الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. بَابُ طَوَافِ الْقُدُومِ وَالرَّمَلِ وَالِاضْطِبَاعِ فِيهِ
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
حدیث نمبر: 4327
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى، قَالَ: فَأَطْلَعَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا، وَقَعَدَ الْمُشْرِكُونَ نَاحِيَةَ الْحِجْرِ، يَنْظُرُونَ إِلَيْهِمْ فَرَمَلُوا وَمَشَوْا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَزْعُمُونَ أَنَّ الْحُمَّى وَهَنَتْهُمْ، هَؤُلَاءِ أَقْوَى مِنْ كَذَا وَكَذَا، ذَكَرُوا قَوْلَهُمْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا إِبْقَاءٌ عَلَيْهِمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام مکہ مکرمہ تشریف لائے، یثرب کے بخار کی وجہ سے یہ لوگ کمزور ہوچکے تھے، مشرکین آپس میں یہ باتیں کرنے لگے کہ ان کے پاس ایسے لوگ آرہے ہیں جن کو بخار نے لاغر اور کمزور کردیا ہے، اُدھر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی اس بات سے آگاہ کردیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ طواف میں رمل کریں، مشرکین حطیم کی طرف بیٹھے ان کو دیکھ رہے تھے، پس مسلمانوں نے طواف میں رمل کیا، البتہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتار سے چلے، ان کو دیکھ کر مشرک لوگ کہنے لگے: یہ ہیں وہ لوگ جن کے متعلق تم کہتے تھے کہ انہیں بخار نے لاغر کردیا ہے، یہ تو بڑے طاقت ور ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ پر شفقت کرتے ہوئے تمام چکروں میں رمل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4327]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1602، 4256، ومسلم: 1266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2639»
وضاحت: فوائد: … یہ عمرۂ قضا کا واقعہ ہے اور ہجرت کے بعد بیت اللہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلی آمد کا موقع تھا۔ حجر اسود سے رکن یمانی تک رمل کیا جاتا ہے اور رکن یمانی سے حجر اسود کے مابین عام چال چلی جاتی ہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین حطیم کی طرف بیٹھے تھے، اس لیے جب مسلمان اِن دو کونوں کے مابین عام چال چلتے تھے تو وہ اِن کو نہیں دیکھ پاتے تھے۔ سنن ابو داود کی روایت کے الفاظ یوں ہیں: ((وَکَانُوْا اِذَا بَلَغُوْا الرُّکْنَ الْیَمَانِیَّ وَتَغَیَّبُوْا مَشَوْا ثُمَّ یَطَّلِعُوْنیَرْمُلُوْنَ)) … جب صحابۂ کرام رکن یمانی تک پہنچتے اور مشرکوں سے چھپ جاتے تو عام چال چلنا شروع کر دیتے، پھر جب (حجر اسود کے بعد) ان کے سامنے آتے تو رمل شروع کر دیتے۔
کعبہ کی عمارت درج ذیل چار کونوں پر مشتمل ہے:
(۱) حجر اسود، (۲) رکن یمانی، (۳) رکن شامی اور (۴) رکن عراقی۔ اول الذکر دو کو ”رکنینیمانیین“ اور مؤخر الذکر دو کو ”رکنین شامیین“ کہتے ہیں، شامی ارکان کی طرف حطیم ہے۔
اگرچہ رمل کا سبب یہ تھا کہ مسلمان، مشرکوں کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کریں اور بعد میں یہ سبب زائل ہو گیا، لیکن رمل کو بطورِ سنت برقرار رکھا گیا، جیسا کہ اگلی روایات سے معلوم ہو گا۔
کعبہ کی عمارت درج ذیل چار کونوں پر مشتمل ہے:
(۱) حجر اسود، (۲) رکن یمانی، (۳) رکن شامی اور (۴) رکن عراقی۔ اول الذکر دو کو ”رکنینیمانیین“ اور مؤخر الذکر دو کو ”رکنین شامیین“ کہتے ہیں، شامی ارکان کی طرف حطیم ہے۔
اگرچہ رمل کا سبب یہ تھا کہ مسلمان، مشرکوں کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کریں اور بعد میں یہ سبب زائل ہو گیا، لیکن رمل کو بطورِ سنت برقرار رکھا گیا، جیسا کہ اگلی روایات سے معلوم ہو گا۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1602
حدیث نمبر: 4328
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ بِالْبَيْتِ إِذَا انْتَهَى إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ مَشَى حَتَّى يَأْتِيَ الْحَجَرَ ثُمَّ يَرْمُلُ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانَتْ سُنَّةً، (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
۔ ابوطفیل سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا، جب آپ رکن یمانی کے پاس پہنچتے تو حجر اسود تک عام رفتار سے چلتے، اس کے بعد پھر رمل کرتے اور باقی چار چکروں میں آپ عام رفتار سے چلے۔پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس طرح یہ رمل سنت ہے اور یہ حجۃ الوداع کا واقعہ تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4328]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2220 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2220»
وضاحت: فوائد: … جن اسباب کی بنا پر رمل کی ابتداء ہوئی تھی، وہ حجۃ الوداع کے موقع پر مفقود تھے، لیکن رمل کا حکم مستقل سنت کی حیثیت اختیار کر جانے کی وجہ سے باقی رہے گا۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1264
حدیث نمبر: 4329
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَعْيًا، وَإِنَّمَا سَعَى أَحَبَّ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے اور (پہلے تین چکر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوڑ کر پورے کیے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو اپنی قوت دکھائیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4329]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2220 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2829»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1264
حدیث نمبر: 4330
