الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ فَضْلِ الطَّوَافِ وَالرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ وَالْحَجَرِ الْأَسْوَدِ وَمَقَامِ إِبْرَاهِيمَ
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
حدیث نمبر: 4338
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ مَسْحَ الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ وَالرُّكْنِ الْأَسْوَدِ يَحُطُّ الْخَطَايَا حَطًّا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رکن یمانی اور حجر اسود کو چھونا غلطیوں کو مٹا دینا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4338]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 959، والنسائي: 5/221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5621»
وضاحت: فوائد: … حجر اسود کو استلام کرنے کے چار طریقے ہیں: (۱) اسے بوسہ دینا، (۲)اپنے ہاتھ کے ساتھ حجر اسود کو چھو کر ہاتھ کا بوسہ لینا، (۳)کسی چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کو چھونا اور پھر چھڑی کو بوسہ دینا اور اگر یہ تمام صورتیں ناممکن ہوں تو (۴) دور سے اس کی طرف منہ کر کے صرف اشارہ کرنا۔ رہا مسئلہ رکن یمانی کا، تو حسب ِ امکان اسے صرف ہاتھ سے مسّ کرنا مشروع ہے، اگر چھونا ناممکن یا زیادہ بامشقت ہو تو طواف کرنے والا اس کی طرف اشارہ کیےیا متوجہ ہوئے بغیر وہاں سے گزر جائے گا، اس کونے کا بوسہ لینایا اس کی طرف اشارہ کرنا غیر مشروع ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4339
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ لِابْنِ عُمَرَ مَالِي لَا أَرَاكَ تَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ أَفْعَلْ ذَلِكَ، فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ اسْتِلَامَهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا) ) قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ( (مَنْ طَافَ أُسْبُوعًا يُحْصِيهِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ) ) قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ( (مَا رَفَعَ رَجُلٌ قَدَمًا وَلَا وَضَعَهَا إِلَّا كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ) )
۔ عبید بن عمیر نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجراسود والے دو کونوں کا ہی استلام کرتے ہیں؟ انھوں نے جواباًکہا: اگر میں اس طرح کر رہا ہوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ان دونوں رکنو ں کا استلام کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ نیز سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی طواف کے سات چکر لگائے اور پھر دورکعت ادا کرے اسے ایک گردن آزاد کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔ مزید انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ طواف میں آدمی کو ایک ایک قدم اٹھانے اور رکھنے پر دس نیکیاں ملتی ہیں، دس گناہ معاف ہوتے ہیں اور دس درجے بلند کئے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4339]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4462»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4340
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَأْتِي هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ) )
۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن یہ پتھر (حجر اسود) ضرور اس حال میں حاضر ہوگا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا۔ اور زبان ہوگی جس سے وہ بولے گا جس نے اسے حق کے ساتھ چوما ہوگا اس کے حق میں گواہی دے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4340]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2944، والترمذي: 961، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2215»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4341
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَكَانَ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، حَتَّى سَوَّدَتْهُ خَطَايَا أَهْلِ الشِّرْكِ) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حجر اسود جنت سے ہے، (جب اس کو جنت سے اتارا گیا تھا تو) اس وقت یہ برف سے زیادہ سفید تھا، لیکن اب مشرکین کے گناہوں نے سیاہ کردیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4341]
تخریج الحدیث: «صحيح (صحيحه:2618)۔ أخرجه النسائي: 5/ 226، والترمذي: 877، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3537»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبدا للہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْلَا مَامَسَّہٗمِنْاَنْجَاسِالْجَاھِلِیَّۃِ، مَامَسَّہٗذُوْعَاھَۃٍ إِلَّا شُفِيَ، وَمَا عَلَی الْاَرْضِ شَيْئٌ مِنَ الْجَنَّۃِ غَیْرَہٗ۔)) … ”اگر اس (حجر اسود) کو جاہلیت کی نجاستوں نے نہ چھوا ہوتا تو اسے مسّ کرنے سے کسی بھی تکلیف والے آدمی کی تکلیف دور ہو جاتی، اس پتھر کے علاوہ زمین میں جنت کی کوئی چیز نہیں ہے۔“ (سنن بیہقی: ۵/ ۷۵، صحیحہ: ۳۳۵۵)
معلوم ہوا کہ جنتی چیزیں بابرکت ہوتی ہے اور ان کو چھونے سے شفا ملتی ہے۔ نیز گناہوں کی نحوست اور بے برکتی دیکھیں کہ جنت سے اتارا جانے والا پتھر بھی متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ معلوم نہیں کہ خطاؤں کی نحوست گنہگاروں سے کیا سلوک کرے گی۔
معلوم ہوا کہ جنتی چیزیں بابرکت ہوتی ہے اور ان کو چھونے سے شفا ملتی ہے۔ نیز گناہوں کی نحوست اور بے برکتی دیکھیں کہ جنت سے اتارا جانے والا پتھر بھی متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ معلوم نہیں کہ خطاؤں کی نحوست گنہگاروں سے کیا سلوک کرے گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4342
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حجر اسود جنت سے ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4342]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه البزار: 1115،و الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 4951، والبيھقي: 5/ 75، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13986»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4343
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَأْتِي الرُّكْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مِنْ أَبِي قُبَيْسٍ، لَهُ لِسَانٌ وَشَفَتَانِ) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حجراسود قیامت کے دن ابوقبیس پہاڑ سے بھی بڑا ہوکر آئے گا اور اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4343]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن خزيمة: 2737، والحاكم: 1/ 457، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6978 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6978»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4344
عَنْ مُسَافِعِ بْنِ شَيْبَةَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو (يَعْنِي ابْنَ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: فَأَنْشُدُ بِاللَّهِ ثَلَاثًا وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: ( (إِنَّ الرُّكْنَ وَالْمَقَامَ (وَفِي لَفْظٍ إِنَّ الْحَجَرَ وَالْمَقَامَ) يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ، طَمَسَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نُورَهُمَا، وَلَوْ لَا أَنَّ اللَّهَ طَمَسَ نُورَهُمَا لَأَضَاءَتَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ (وَفِي لَفْظٍ: مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ) ) )
۔ مُسافع بن شیبہ کہتے ہیں: سیدناعبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تین بار اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں، پھر انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال دیں اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: حجراسود اور مقام ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں، اللہ تعالی نے ان کانور ختم کردیا ہے، اگر اللہ نے ان کا نور ختم نہ کیا ہوتا تو ان کی چمک سے مشرق ومغرب کے درمیان والا حصہ منور ہوجاتا،ایک روایت میں ہے: زمین وآسمان کے درمیان والا خلا منور ہوجاتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4344]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، والاصح وقفه، رجاء ابو يحيي ليس بقوي۔ أخرجه الترمذي: 878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7000»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث میں حجر اسود اور رکن یمانی کی فضیلت کا بیان ہے۔درج ذیل حدیث ضعیف ہے: ((اِنَّ الْحَجَرَ یَمِیْنُ اللّٰہِ فِیْ الْاَرْضِ یُصَافِحُ بِھَا خَلْقَہٗ۔)) … ”بیشک حجر اسود زمین میں اللہ تعالی کا دایاں ہاتھ ہے، وہ اس کے ساتھ اپنی مخلوق سے مصافحہ کرتا ہے۔“ (معجم اوسط: ۱/ ۱۷۷)
الحكم على الحديث: ضعیف