الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ أَمْرِ الْمُتَمَتِّعِ بِالتَّحَلُّلِ بَعْدَ السَّعْيِ وَالْحَلْقِ أَوْ التَّقْصِيرِ إِلَّا مَنْ سَاقَ هَدْيًا.
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
حدیث نمبر: 4405
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَهْدَى، فَقَالَ: ( (مَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحِلِّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَهْدَى فَلَا يَحِلُّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ) ) قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کو روانہ ہوئے، ہم میں سے بعض افراد نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا اور بعض افراد نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا، لیکن ان کے پاس قربانی کے جانور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور ان کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے تو وہ عمرہ کرکے احرام کھول دیں اور جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا ہے، لیکن قربانی کا جانور ان کے ساتھ ہے تو وہ احرام نہیں کھولیں گے اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا ہے، وہ اپنا حج پورا کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4405]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1562، 4408، 7229، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25388»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخری جملے ”اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا ہے، وہ اپنا حج پورا کریں“ کا مصداق وہ لوگ ہیں، جن کے پاس قربانی کے جانور تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1562
حدیث نمبر: 4406
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) ( (وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَصَّرَ أَحَلَّ مِمَّا حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَسْتَقْبِلَ حَجًّا) )
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور جس نے عمرے کا احرام باندھاہے اور اس نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کے بعد بال کٹوا لئے ہیں، وہ احرام کی پابندی سے آزاد ہوگیا ہے اور وہ دوبارہ حج کے لیے نئے سرے سے احرام باندھے گا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4406]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25609»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25609
حدیث نمبر: 4407
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ حَفْصَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَحِلَّ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے موقع پر ان کو حلال ہو جانے کا حکم دیاتھا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4407]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1697، 4398، ومسلم: 1229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26435 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26967»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1697
حدیث نمبر: 4408
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ بِعُمْرَةٍ، قُلْنَ: فَمَا يَمْنَعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَحِلَّ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ وَلَبَّدْتُّ، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي
۔ زوجۂ رسول سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو عمرہ کے بعد حلال ہونے کا حکم دیا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو ہمارے ساتھ حلال ہو جانے سے کون سی چیز مانع ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ تو قربانی کا جانور ہے اورمیں نے اپنے بالوں کو لیپ کر رکھا ہے، اس لیے میں جب تک قربانی نہ کرلوں، حلال نہیں ہوں گا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4408]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26969»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26969
حدیث نمبر: 4409
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: ( (إِنِّي قَدْ قَلَّدْتُّ هَدْيِي وَلَبَّدْتُّ رَأْسِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ) )
۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا بات ہے کہ لوگ تو عمرہ کے بعد احرام کھول رہے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال نہیں ہو رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس قربانی کا جانور ہے اور میں نے اسے قلادہ ڈالا ہوا ہے اور اپنے سر کو لیپ کیا ہوا ہے، لہٰذا حج سے فارغ ہونے تک حلال نہیں ہوں گا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4409]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26956»
وضاحت: فوائد: … چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج قران کر رہے تھے، اس لیے اس حدیث کا معنییہ ہو گا: اے اللہ کے رسول! آپ حج کے ساتھ جو عمرہ کر رہے ہیں، اس سے حلال کیوں نہیں ہو رہے؟
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26956
حدیث نمبر: 4410
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَبَّدَ رَأْسَهُ وَأَهْدَى، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَمَرَ نِسَاءَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ، قُلْنَ: مَا لَكَ أَنْتَ لَا تَحِلُّ؟ قَالَ: ( (إِنِّي قَلَّدْتُّ هَدْيِي وَلَبَّدْتُّ رَأْسِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنْ حَجَّتِي وَأَحْلِقَ رَأْسِي) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر کو لیپ دیا تھا اور قربانی کا جانور بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، مکہ مکرمہ پہنچ کر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیوی کو احرام کھولنے کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: کیا بات ہے کہ آپ خود تو احرام نہیں کھو ل رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال چکا ہوں اور سر کو لیپ کر رکھا ہے، لہٰذا میں جب تک حج اور سر منڈوانے سے فارغ نہ ہو جاؤں، اس وقت تک حلال نہیں ہوں گا۔ [الفتح الربانی/طَوَافُ الْمُفْرَدِ وَالْقَارِنِ وَالْمُتَمَتِّعِ/حدیث: 4410]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1566، 4398، ومسلم: 1229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6068 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6068»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1566