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ وَفِي عُمَرِهِ كُلِّهَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَالْخُلَفَاءُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حج اور تمام عمروں کے طواف میں اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان اور باقی خلفاء نے رمل کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4330]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه ابو يعلي: 2492، وابن ابي شيبة: ص 407، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1972»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط البخاري ۔ أخرجه ابو يعلي: 2492
حدیث نمبر: 4331
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَافَ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ خَبَّ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب پہلا طواف (یعنی طواف قدوم) کرتے تو ابتدائی تین چکروں میں رمل کرتے اور باقی چارچکروں میں عام رفتار سے چلتے اور صفا ومروہ کی سعی کرتے وقت وادی کے درمیان میں دوڑتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4331]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1644، ومسلم: 1261، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5737»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1644
حدیث نمبر: 4332
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَرْمُلُ ثَلَاثًا وَيَمْشِي أَرْبَعًا وَيَزْعُمُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ وَكَانَ يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَمْشِي مَا بَيْنَهُمَا لَيَكُونَ أَيْسَرَ لِاسْتِلَامِهِ
۔ نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے اور باقی چکروں میں عام رفتار چلتے اور یہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایسے ہی کیاکرتے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ رکن یمانی اور حجر اسود کے مابین عام رفتا ر سے چلا کرتے تھے، جناب نافع نے کہا: وہ ان دو کے درمیان اس لیے چلتے تھے، تاکہ حجر اسود کا استلام کرنے میں آسانی ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4332]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1617، ومسلم: 1261، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4618»
وضاحت: فوائد: … امام نافع کے نزدیک رکن یمانی سے حجر اسود تک عام چال چلنے کی وجہ حجر اسود کا استلام کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہے، یہ جنابِ نافع کا ذاتی فہم ہے، یہاں عام چال چلنے کی وجہ مشرکوں سے اوجھل ہو جانا تھا، جیسا کہ اس باب کی پہلی حدیث میں وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1617
حدیث نمبر: 4333
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجراسود سے حجراسود تک رمل کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4333]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6047»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود سے لے کر حجر اسود تک تین چکروں میں ”رمل“ کیا اور چار چکروں میں عام چال چلتے رہے۔ (مسلم)عمرۂ قضاء کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طوافِ قدوم کے پہلے تین چکروں میں حجر اسود سے رکن یمانی تک رمل کیا تھا، لیکن حجۃ الوداع کے موقع پر حجر اسود سے حجر اسود تک، یعنی پورے چکر میں رمل کیا، جیسا کہ اِس حدیثسے معلوم ہوتا ہے۔امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث والا عمل عمرۂ قضاء کے موقع پر۷ھ میں پیش آیا، جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث والا عمل ۱۰ ھ میں پیش آیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری عمل کو لیا جائے گا اور پہلے والے عمل کو منسوخ سمجھا جائے گا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۲/ ۹۲) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ پہلے تین چکروں میں مکمل رمل کیا جائے گا۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6047
حدیث نمبر: 4334
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ مُضْطَبِعٌ بِبُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ
۔ سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرمی چادر سے اضطباع کیا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4334]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18120»
وضاحت: فوائد: … اضطباع کا معنییہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چادر اس طرح لپیٹی ہوئی تھی کہ آپ کا دایاں کندھا برہنہ تھا، طوافِ قدوم کے ساتوں چکروں میں اضطباع کیا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1883
حدیث نمبر: 4335
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعْرَانَةَ فَاضْطَبَعُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ (وَفِي لَفْظٍ) جَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ وَقَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمُ الْيُسْرَى
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کیا تو انہوں نے اس طرح اضطباع کیا ہوا تھا کہ انھوں نے (دائیں کندھوں کی) بغلوں سے چادروں کو گزار کر بائیں کندھے پر ڈالا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4335]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 1884، 1890، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2792»
الحكم على الحديث: اسناده قوي علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابوداود: 1884
حدیث نمبر: 4336
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعْرَانَةَ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کیا اورانہوں نے بیت اللہ کے گرد طواف کرتے وقت پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چارچکروں میں عام رفتار سے چلے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4336]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2688»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2688