🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

46. الْفَصْلُ الثَّانِي مِنْ أَيْنَ يُدْخَلُ مَكَّةَ وَفِي أَيِّ وَقْتٍ
مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4318
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى
۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں ثنیٔہ علیا کے راستے سے داخل ہوتے تھے اور ثنیۂ سفلٰی کے راستہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4318]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4625»

الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4625
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4319
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ، وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدًى
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ کی بالائی جہت کَدَاء کے راستے سے اس شہر میں داخل ہوئے اور عمرہ کے موقع پر کُدی کے راستے سے داخل ہوئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4319]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1577، 4291، ومسلم: 1258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24815»
وضاحت: فوائد: … کَدَائ سے مراد ثنیۂ علیا اور کُدیسے مراد ثنیۂ سفلی ہے، جن کا ذکر پچھلی دو احادیث میں گزر چکا ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1577
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4320
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقِ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ ثَنِيَّةِ الْإِذْخِرِ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر اذخر گھاس والی گھاٹی کی طرف سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4320]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن ابي زياد القداح۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 4286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26768»
وضاحت: فوائد: … اذخر گھاس والی گھاٹی سے مراد ثنیۂ علیا ہی ہے۔ امام نووی نے کہا: صحیح اور پسندیدہ مذہب یہ ہے کہ ہر محرِم کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت ثنیۂ علیا والی جہت سے آئے، اگر یہ گھاٹی اس کے راستے میں نہیں پڑتی تو پھر بھی اسے اُدھر سے ہی آنا چاہیے، ہمارے محققین کییہی رائے ہے۔ (شرح المہذب) بلکہ شیخ محمد جوینی نے کہا: یہ گھاٹی مدینہ سے مکہ کے راستے پر نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جان بوجھ کر اصل راستے کو چھوڑ کر یہ جہت اختیار کی، اس لیے ہر آدمی کے اِس گھاٹی کی طرف سے آنا مستحبّ ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت بالائی جہت والا راستہ کیوں اختیار کیا اور پھر واپسی پر راستہ بدلنے میں کیا حکمت ہے؟ اس کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: راستہ بدلنے کی وجہ تو یہ ہے کہ دونوں راستوں
والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تبرّک حاصل کریں گے، جیسا عیدین کے لیے آنے جانے کا مسئلہ تھا، اور تشریف آوری کے وقت بالائی جہت سے آنے میں حکمت یہ ہے کہ اس طرح سے آنے میں جگہ کی تعظیم ہوتی ہے اور نچلی جانب کی جہت سے نکل جانے میں اس جگہ سے جدا ہونے کی طرف اشارہ ہوتا ہے، ایک قول یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اس بالائی جہت سے داخل ہوئے تھے، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کے موقع پر اس شہر سے چھپ کر نکلے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بار چاہا کہ شہر کی بالائی جانب سے اور کھلم کھلا اور اعلانیہ طور پر داخل ہوا جائے، ایک قول یہ ہے کہ اس طرف سے آمد کی وجہ آدمی کا بیت اللہ کے سامنے رہنا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر اس جہت سے داخل ہوئے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی عمل کو برقرار رکھنا چاہا ہو اور اس کا سبب ابو سفیان کا یہ قول ہے، جو انھوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: میں اس وقت تک مسلمان نہیں ہوں گا، جب تک گھوڑوں کو کداء سے آتا ہوا نہیں دیکھ لوں گا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیسی بات ہوئی؟ انھوں نے کہا: بس میرے دل میں یہ خیال آ گیا ہے اور اللہ تعالی اِدھر سے کبھی بھی گھوڑوں کو نہیں لائے گا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے تو میں نے ابو سفیان کو ان کی بات یاد کرائی، جبکہ سنن بیہقی کی سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: حسان نے کیسے کہا تھا؟ انھوں نے جواباً یہ شعر پڑھا:
عُدِمَتْ بِنْیَتِیْ اِنْ لَّمْ تَرَوْھَا
تُثِیْرُ النَّقْعَ مَطْلَعُھَا کَدَائٗ
یہ سن کر آپ مسکرائے اور فرمایا: ((اُدْخُلُوْھَا مِنْ حَیْثُ قَالَ حَسَّانُ۔)) … وہاں سے داخل ہو، جہاں سے حسان نے کہا تھا۔ (فتح الباری: ۳/ ۵۵۹)
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ بالائی جہت سے آنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد اچھی فال تھا کہ جس مقصد کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تھا وہ غالب آ گیا، اب اس خطۂ زمین میں دشمنان اسلام اور ان کا نظام پست ہو گیا ہے اور اوپر سے آنے اور نیچے کو نکل جانے میں یہ اشارہ ہے کہ اس خطے کی ہر طرف یہ نظام مصطفی چھا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن ابي زياد القداح۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 4286
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4321
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ نَهَارًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں دن کے وقت داخل ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4321]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه: 2941، والترمذي: 854، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5230 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5230»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف عمرۂ جعرانہ کے موقع پر رات کو داخل ہوئے تھے اور رات کو ہی عمرہ کر کے واپس چلے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دن کو تشریف لانااس اعتبار سے انتہائی مناسب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افعال کی اقتداء کرنا آسان ہو جائے گی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ لوگ مناسک ِ حج کی تعلیم حاصل کر لیں۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں