طرح بات ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4045]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل يزيد بنابي سليمان الكوفي، فھو مجھول الحال، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21199 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21518»
وضاحت: فوائد: … زِرّ بن حبیش کی مراد ستائیسویں شب ہے، وہ ماہِ رمضان کو تیس دنوں کا فرض کر کے آخری سات راتوں کی درمیان والی شب کو قدر والی شب سمجھ رہے ہیں، جو کہ رمضان کی ستائیسوں شب بنتی ہے، انھوں نے یہ روایت سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے لی اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، ان کی جھوٹ نہ بول سکنے والی ہستیوں سے مراد یہی دو شخصیات ہیں۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف من اجل يزيد بنابي سليمان الكوفي
حدیث نمبر: 4046
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ( (مَنْ يَذْكُرُ مِنْكُمْ لَيْلَةَ الصَّحْبَاوَاتِ؟) ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَإِنَّ فِي يَدِي لَتَمَرَاتٍ أَتَسَحَّرُ بِهِنَّ، مُسْتَتِرًا بِمُؤَخَّرَةِ رَحْلِي مِنَ الْفَجْرِ وَذَلِكَ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ
۔ سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ سوال کیا: شب ِ قدر کب ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو یاد ہے کہ صہباوات والی رات کون سی تھی؟ سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، مجھے یاد ہے، اس رات کو سحری کے وقت میں ہاتھ میں کھجوریں لے کر سحری کر رہا تھا اور طلوع فجر کے ڈر سے پالان کے پیچھے چھپا ہوا تھا، جبکہ اس وقت چاند طلوع ہو چکا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4046]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه۔ اخرجه الطيالسي: 329، وابو يعلي: 6393، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 10289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3565»
وضاحت: فوائد: … خیبر کے قریب ایک جگہ کا نام ”صہبائ“ ہے۔ سنن بیہقی اور قاموس وغیرہ میں اس جگہ کا نام مفرد ہی مذکور ہے، جبکہ اس حدیث میں جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، ممکن ہے کہ اس مقام کو ”صہبائ“ بھی کہتے ہوں اور ”صہباوات“ بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صہباوات والی رات کے بارے میں سوال کر کے سائل کو یہ سمجھانا چاہا کہ وہ قدر والی رات تھی، کیونکہ اسی رات کو اس وقت میں چاند طلوع ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 4047
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنِّي شَيْخٌ عَلِيلٌ، يَشُقُّ عَلَيَّ الْقِيَامُ فَأْمُرْنِي بِلَيْلَةٍ لَعَلَّ اللَّهَ يُوَفِّقُنِي فِيهَا لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، قَالَ: ( (عَلَيْكَ بِالسَّابِعَةِ) )
۔ سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اوراس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں بوڑھا اوربیمار آدمی ہوں، میرے لیے قیام کرنا مشکل ہے، لہذا آپ میرے لیے کسی ایک رات کا تعین کر دیں، شاید اللہ تعالیٰ مجھے اس میں شب ِ قدر کی سعادت سے نواز دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ساتویں یعنی ستائیسویں رات کا اہتمام کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4047]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ اخرجه الطبراني: 11836، والبيھقي: 4/ 312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2149»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شب ِ قدر کا زیادہ امکان ستائیسویں تاریخ کی رات کو ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ اخرجه الطبراني: 11836
حدیث نمبر: 4048
عَنْ أَبِي عَقْرَبٍ، قَالَ: غَدَوْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاتَ غَدَاةٍ فِي رَمَضَانَ فَوَجَدْتُهُ فَوْقَ بَيْتِهِ جَالِسًا فَسَمِعْنَا صَوْتَهُ وَهُوَ يَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي النِّصْفِ مِنَ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ غَدَاةَ إِذًا صَافِيَةً لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ) ) ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَوَجَدْتُهَا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ ابو عقرب کہتے ہیں:میں ماہِ رمضان میں ایک دن صبح کے وقت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے تھے، اتنے میں ہم نے ان کو یوں کہتے ہوئے سنا: اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسول نے پہنچا دیا، پھریہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: بلاشبہ ماہِ رمضان کی آخری سات راتوں کی درمیانی شب قدر والی ہے، اس کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ بالکل صاف ہوتا ہے اور اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔ میں نے ابھی اس کی طرف دیکھا ہے اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق پایا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4048]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الطيالسي: 394، وابن ابي شيبة: 2/ 512، 3/ 7، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3857 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3857»
الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ اخرجه الطيالسي: 394
حدیث نمبر: 4049
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ وَسَمِعْتُهُ سَمَاعًا، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ: أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، قَالَ: ( (مَنْ كَانَ مُتَحَرِّيهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي لَيْلَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ) ) ، قَالَ: شُعْبَةُ وَذَكَرَ لِي رَجُلٌ ثِقَةٌ عَنْ سُفْيَانَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّمَا قَالَ: ( (مَنْ كَانَ مُتَحَرِّيهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْبَوَاقِي) ) ، قَالَ شُعْبَةُ: فَلَا أَدْرِي قَالَ ذَا أَوْ ذَا، شُعْبَةُ شَكَّ، قَالَ أَبِي: الرَّجُلُ الثِّقَةُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب ِ قدر کے بارے میں فرمایا: جو آدمی اس رات کا متلاشی ہو تو وہ اسے ستائیسویں شب میں تلاش کرے۔ امام شعبہ نے کہا: ایک ثقہ آدمی نے مجھے بیان کیا کہ امام سفیان تو یہ کہا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس طرح فرمایا تھا کہ جو آدمی اس رات کا متلاشی ہو تو وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔ امام شعبہ نے کہا: اب میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ ارشاد فرمایایا دوسرا، امام شعبہ کو شک ہو گیا، امام احمد نے کہا: ثقہ آدمی سے مراد امام یحیی بن سعید قطان ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4049]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2015، ومسلم: 1165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6474»
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري: 2015
حدیث نمبر: 4050
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: ( (إِنَّهَا لَيْلَةُ سَابِعَةٍ أَوْ تَاسِعَةٍ وَعِشْرِينَ، إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فِي الْأَرْضِ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب ِ قدر کے بارے میں فرمایا: یہ ستائیسویں یا انتیسویں رات ہوتی ہے، اس شب کو کنکریوں کی تعداد سے بھی زیادہ فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4050]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين۔ اخرجه البزار: 1030، وابن خزيمة: 2194، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2543، والطيالسي: 2545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10745»
وضاحت: فوائد: … پچھلے چھ سات ابواب سے شب ِ قدر کے تعین کے بارے میں احادیث ِ مبارکہ کا سلسلہ جاری ہے، ان تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہے: شب ِ قدر کو تلاش کرنے کے لیے رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں کا قیام کیا جائے۔ ان میں سے کوئی رات، شب ِ قدرکے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ یہ رات منتقل ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۴۰۳۳، ۴۰۳۵) سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں رمضان کی اکیس اور تئیس تاریخ کو شب ِ قدر تھی اور آخری باب کی احادیث سے ستائیسویںشب کے حق دلائل ملتے ہیں۔ شب ِ قدر کازیادہ امکان ستائیس تاریخ کو ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف اس رات کو قیام کا خصوصی اہتمام کیاجائے اور باقی طاق راتوں سے غفلت برتی جائے۔ لیلۃ القدر کی علامتیں حدیث نمبر (۴۰۲۲) میں بیان ہو چکی ہیں۔
الحكم على الحديث: اسناده محتمل للتحسين ۔ اخرجه البزار: 1030