الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ وُجُوبِ الطَّوَافِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ
صفا مروہ کی سعی
حدیث نمبر: 4391
عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي تَجْزِئَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلْنَا عَلَى دَارِ أَبِي حُسَيْنٍ فِي نِسْوَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَ: هُوَ يَسْعَى يَدُورُ بِهِ إِزَارُهُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ وَهُوَ يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ: ( (اسْعَوْا إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ) )
۔ سیدہ حبیبہ بنت ابو تجزء ہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم کچھ قریشی خواتین دارِابی حسین میں گئیں اور دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا مروہ کی سعی کررہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر دوڑ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر اڑ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ سے فرما رہے تھے: دوڑو، دوڑو، بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کو فرض کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4391]
تخریج الحدیث: «حسن بطرقه وشاھده۔ أخرجه الشافعي في ’’المسند‘‘: 1/ 351، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 573، والدارقطني في ’’السنن‘‘: 2/ 256، والبيھقي: 5/ 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27911»
الحكم على الحديث:
حسن بطرقه وشاھده۔ أخرجه الشافعي في ’’المسند‘‘: 1/ 351
حدیث نمبر: 4392
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالنَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ وَرَاءَهُمْ وَهُوَ يَسْعَى حَتَّى أَرَى رُكْبَتَيْهِ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ يَدُورُ بِهِ إِزَارُهُ وَهُوَ يَقُولُ: ( (اسْعَوْا فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ) )
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے دیکھا، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے آگے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے پیچھے اس قدر دوڑ رہے تھے کہ تیز چلنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادراڑ رہی تھی اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنے دکھائی دے رہے تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے یہ فرما رہے تھے: دوڑو، دوڑو، بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کوفرض کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4392]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27912»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ حج و عمرہ میں سعی کرنا فرض ہے اور یہ رکن ہے، اس کے بغیر حج و عمرہ کی تکمیل نہیں ہو گی اور کسی قربانی وغیرہ سے اس کی تلافی نہیں ہو گی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، امام مالک، امام اسحاق اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کا یہی مسلک تھا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27912
حدیث نمبر: 4393
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّفَا وَهُوَ يَقُولُ: ( (نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ) )
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد حرام سے نکل کر یہ کہتے ہوئے صفا کی طرف جارہے تھے: ہم بھی سعی میں اسی مقام سے ابتدا کریں گے، جس سے اللہ تعالی نے اس کا ذکر کرتے ہوئے ابتداء کی ہے۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4393]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15237»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کی طرف نکلے اور یہ آیت تلاوت کی: {اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} … ”بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ اور پھر فرمایا: ”ہم بھی اس (پہاڑی) سے آغاز کریں گے، جس سے اللہ تعالی نے ابتداء کی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا پر چڑھ گئے۔ چونکہ اللہ تعالی نے آیت میں پہلے صفا پہاڑی کا ذکر کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی صفا سے سعی کی ابتدا کی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1218