الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ الْبَدْءِ بِالصَّفَا فِي الطَّوَافِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَحُكْمِ الْمَشْيِ وَالرَّمَلِ فِيهِ)
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4394
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مِنَ الصَّفَا مَشَى حَتَّى إِذَا نَصَبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صفا سے نیچے اترکر وادی کے درمیان پہنچ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوڑتے، یہاں تک کہ وادی کو عبور کر جاتے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4394]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 5/ 243، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15239»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه النسائي: 5/ 243
حدیث نمبر: 4395
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي الْمَسْعَى كَاشِفًا عَنْ ثَوْبِهِ قَدْ بَلَغَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے والی جگہ میں یوں سعی کرتے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر کو گھٹنوں تک اوپر کیا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4395]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه البزار: 637، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 597»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه البزار: 637
حدیث نمبر: 4396
عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أُمِّ وَلَدِ شَيْبَةَ (ابْنِ عُثْمَانَ) أَنَّهَا أَبْصَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَقَدِ انْكَشَفَ الثَّوْبُ عَنْ رُكْبَتَيْهِ) يَقُولُ: ( (لَا يُقْطَعُ الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا) )
۔ شیبہ بن عثمان کی ام ولد (سیدہ تملک عبدریہ) رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان اس طرح سعی کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کپڑا گھٹنوں سے ہٹ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: اس وادی کو دوڑ کر ہی عبور کیاجائے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4396]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه۔ أخرجه ابن ماجه: 2987، والنسائي: 5/242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27823»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 4397
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَوْخَةٍ وَهُوَ يَسْعَى فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (لَا يُقْطَعُ الْوَادِي إِلَّا شَدًّا) )
۔ (دوسری سند) ایک عورت (یعنی سیدہ تملک رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک چھوٹے دروازے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ وادی میں دوڑرہے تھے اور فرما رہے تھے: اس وادی سے دوڑ کر ہی گزرا جائے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4397]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27824»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27824
حدیث نمبر: 4398
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمِقْدَامِ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا لَكَ لَا تَرْمُلُ؟ فَقَالَ: قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ
۔ عبداللہ بن مقدام کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ صفااورمروہ کی سعی کے دوران عام رفتار سے چل رہے تھے، اس لیے میں نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! کیا بات ہے، آپ دورڑتے کیوں نہیں؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دوران دوڑے بھی تھے اور اس کو ترک بھی کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4398]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1904، والترمذي: 864، النسائي: 5/ 242، وابن ماجه: 2988، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4993»
الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1904
حدیث نمبر: 4399
عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي فِي الْوَادِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَا يَسْعَى، فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَإِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ
۔ کثیر بن جمہان کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان دیکھا کہ وہ عام رفتار سے چل رہے تھے اور دوڑ نہیں رہے تھے جب میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہاں دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور اگر میں عام رفتار سے چلوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہاں عام رفتار سے چلتے ہوئے بھی دیکھا ہے، جبکہ اب میں بوڑھا بھی ہوچکا ہوں۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4399]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5265»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں:
۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہاڑی سے اترتے اور چڑھتے وقت چلتے تھے اور وادی میں دوڑتے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ چلنا اور دوڑنا مراد لے رہے ہیں۔
۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی میں دوڑتے دوڑتے دو چار قدم چل بھی لیتے تھے۔
امام ترمذی نے کہا: اہل علم نے صفا مروہ کے درمیان دوڑنے کو مستحبّ قرار دیا ہے، اگر کوئی آدمی نہ دوڑ سکے تو وہ چل لے۔
آجکل صفا مروہ کی پہاڑیوں کے کچھ نشان باقی ہیں اور ہموار جگہ بہت زیادہ ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وادی میں دوڑتے تھے، اب وہاں سبز رنگ کی ٹیوبیں لگا دی گئی ہیں، جن کو میلین اخضرین کہتے ہیں، اس لیے صرف ان سبز نشانوں کے درمیان ہی دوڑنا چاہیے۔
۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہاڑی سے اترتے اور چڑھتے وقت چلتے تھے اور وادی میں دوڑتے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ چلنا اور دوڑنا مراد لے رہے ہیں۔
۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی میں دوڑتے دوڑتے دو چار قدم چل بھی لیتے تھے۔
امام ترمذی نے کہا: اہل علم نے صفا مروہ کے درمیان دوڑنے کو مستحبّ قرار دیا ہے، اگر کوئی آدمی نہ دوڑ سکے تو وہ چل لے۔
آجکل صفا مروہ کی پہاڑیوں کے کچھ نشان باقی ہیں اور ہموار جگہ بہت زیادہ ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وادی میں دوڑتے تھے، اب وہاں سبز رنگ کی ٹیوبیں لگا دی گئی ہیں، جن کو میلین اخضرین کہتے ہیں، اس لیے صرف ان سبز نشانوں کے درمیان ہی دوڑنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5265