الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ نَزْعِ الْمَخِيطِ لِلْمُحْرِمِ وَمَا لَا يَجُوزُ لَهُ مِنَ الثِّيَابِ وَالطِّيبِ
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
حدیث نمبر: 4244
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ أَوْ قَالَ: مَا يَتْرُكُ الْمُحْرِمُ، فَقَالَ: ( (لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ نَعْلَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا، أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! محرم کس قسم کا لباس پہن سکتا ہے؟ یا اس نے کہا کہ محرم کس قسم کا لباس نہیں پہن سکتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قمیص، شلوار، پگڑی اور موزے نہیں پہن سکتا، ہاں اگر اسے جوتے دستیاب نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک (کاٹ کر) پہن سکتا ہے، اسی طرح کوٹ یا برانڈی نہیں پہن سکتا اور وہ کپڑے بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس اور زعفران کی خوشبو لگی ہو ئی ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4244]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1838،5794، 5805، 5806، ومسلم: 1177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4482»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1838
حدیث نمبر: 4245
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَزَادَ فِيهِ) وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ، وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ
۔ (دوسری سند) یہ حدیث بھی سابقہ حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: اور احرام والی عورت نہ نقاب اوڑھے اور نہ دستانے پہنے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4245]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6003»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6003
حدیث نمبر: 4246
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْبُرْنُسَ وَلَا الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ يَضْطَرَّ، يَقْطَعُهُ مِنْ عِنْدِ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا يَلْبَسَ ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ، وَلَا الزَعْفَرَانُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ غَسِيلًا) )
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محرم کوٹ یا برانڈی، قمیص، پگڑی، شلوار اور موزے نہیں پہن سکتا، اگر جوتے دستیاب نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر استعمال کر سکتا ہے، نیز وہ کپڑا بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس یا زعفران خوشبو لگی ہوئی ہو، الّا یہ کہ وہ دھو لیا جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4246]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5003»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ((اِنْطَلَقَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنَ الْمَدِیْنَۃِ بَعْدَ مَا تَرَجَّلَ وَادَّھَنَ وَلَبِسَ اِزَارَہٗوَھُوَوَاَصْحَابُہٗ،فَلَمْیَنْہَ عَنْ شَیْئٍ مِنَ الْاَرْْدِیَۃِ وَالْاُزُرِ تُلْبَسُ اِلَّا الْمُزَعْفَرَۃَ الَّتِیتَرْدَعُ عَلَی الْجِلْدِ)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنگھی کی، تیل لگایا اور ازار پہنا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ مدینہ سے چل پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چادر اور ازار پہننے سے منع نہیں کیا، مگر وہ زعفران والی چادر، جس سے زعفران جسم پر لگ جاتی ہو۔ (صحیح بخاری: ۱۵۴۵)
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5003
حدیث نمبر: 4247
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَنْهَى النَّاسَ إِذَا أَحْرَمُوا عَمَّا يُكْرَهُ لَهُمْ: ( (لَا تَلْبَسُوا الْعَمَائِمَ) ) فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۔ (چوتھی سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو احرام کے دوران ان امور سے منع کر رہے تھے، جو ان کے لیے ناپسند کیے جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احرام کی حالت میں پگڑیاں نہ باندھا کرو، …۔ باقی حدیث سابقہ حدیث کی مانند ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4247]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4868»
وضاحت: فوائد: … قمیص اور شلوار سے منع کر کے یہ تنبیہ کر دی گئی کہ ہر وہ لباس منع ہے جو بدن یا کسی ایک عضو کے مطابق سلائی کیا جائے۔ ٹخنوں سے مراد ہر پاؤں کی وہ دو دو ہڈیاں ہیں، جو پنڈلی اور پاؤں کے جوڑ پر نظر آتی ہیں، عام طور پر ہم لوگ ان ہی ہڈیوں کو ٹخنے کہتے ہیں۔ نقاب سے مراد عورت کا چہرے پر کپڑے کا کسنا اور باندھنا ہے۔حافظ ابن حجر نے کہا: نقاب سے مراد وہ دوپٹہ ہے، جو ناک پر یا آنکھوں کے خانوں کے نیچے باندھا جاتا ہے۔لیکنیہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جیسے مرد قمیص نہیں پہن سکتا ہے، لیکن اپنے بدن کو چادر سے ڈھانک سکتا ہے اور عورت دستانے نہیں پہن سکتی، لیکن اس کے دوپٹے یا چادر وغیرہ میں اس کے ہاتھ چھپ سکتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی عورت اپنے چہرے پر اس طرح کپڑا کر لے، جو کہ نقاب سے مختلف ہو تو یہ جائز ہو گا، مثلا سر سے نیچے کپڑا لٹکا لینا، شیڈ والی ٹوپی پہن کر اس پر کپڑا لٹکا لینا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
((نَھَی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم النِّسَائَ فِیْ اِحْرَامِھِنَّ عَنِ الْقُفَّازَیْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثَّیَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَالِکَ مَا اَحَبَّتْ مِنْ اَلْوَانِ الثِّیَابِ مُعَصْفَرًا اَوْ خَزًّا اَوْ حُلِیًّا اَوْ سَرَاوِیْلَ اَوْ قَمِیْصًا اَوْ خُفًّا۔)) … (ابو داود: ۱۸۲۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو دورانِ احرام دستانوں، نقاب اور ان کپڑوں سے منع کیا، جس کو ورس یا زعفران لگا ہوا ہو، اس کے بعد عورت قسم قسم کے جو ملبوس پسند کرے، پہن سکتی ہے، وہ زرد رنگ کی عُصْفُر بوٹی سے رنگا ہوا ہو یا اون یا ریشم کا بناہوا ہو یا زیور ہو یا شلوار ہویا قمیص ہو یا موزہ ہو۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
