🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

54. بَابُ اسْتِلَامِ الْأَرْكَانِ كُلِّهَا
بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4356
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ طَافَ مَعَ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْبَيْتِ، فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: لِمَ تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْبَيْتِ مَهْجُورًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: صَدَقْتَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا، ہوا یوں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کیا،یہ دیکھ کر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: آپ بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کیوں کرتے ہیں، جبکہ اللہ کے رسول نے تو ان سب کا استلام نہیں کیا؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بیت اللہ کے کسی حصے کو بھی نہیں چھوڑا جا سکتا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (البتہ تحقیق تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے)۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4356]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 858، وأخرجه مسلم: 1269 ولم يذكر قصة معاوية، وعلقه البخاري: 1608 بصيغة الجزم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1877 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1877»

الحكم على الحديث: حسن لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 858
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4357
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَطَافَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَاسْتَلَمَ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: إِنَّمَا اسْتَلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ، قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَةُ: النَّاسُ يَخْتَلِفُونَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، يَقُولُونَ: مُعَاوِيَةُ هُوَ الَّذِي قَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبَيْتِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ وَلَكِنَّهُ حَفِظَهُ مِنْ قَتَادَةَ هَكَذَا
۔ ابوطفیل کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں مکہ مکرمہ آئے، سیدنا ا بن عباس رضی اللہ عنہ نے طواف کیا اور انہوں نے بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف یمنی کونوں کا استلام کیا ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: بیت اللہ کا کوئی بھی حصہ چھوڑا ہوا نہیں ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: راویوں نے اس حدیث کو مختلف اندازوں میں بیان کیا ہے،وہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی تھی کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی چھوڑا نہیں جا سکتا، لیکن انھوں نے قتادہ سے یہ حدیث اسی طرح ہی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4357]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، علي قلب في متنه، فالمحفوظ ان القائل: ’’ليس من البيت شيء مھجور‘‘ ھو معاوية۔ انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16983»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذاتی رہے تھی کہ چاروںکونوںکا استلام کیا جائے، لیکن جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل بیان کیا تو انھوں نے اسی عمل کا اعتراف کیا اور یہی مؤمن کی شان ہے کہ حق کے واضح ہو جانے کے بعد وہ اپنی رائے کو ترک کر کے حق کی پیروی کرتا ہے، جبکہ حق کی طرف رجوع کرنے میں فضیلت و عظمت ہے۔
قارئین سے گزارش ہے کہ وہ یہ نقطہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ بسا اوقات ہمارے فہم کے تقاضے اور ہوتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے تقاضے اور ہوتے ہیں، کعبۃ اللہ کے چار کونے ہیں، ایک کونے میں حجر اسود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے چار طریقوں سے اس کا استلام کرنے کو مشروع قرار دیا، جبکہ رکن یمانی کو حسب ِ امکان صرف مسّ کرنے کا حکم دیا اور باقی دو کونوں کو بالکل چھوڑ دیا، اب اگر کوئی آدمی رکن یمانی کو بوسہ دینا شروع کر دے یا دوسرے دو کونوں کا استلام بھی شروع کر دے تو اسے وہی بات کہی جائے گی، جو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہی تھی اور انھوں نے جواباً ان کی تصدیق کی تھی۔ اب بھی دورانِ طواف کئی لوگ درج ذیل امور کی پابندی کرتے ہیں، جبکہ یہ تمام امور خلافِ شرع ہیں: حجر اسود کی طرف اشارہ کر کے ہاتھوں کو چومنا، رکن یمانیکو چومنا یا اس رکن کی طرف اشارہ کرنا، دورانِ طواف بآواز بلند اجتماعی ذکر کرنا، ہر چکر کے لیے مخصوص اذکار کا اہتمام کرنا، رکن یمانی کو چھونے اور حجر اسود کو بوسہ دینے اور ملتزم تک پہنچنے کے لیے خوب دھکم پیل کرنا، لوگوں کے پاؤں مسلنا اور غیرمحرم عورتوں کے جسموں سے رگڑ کھا کر جانا۔

الحكم على الحديث: رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں