الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. فَصْلٌ مِنْهُ فِي اسْتِلَامِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ وَتَقْبِيلِهِ وَمَا يُقَالُ عِنْدَ ذَلِكَ وَمَا يُفْعَلُ مِنْ زُوحِمَ
حجراسود کا استلام کرنے،اس کو بوسہ دینے اوراس وقت کی دعا کا بیان، نیز ہجوم والا بندہ کیا کرے، اس چیز کا بیان
حدیث نمبر: 4351
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْحَجَرِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ
۔ زبیر بن عربی کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حجراسود کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے حجراسود کا بوسہ لے کر اس کا استلام کیا، اس آدمی نے کہا: اگر ہجوم ہوتو؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس اگر مگر کو یمن میں رکھو، میں کہہ رہا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کااستلام کرتے ہوئے اور بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4351]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1611، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6396»
وضاحت: فوائد: … بہرحال حجر اسود کے استلام کے چار طریقے ہیں، حدیث نمبر (۴۳۳۸) میں گزر چکے ہیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1611
حدیث نمبر: 4352
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ فَلَا أَدَعُ اسْتِلَامَهُ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجراسود کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے، اب ہجوم ہویا نہ ہو، میں اس کا استلام نہیں چھوڑوں گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4352]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1606، ومسلم: 1268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4463»
وضاحت: فوائد: … یہاں استلام سے مراد بوسہ لینا ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1606
حدیث نمبر: 4353
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَكَبَّ عَلَى الرُّكْنِ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْ لَمْ أَرَ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ وَاسْتَلَمَكَ، مَا اسْتَلَمْتُكَ وَلَا قَبَّلْتُكَ، {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حجراسود کے اوپرجھکے اور کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے اور تیرا استلام کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی نہ تیرا استلام کرتا اور نہ تجھے بوسہ دیتا۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں بہترین نمونہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4353]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه البزار: 191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 131 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 131»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اِنِّیْ اَعْلَمُ اَنَّکَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا اَنِّیْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُقَبِّلُکَ مَا قَبَّلْتُکَ۔))سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس مناسبت سے یہ وضاحت کی تھی کہ لوگوں نے کچھ عرصہ پہلے ہی بتوں کی پوجاپات چھوڑی تھی، اس لیے ممکن تھا کہ حجر اسود کے استلام سے ان کو یہ شبہ ہونے لگ جاتا کہ اسلام میں بھی پتھروں کی تعظیم کی جاتی ہے، جیسا کہ دورِ جاہلیت میںعرب لوگ کرتے تھے، سو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے واضح کر دیا کہ اس پتھر کا نفع و نقصان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی جا رہی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کا مفہوم یہ ہے کہ امورِ دین میں شارع علیہ السلام کی پیروی کی جائے، اگرچہ ان امور کی حکمتوں اور معنوں کو ہم نہ سمجھ سکیں۔
الحكم على الحديث: اسناده قوي ۔ أخرجه البزار: 191
حدیث نمبر: 4354
عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَظَرَ إِلَى الْحَجَرِ فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ، ثُمَّ قَبَّلَهُ
۔ عابس بن ربیعہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حجراسود کی طرف دیکھا اور اس سے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا، پھر انہوں نے اس کو بوسہ دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4354]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1597، ومسلم: 1270، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 99 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 99»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1597
حدیث نمبر: 4355
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: ( (يَا عُمَرُ إِنَّكَ رَجُلٌ قَوِيٌّ لَا تُزَاحِمْ عَلَى الْحَجَرِ فَتُؤْذِيَ الضَّعِيفَ، إِنْ وَجَدْتَ خَلْوَةً فَاسْتَلِمْهُ وَإِلَّا فَاسْتَقْبِلْهُ فَهَلِّلْ وَكَبِّرْ) )
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: عمر! تم قوی آدمی ہو، اس لیے تم حجراسود پر ہجوم کرکے کمزوروں کو تکلیف نہ پہنچانا،اگر جگہ مل جائے تو استلام کرلینا، وگرنہ اس کی طرف رخ کرکے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ لینا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4355]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه البيھقي: 5/ 80، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 190»
وضاحت: فوائد: … یہ اسلام کا ایک سنہری اصول ہے کہ کسی مستحبّ اور افضل چیز پر عمل کرنے کے لیے کسی مسلمان کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہیے، حجرِ اسود کو بوسہ دینا کتنا عظیم عمل ہے، لیکن اس عظمت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ بیسیوں مسلمانوں کی تکلیف کا باعث بنا جائے۔ آج کل لوگ یہ بوسہ دینے اور ملتزم تک پہنچنے کے لیے غیر محرم عورتوں کے تقدس کو بھی بھول جاتے ہیں اور کوئی لوگوں کو دھکے دیتے ہوئے، کئیوں کے پاؤں کو مسلتے ہوئے اور کئی عورتوں کے جسموں کے ساتھ رگڑ کھاتے ہوئے یہ فضیلت حاصل کرنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث: حديث حسن ۔ أخرجه البيھقي: 5/ 80