((نَھَی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم النِّسَائَ فِیْ اِحْرَامِھِنَّ عَنِ الْقُفَّازَیْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثَّیَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَالِکَ مَا اَحَبَّتْ مِنْ اَلْوَانِ الثِّیَابِ مُعَصْفَرًا اَوْ خَزًّا اَوْ حُلِیًّا اَوْ سَرَاوِیْلَ اَوْ قَمِیْصًا اَوْ خُفًّا۔)) … (ابو داود: ۱۸۲۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو دورانِ احرام دستانوں، نقاب اور ان کپڑوں سے منع کیا، جس کو ورس یا زعفران لگا ہوا ہو، اس کے بعد عورت قسم قسم کے جو ملبوس پسند کرے، پہن سکتی ہے، وہ زرد رنگ کی عُصْفُر بوٹی سے رنگا ہوا ہو یا اون یا ریشم کا بناہوا ہو یا زیور ہو یا شلوار ہویا قمیص ہو یا موزہ ہو۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4868
حدیث نمبر: 4248
عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُحْرِمَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ مَصْبُوغٍ بِزَعْفَرَانٍ قَدْ غُسِلَ لَيْسَ فِيهِ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ
۔ عطاء سے روایت ہے وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ محرم زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے کو اس طرح دھو کر استعمال کرے کہ نہ تو اس میں اتنا رنگ رہے کہ وہ جسم کو لگے اور نہ اس میں اس کی خوشبو رہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4248]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ابي شيبة: ص 142، والبزار: 1086، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3313»
الحكم على الحديث: أخرجه ابن ابي شيبة: ص 142
حدیث نمبر: 4249
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4249]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه البزار: 1087، وابويعلي: 2692، واخرج البخاري: 1545 عن عبد الله بن عباس، قال: انطلق النبي صلي الله عليه وآله وسلم من المدينة بعد ما ترجل وادھن، ولبس ازاره ورداء ه ھو واصحابه، فلم ينه عن شيء من الاردية والازر تلبس، الا المزعفرة التيتردع علي الجلد۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3314»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَخَّصَ فِیْ الثَّوْبِ الْمَصْبُوْغِ، مَا لَمْ یَکُنْ فِیْہِ نَفْضٌ وَلَارَدْعٌ)) … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رنگے ہوئے کپڑے کی اس وقت رخصت دی، جب نہ تو اس میں اتنا رنگ رہے کہ وہ جسم کو لگے اور نہ اس میں اس کی خوشبو رہے۔“
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 4250
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب محرم کو جوتے دستیاب نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے، لیکن ٹخنوں کے نیچے سے ان کو کاٹ دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4250]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 5/ 135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4454»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه النسائي: 5/ 135
حدیث نمبر: 4251
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ( (إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ إِزَارًا فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ، وَإِذَا لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: جب محرم کو چادر دستیاب نہ ہو تو وہ شلوار پہن سکتا ہے اور اسی طرح جب جوتے دستیاب نہ ہوں تو وہ موزے پہن سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4251]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1841، 1843، ومسلم: 1178، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1848 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1848»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1841
حدیث نمبر: 4252
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4252]
تخریج الحدیث: «أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية:»
الحكم على الحديث: أخرجه
حدیث نمبر: 4253
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ابْتَاعَ جَارِيَةً بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَأَعْتَقَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَحُجَّ مَعَهُ فَابْتَغَى لَهَا نَعْلَيْنِ فَلَمْ يَجِدْهُمَا، فَقَطَعَ لَهَا خُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ شِهَابٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ، ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَخِّصُ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ ثُمَّ تَرَكَهُ
۔ امام نافع، جن کی بیوی سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ام ولد تھی، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک لونڈی خریدی اور اسے آزاد کر کے اس کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ حج کرے، پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے جوتے تلاش کئے، لیکن وہ نہ ملے، اس لیے انہوں نے موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: جب میں نے اس بات کا ابن شہاب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ سالم نے اس کو بیان کیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایسے ہی کیا کرتے تھے، لیکن بعد میں جب صفیہ بنت ابی عبید نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بتلایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تو یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین کے لئے موزوں کی اجازت دیا کرتے تھے، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ عمل ترک کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4253]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1831، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24568»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ عورت دورانِ احرام پورے موزے پہن سکتی ہے، حدیث نمبر (۴۲۴۷) کی شرح میں مذکور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے بھییہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 1831